اتوار, مارچ 19, 2006

پاکستان کی ترقی کا ایک جائزہ

































































































پاکستان کی ترقی
کا ایک جائزہ


سپر پٹرول
لیٹر


چھوٹا گوشت
کلو


دال چنا
کلو


گھی
کلو


چینی
کلو 


آٹا فی کلو

 
0.15 ps 1.25 Rs  0.25
ps
2.50 Rs 0.60 ps  0.20
ps
لیاقت
علی خان

1947-51

0.35
ps
1.75
Rs
 0.35
ps
 3.00
Rs
0.75
ps
0.25
ps
خواجہ
ناظم الدین

1951-53

2.75
Rs

12.00 Rs
1.50
Rs
5.00
Rs
1.75
Rs
0.50
ps
جنرل
محمد ایوب خان

1958-69

3.45
Rs

16.00 Rs
2.50
Rs
9.00
Rs
6.00
Rs
1.00
Rs

ذوالفقار علی بھٹو

1970-77

7.75
Rs

40.00 Rs
9.00
Rs

15.00 Rs
9.00
Rs
2.50
Rs
جنرل
ضیاء الحق

1977-88


12.00 Rs

50.00 Rs

10.00 Rs

20.00 Rs

10.00 Rs
3.25
Rs

بینظیر بھٹو

1988-90


14.00 Rs

80.00 Rs

18.00 Rs

32.00 Rs

13.00 Rs
4.25
Rs
محمد
نواز شریف

1990-93


18.55 Rs

110.00 Rs

18.00 Rs

48.00 Rs

21.00 Rs
6.60
Rs
 بینظیر
بھٹو

1993-96


18.55 Rs

110.00 Rs

18.00 Rs

50.00 Rs

22.00 Rs
7.50
Rs
محمد
نواز شریف

1997




١٩٩٧ میں جب نواز شریف نے اقتدار سنبھالا اس وقت کے ریٹ درج ذیل ہیں اس کے بعد پاکستان نے جو ترقی کی وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اور اگر آج کل دیکھا جائے تو آج کل کسی بھی چیز کا کوئی بھاؤ نہیں ہے۔آج ریٹ کچھ ہوتا ہے اور کل کچھ۔اب دیکھنا یہ ہے غریب اور کتنے دن جیتے ہیں۔

3 تبصرے:

  1. نا مکمل جب تک موجودہ ريٹ نہ ہو بلکہ روپے کي ماليت بھي درج نہ ہو
    ويسے خوب ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. ایک اچہی کاوش ہے ۔ شعیب صفدر صاحب کا اعتراض کسی حد تک درست ہے ۔ البتہ روپے کی مالیت کا تو اس تقابل سے پتہ چل جاتا ہے ۔ مزید اس وقت کی قیمتیں جب نواز شریف کو ہٹایا گیا اور موجودہ قیمتیں ہوں تو صحیح جائزہ ہو سکے گا ۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. جناب یہ تقابلی جائزہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جو بھی حکمران اس بے چارے ملک پر مسلط ہوئے ہیں وہ اپنے عہدے کے کتنے اہل تھے
    ایک کہاوت سنی تھی یہاں اس کا ذکر مناسب رہے گا
    چیگیز خان کا جب آخری وقت آیا تو اس نے اپنے مصاحبوں کو بلایا سب بڑے شوق سے آئے کہ بادشاہ سلامت اپنی آخری وصیت سنا رہے ہیں۔ جب سب جمع ہوگئے تو چنگیز خان نے کہا قریب آؤ جب سب قریب آگئے تو اس نے کہا کہ گواہ رہو پھر کچھ توقف کیا لوگ اور زیادہ متوجہ ہوئے وہ پھر گویا ہوا کہ گواہ رہو کہ میں نے ظلم نہیں کیا لوگ حیران ہوئے کہ اس کے دماغ نے کام کرنا چھوڑدیا اب یہ اول فول بک رہا ہے اس نے ساری زندگی ظلم کے علاوہ اور کیا ہی کیا ہے وہ پھر گویا ہوا کہ گواہ رہو کہ میں نے ظلم نہیں کیا کہ میں نے کسی نااہل کو کسی اہل پر ترجیح نہیں دی
    آج پاکستان کے ساتھ یہ المیہ نیا نہیں ہے قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان پر ہمیشہ نااہل لوگوں کا ہی قبضہ رہا ہے اور اس کا ایک نتیجہ اس چارٹ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

    جواب دیںحذف کریں