ہفتہ، 29 جولائی، 2006

بابے عیدو کی باتیں

بابا عیدو یوں تو شطرنج کی بساط پر بیٹھا اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے مگر جب بھی بات کرتا ہے تو ہمیشہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ، کہنے لگا ، جب تک پاکستان میں لبنان کے حق میں بھرپور مظاہرے نہیں ہوتے دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں کبھی تیزی نہیں آئے گی۔ کیونکہ پاکستان ہی ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں اسلامی تحریکیں گو کہ وہ جیسی بھی ہوں اسلام کے نام پر عوام کو تیزی سے حرکت میں لا کر مظاہرے کروا سکتی ہیں اور جب مظاہرے ہوں گے تو لامحالہ ان میں شدت بھی ہو گی اور اسی شدت میں خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے۔اور جب یہی چیزیں میڈیا پر آئیں گی تو پوری دنیا خصوصاً اسلامی دنیا میں اس پر ردِ عمل بھی ہو گا اور یہ مظاہرے پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں۔
بابا عیدو کہنے لگا اگر تم تھوڑا سا غور کرو تو تمہیں سہی اندازہ ہو گا کہ یہی سب چیزوں کو روکنے کئے لبنان پر حملہ کرنے سے پہلے اس پر بھر پور پلاننگ کی گئی تھی۔یہ پلاننگ اہل سننت کی میلاد کانفرنس سے شروع کی گئی۔وہاں بم دھماکہ کروا کر فرقہ واریت کو ھَوا دی گئی اور ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ عین لبنان کے حملے کے ابتدائی ایام میں ایک شعیہ عالم کو مروا دیا گیا تاکہ شعیہ اور سنی کو آپس میں لڑوا کر ان کو علحیدہ رکھا جا سکے۔
کہنے لگا ، ان مظاہروں کو روکنے کے لئے سب سے بڑی جو بساط بچھائی گئی وہ جان بوجھ کر حکومت کے خلاف باتوں کو ہوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا تاکہ سیاست دانوں اور تمام اسلامی تحریکوں کا دھیان اس طرف لگایا جاسکے۔اوراس کھیل میں بھرپور رنگ بھرنے کے لئے طافو بھائی ( الطاف بھائی ) کا کردار سب سے اہم تھا۔
بابا عیدو کی آخری بات مجھے اب بھی پریشان کر رہی ہے ، کہنے لگا ، ایران کی باری بھی بس آیا ہی چاہتی ہے ، بساط بچھا دی گئی ہے بس مہرے آگے کرنا باقی ہیں۔



ہمارے اردو راکٹ کے اس لوگو کو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کے کسی کونے کھدرے میں جگہ دے کر مشکور فرمائیں

اگر آپ ہمارے اردو راکٹ کا یہ لوگو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر لگاتے ہیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے

جمعہ، 28 جولائی، 2006

مان کے ہی نہیں رہتے

شیدا ٹلی سے میری ملاقات سعید چائے والے کے ہوٹل میں ہوئی تھی۔بڑا خوش تھا۔پوچھنے پر کہنے لگا۔لگی بھئی لگی، میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا، کیا مطلب شیدے ، کچھ پلے نہیں پڑا،کس کو لگی اور کیا لگی ، کہاں کی ہانکے جا رہا شیدے یار۔
وہ جو انٹر نیٹ پر تیری الفاظوں کی مارا ماری ہے نا ،اُس کی بات سوچ رہا تھا کہ سچی بات کی چھبن ضرور ہووے ہے۔
وہ تو ہے یار شیدے ، پر تجھے کیسے پتہ چلا۔
ارے جانی پتہ کیسے نہیں چلے گا تو کیا جانے ہے ارے ساری نظر ہے۔
کس پر؟
ارے جانے دے اور سن ، یہ جو ہووئیں ہیں نا ، یہ تکیہ کرتے ہیں ، تو جتا جی چاہے کہتا رہ ، مان کے ہی نہیں رہتے۔

جمعرات، 27 جولائی، 2006

یہودیوں کے ہمنوا

ہمارے باہر کے رہنے والے بہت سے مسلمانوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جو باہر رہ کر اور زیادہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور کچھ میں سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر ، جان و مال اور وہاں رہنے کی خاطر مسلمانی تو کیا سب کچھ بھول کر ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔اس کی مثال ہماری اردو کیمونٹی میں دیکھنے کو عام ملتی ہے۔اس کیمونٹی میں سے کرتا دھرتا دو کردار ایسے ہیں جو سرعام یہودیوں کو اچھا بھی کہتے ہیں اور انہیں سپورٹ بھی کرتے ہیں اور روشن خیالی ( جس کو میں جدید دہریت کہتا ہوں ) میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

ان میں سے ایک کردار آج کل لبنان کی صورتحال کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے حق میں چنگھاڑ رہا ہے۔لبنان میں جب بچوں پر گولہ بارود گرتا ہے تو اس کی چنگھاڑ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔مردوں کو مردہ بنایا جا رہا ہے تو اس کی تحریروں اسرائیل کے حق میں اور مٹھاس شامل ہوتی جارہی ہے۔

آج کی چنگھاڑ میں تو اس کے منہہ سے خون نکلتے بھی دیکھا گیا ہے۔القاعدہ کی ایک خبر پر تو لگا جیسے اس کو دورہ سا پڑ گیا ہو فوراً ہی اس نے ایک تحریر زہر میں بجھی ہوئی اپنے آقا اسرائیل کے حق میں لکھ ماری ہے۔اُس کی اس چنگھاڑ کو دیکھ کر مجھے خاص حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ حزب اللہ ایک شعیہ تنظیم ہے اور اگر ایک شعیہ ہی اُس پر چنگھاڑے تو حیرت کے جھٹکے لگنا ایک فطری عمل ہے۔مگر شاید اس روشن خیال کو بھی ابھی باہر کے ملک رہنا ہے اور باہر والوں کا تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ انہیں اپنے مذہب سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔

منگل، 25 جولائی، 2006

مدد کیوں نہیں آتی ؟

کشمیر ، فلسطین ، چیچینا ، بوسینا ، افغانستان پر بمباری ،عراق کی تباہی اور اب لبنان کا ملیا میٹ ہونا ، یہ سب کیا ہے؟ ایسا ظلم مسلمانوں پر ہی کیوں؟
ذرا نظر تو دوڑایے ہم مسلمانوں کے رہن سہن پر ، ذرا نظر تو دوڑایے ہمارے مسلمانوں کے اعمالوں پر، تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ہر قوم میں کوئی نہ کوئی برائی تھی ،کوئی قوم لوط تھی تو کوئی قومِ عاد ، کوئی قومِ ثمود تھی تو کوئی قوم فرعون ، کہاں گئیں یہ قومیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ملیا میٹ کر دیا، کیوں کیا؟ ان سب کے اعمال کے سبب۔
ذرا نظر تو دوڑایے آج کل ہم مسلمانوں میں پچھلی تمام قوموں کی برائیوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی قوموں میں صرف ایک ایک برائی تھی جبکہ ہم میں تمام قوموں کی برائیاں جمع ہیں۔
تو پھر بم کیوں نہ گریں ، زلزلے کیوں نہ آئیں ، ذلت و خواری ہم مسلمانوں کے حصہ میں کیوں نہ آئے۔

روشن خیال لوگ ( جدید دہریے ) کہتے ہیں کہ یہی سب کچھ بلکہ اس سے زیادہ مغرب ممالک میں بھی ہوتا ہے۔وہاں تو تباہی نہیں آتی ، وہاں تو بم نہیں گرتے ، بلکہ وہ تو خوش حال ہیں ، سب کچھ تو ہے ان کے پاس ، بلکہ کچھ روشن خیال تو آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ہی زمین کو جنت بنا رکھا ہے۔

بیوقوف ہیں یہ لوگ ، یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلم بنایا،اور مسلمانوں کے لئے کچھ قوانین مقرر کئے۔اور یہ قوانین ہماری بہتری ، ہماری بھلائی کے لئے بنائے، ہم مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔ہمیں ان کافر لوگوں کی طرح کھلا نہیں چھوڑا گیا کیونکہ ان کے مقدر میں جہنم ہے،جبکہ ہم مسلمانوں کو دونوں راستے بتا دئے گئے اور اس کے لئے جزا و سزا بھی مقرر کر دی گئی۔اب ہم اس راستوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کریں۔
دنیا کی سزا ، بم گرنا ، زلزلے آنا ، مسلمانوں کا ذلیل و رسوا ہونا ہمارے اپنے اعمالوں کی سزا ہے۔اور اگر ہم اسی طرح رہے تو یہی سزائیں ہمیں ملتی رہیں گی۔اور اگر ہم ان سزاؤں کو دیکھ کر بھی نہیں سنبھلتے تو پھر ہمارا آخری کنارہ جہنم ہے۔جبکہ کافر لوگوں کو یہاں صرف عارضی یعنی دکھاوے کی خوشیاں نصیب ہیں جبکہ ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش جہنم ہی ہے۔
ہمیں اب بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہئے۔اپنے اعمالوں کو درست کرنا چاہئے اپنی ماؤں بہنوں کو اسلام کے مطابق چلنے کی تلقین کرنی چاہئے اور اگر یہ سب اب بھی ہم نے نہ کیا تو تو اس سے بدتر حالات بھی آ سکتے ہیں۔


اگر آپ ہمارے اردو راکٹ کا یہ لوگو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر لگاتے ہیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے

سوموار، 24 جولائی، 2006

مسلمان پھر سو گئے

یہ لبنان ہے ، کہتے ہیں یہ ہمارا مسلمان ملک ہے۔سوچتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان ملک ہوتا تو او آئی سی ضرور چیختی ، عرب ممالک واویلا ضرور کرتے اور تو اور ہمارے ملک کے صدرِ محترم اسرائیل اور امریکہ کی اس درندگی پر مذمت کے کچھ الفاظ ضرور کہتے۔


Source:
http://www.fromisraeltolebanon.info



Monday, July 17, 2006:South Lebanon: A Lebanese Child Receiving the message from the Israeli girls!

http://www.fromisraeltolebanon.info


http://www.fromisraeltolebanon.info


http://www.fromisraeltolebanon.info


http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

اتوار، 23 جولائی، 2006

واہ رے علماء سوء

واہ رے علماء سوء
تم سے اچھا تو احمد فراز نکلا۔جس نے صدارتی ایوارڈ واپس کر دیا ایک تم ہو کہ اب تک اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے اسلام کو بیچ کر پاکستان کو اندھیرے کوئیں کی طرف دھکیل رہے ہو۔
اے علماء سوء اگر تم لوگ استعفے دیتے تو بات شائد پھر بھی نہ بن پاتی ، مگر اب دیکھنا عوام میں سے کسی نے آواز اُٹھائی ہے اور یہ آواز وہ ہے جس پر ہمیشہ تم جیسے لوگوں نے روک لگائی ،فتوے صادر کئے۔مگر یہ آواز تمہارے ضمیر کی آواز سے زیادہ زندہ ہے ، یہ آواز وہ ہے جس میں عوام کا لہو شامل ہے،اس کی گونج سے تمہارے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔اور عنقریب دیکھنا یہ آواز تمہارے ایوانوں میں بھی گونجے گی۔



اردو راکٹ

اردو بلاگرز کے نام

تمام محترم اردو بلاگرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اب آپ ہمارے اردو راکٹ پر اپنی اور تمام اردو بلاگرز کی تحریروں کا ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔آپ اپنی تحریروں کے علاوعہ بی بی سی اردو ، جنگ اردو اور بوریت ڈاٹ کوم کی تحریروں کو بھی ایک جگہ ہی پڑھ سکتے ہیں۔
اگر آپ کی فیڈ ہمارے اردو راکٹ میں شامل نہیں ہے تو ذیل میں دیے گئے برقی پتہ پر آپ اپنا آر ایس ایس ایڈریس ہمیں لکھ بھجیے۔


sheikho@gmail.com

اردو راکٹ

ہفتہ، 22 جولائی، 2006

بدتمیز کی میل اور شعیب کی دھمکی

شہزادے بدتمیز نے مجھے جو میل بھیجی ہے وہ میں اردو سیارہ پر دے رہا ہوں
شعیب نے مجھے بھی ایک دھمکی آمیز میل بھیجی ہے جسے میں ساتھ ہی آپ کے دیکھنے اور سند رکھنے کے لئے اردو سیارہ پر پیش کر رہا ہوں۔مجھے امید ہے اردو سیارہ کے ایڈمن اور محترم اردو بلاگر اس پر مثبت اقدام اُٹھائیں گے۔



badtameez mail

badtameez mail

shuaib mail



یہ کیسا انصاف ہے

ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ بدتمیز شہزادے کو اردو سیارہ پر بلاک کر دیا گیا ہے۔مجھے چنداں حیرت نہیں ہوئی۔کیونکہ برداشت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔اور پھر اردو سیارہ کا ایڈمن ذکریا خدا کی شان میں گستاخی پر خاموش رہتا ہے اور جب اپنے اپنے جذبات میں خدا کی شان میں گستاخی کرنے والے بلاگر کے خلاف کوئی بولتا ہے تو اسے غلط کہتا ہے۔اور اسے بلاک بھی کر دیتا ہے
میں تمام محترم بزرگ بلاگر ، جناب ذکریا کے والد صاحب اجمل بھوپال صاحب ، جناب میرا پاکستان صاحب اور دوسرے محترم بلاگرز سے گذارش کرتا ہوں کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر اس مسئلہ پر انصاف کروایا جائے اور بد تمیز کی رکنیت بحال کروانے کے ساتھ ساتھ اردو سیارہ کی پالیسی پر بھی نظر ثانی کی جائے۔




بدھ، 19 جولائی، 2006

میں نے دو کُتے پال لئے

لوگ کہتے تھے شیخو روشن خیال نہیں ہے ، لو جی آخر کار ہم نے بھی اس دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ کر ہی لیا۔اسی سلسلے میں ہم نے جو پہلا قدم اُٹھایا ہے وہ دو عدد کتوں کا پالنا ہے۔چونکہ مغربی ممالک میں کتوں سے سب سے زیادہ محبت کی جاتی ہے اور یہی محبت پچھلے دنوں آپ سب نے بھی دیکھی ہو گی کہ ورلڈ کپ کے دوران کتوں کو یار لوگوں نے اپنے ملک کی ٹیم کی وردیاں تک پہنا دی اور اسے تمام دنیا میں خوب سراہا بھی گیا۔
سوچتا ہوں ہم پاکستانی بھی کتنے دقیانوسی ہیں کہ کتوں جیسی عظیم شخصیات کو ایویں ہی کتا کتا کرتے رہتے ہیں۔اور تو اور ہم نے کتا کہنے کو بھی گالی بنا لیا ہوا ہے ، شرم آنی چاہئے ہمیں ، مغرب والے کیا سوچیں گے ۔
ویسے تو کُتوں کی بہت سی نایاب نسلیں پوری دنیا میں موجود ہیں مگر جو بات پاکستانی کُتوں اور ہندوستانی کُتوں میں ہے اور کسی میں نہیں۔پاکستانی کتوں میں بگہیاڑ اور ڈبو کتے کی نسل کا توجواب ہی نہیں ہے۔یہ وہ نسل ہے جو انسان کو پھاڑ کھاتی ہے ، شاید اس وجہ سے کہ انسان کا انہیں کُتا کہنا پسند نہ آتا ہو۔
میں نے جن دو کُتوں کا انتخاب کیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں پائے جاتے ہیں ان کی نسل کا نام گلیڑ ( گَل یَڑ ) ہے ، جنہیں ہم گلیوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کا نام دیتے ہیں۔یہ گلیڑ نسل بھی بڑی نایاب سی نسلوں میں سے ہے۔جب سے کُتوں کا وجود منظرِعام پر آیا تھا تب سے یہ نایاب نسل ہمارے پاکستان اور ہندوستان میں موجود ہے۔
ہندوستان سے جو گلیڑ کُتا میں نے منگوایا تھا ، اُس کے لانے والے کہتے ہیں کہ اِس گلیڑ کُتے کے خاندان میں واحد کتیا اُس کی ماں ہی تھی جو سب سے زیادہ خوبصورت تھی اور اسی وجہ سے اُس پر بہت سے کُتے فدا بھی تھے اور انہیں فدا ہونے والوں میں سے کسی ڈبو نسل کے کُتے کی یہ واحد اولاد ہے۔اِس کُتے کو لانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس گلیڑ کُتے کی بچپن سے ہی عادتیں ذرا وکھری ٹائپ کی تھیں۔گلیڑ نسل کا ہوتے ہوئے بھی اسے اپنی نسل کے کتے پسند نہیں آتے تھے۔باہر سے جو بھی کتا آتا تھا چاہے وہ کسی بھی نسل کا ہو یہ اُس کے آگے پیچھے دم ہلاتا نظر آتا تھا۔بچپن سے ہی اسے مندروں سے بھی خاص لگاؤ تھا جس کی وجہ سے اُس کی ماں بھی اس سے تنگ تھی۔کھوج لگانے پر پتہ یہ چلا تھا کہ ایک دفعہ مندر کے پروہتوں نے اُس کی ماں کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کی وجہ سے اُس کو اپنے بیٹے کا مندروں میں جانا پسند نہیں تھا۔شائد وہ نہیں چاہتی ہو گی کہ اُس کے بیٹے کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اُس کے ساتھ ہوا۔مگر یہ بھی عجیب کُتا تھا ، مجال ہے جو اپنی ماں کی مانی ہو۔اب یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کُتے کے ساتھ پروہتوں نے کیا برتاؤ کیا ہو گا۔

جاری ہے۔۔۔




منگل، 18 جولائی، 2006

اردو سیارہ کی پالیسی

اردو سیارہ کے ایڈمن کی طرف سے اردو سیارہ کی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اردو سیارہ کا کوئی عقیدہ نہیں ہے،
اس کا مطلب ہے جس کا جی چاہے جس مرضی عقیدے کا مذاق اُڑائے حتٰکہ خدا کی شان میں بھی گستاخی کرتا پھرے۔مگر اُس پر کوئی انگلی نہ اُٹھائے اس لئے کہ وہ معتبر ہے،کیونکہ وہ انسان ہے اور مذہب انسانیت سے تعلق رکھتا ہے ۔
جناب ایڈمن کے نزدیک تمیز اور اخلاق کے دائرہ غالباً یہ ہے کہ خدا کی شان میں تو گستاخی ہو سکتی ہے مگر انسان کی شان میں نہیں۔
جناب ایڈمن صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں اظہار رائے کی آزادی ہے اور بلاگر کی تحریروں کو اردو ویب والوں کے نظریات نہ سمجھیں۔
جناب ایڈمن صاحب یہ کون سا اظہار رائے ہے،اور آپ کے نظریات کیا اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک بلاگر خدا کی شان میں گستاخی کرتا پھرے۔اگر آپ کی یہی نظریات ہیں تو یہ میرے نزدیک خالصتاً کیمونزم ( دہریہ ٹائپ ) نظریات ہیں۔جو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتے۔یا تو پھر آپ اردو ویب کی پالیسی کا واضع اعلان کریں کہ یہاں کے ایڈمن حضرات کے نظریات کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہ ہے۔
آخر میں جناب ایڈمن صاحب نے نصیحت کی ہے کہ کہ کسی بلاگر کو تنگ نہ کریں اور اس کے خلاف محاز آرائی وغیرہ شروع نہ کریں اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور بات تحمل اور خوش اسلوبی سے سنیں وغیرہ وغیرہ۔
حیرت ہے ایڈمن صاحب،واقع میں حیرت ہے،ایک بندہ عرصہ سے خدا کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی مشورے ہمیں ہی دے رہے ہیں۔
ٹھیک ہے اظہار رائے کی آزادی کو ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کتنی ہے اور کہاں تک ہے۔دیکھتے ہیں ایڈمن صاحب ، ضرور دیکھتے ہیں کہ آپ کا ذہن کہاں تک کھلا ہے،بلاگر بھی اس چیز کے گواہ رہیں گے۔ہم بھی لکھتے ہیں دیکھتے ہیں آپ کی برداشت کہاں تک ساتھ دیتی ہے آزادی اظہار میں۔





لعنتی کردار پر پابندی لگائیں

مسلمان چاہے کسی بھی قوم ، ملک ، جگہ سے تعلق رکھتا ہو کہلاتا مسلمان ہی ہے ،۔مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دہریے ہو چکے ہیں۔ ایک ہندوستانی اردو بلاگر جو سرِعام خدا کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔اور میرے خیال میں اس نے اپنا نام جان بوجھ کر مسلمانوں والا رکھا ہوا ہے۔لگتا مجھے یہ کوئی ہندو ہی ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسا اردو بلاگر نہیں ہے جو اس کو ایسا کرنے سے منع کرتا ہو۔بہت سے اردو بلاگر تو اُس دہریے کی تحریر پر واہ واہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔اور آزادیء اظہار کے پیروکار ہمارے کچھ مسلمان ساتھی کافی عرصہ سے جان بوجھ کر خاموش ہیں۔
میں تو کہتا ہوں لعنت ہے ایسی آزادی اظہار پر۔مجھے یاد ہے بڑے بھائی پردیسی نے اس طرف اردو بلاگر کو توجہ بھی دلائی تھی۔مگر اس کا نتیجہ بھی کوئی برامد نہیں ہوا تھا۔
میں بھی تمام محترم اردو بلاگرز کی توجہ اس جانب مبذول کروا رہا ہوں کہ خدارا ایسی اظہار رائے کی آزادی پر روک لگایے جو بے لگام ہو اور اس بلاگر کو ہالینڈ کے کسی تاریک کو ئنیں میں پھینک دیجیے تاکہ یہ وہاں جا کر مادر پدر آزاد ہو کر جو جی چاہے لکھتا رہے اور لعنتی ہو کر مرے ، انشااللہ
نوٹ ۔ اگر آپ محترم ایڈمن اور ساتھی اردو بلاگرز نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تو پھر اس اردو سیارہ پر لفظوں کی کھلی جنگ ہو گی۔پھر مجھ سے نہ کہا جائے۔اور اگر مجھے آپ اردو سیارہ پر بلاک کرتے ہیں تو میں اس مسئلہ کو ہر قسم کے فورم پر اُٹھاؤن گا۔اور ثبوت کے طور پر جو میں نے اس شخص کی تحریریں اور اس پر بلاگرز کی رائے محفوظ کی ہوئی ہے ، وہ تمام مذہبی فورم اور سیاسی فورم پر اس کو اُ ٹھاؤن گا۔چاہے اس سے ہمارے تمام بلاگرز پر پابندی ہی کیوں نہ لگ جائے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میں بہت سچا مسلمان ہوں مگر کم از کم میں یہ گوارا نہیں کروں گا کہ ایک ہندو خدا کی شان میں ایسے گستاخی کرتا پھرے۔اور اگر یہ مسلمان ہے تو اس پر خدا کی بے شمار لعنت ہو۔




اتوار، 16 جولائی، 2006

شکر ہے ہم جوتشی نہیں

محفل میں جب تک نوک جھونک نہ ہو مزا ہی نہیں آتا اور محفل جب بلاگروں کی ہو تو مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔ابھی دو تین دن پیشتر ہی اپنے شہزادے بدتمیز نمبر ١ یا ٢ ( یہ فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے کہ ان شہزادوں میں سے ایک نمبر بدتمیز کون ہے) نے سیارہ پر دھماکے کر دیے اور یہ دھماکے ہمیں اتنے سہی اور بروقت لگے کہ ہم نے بدتمیز ١ یا ٢ کو شہزادے کا خطاب دے دیا۔خطاب کا دینا تھا کہ اپنے جگر جان خاور کھوکھر جو پیرس کی رعنائیوں میں کھوئے رہتے ہیں نے ہم سے ان شاہ صاحب کا پتہ پوچھا ہے جن کے یہ صاحبزادے ہیں۔تاکہ بقول جگر جان خاور کھوکھر کے کہ لوگوں کے علم میں اضافہ ہو۔
اب اگر ہم آپ کو جگر جان کہہ بیٹھے ہیں تو کل کلاں کو اگر لوگوں کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے کسی نے ہمارے جگر جان کے بارے میں پوچھ لیا تو ہم بھلا کیا جواب دے سکیں گے۔
شکر کرتے ہیں کہ ہم جوتشی نہیں ہیں۔




ہفتہ، 15 جولائی، 2006

اک آواز جو زندگی تھی

مجھے فون نہ کیا کرو ، الجھن ہوتی ہے اور پھر میں شادی شدہ ہوں تمہاری مدھر آواز سن کر پریشان سا ہو جاتا ہوں۔
کہنے لگی تو کیا ہوا گر تم شادی شدہ ہو ، بس تم مجھے اچھے لگتے ہو ، تمہاری باتیں ، تمہارا لہجہ اور سب سے بڑھ کر تم مجھے اچھے لگتے ہو۔جب تک دن میں تمہاری آواز سن نہ لوں مجھے چین نہیں پڑتا۔
جانو یہ سب وقتی باتیں ہیں جب تم اپنے پیا کے گھر چلی گئی نا تو دیکھنا تم سب بھول جاؤ گی ، دن تو کیا تم سالوں بھی فون نہ کرو گی۔
کہنے لگی ایسا کبھی نہیں ہوگا گر تمہارے بنا میری شادی ہو بھی گئی نا تو تب بھی جب تک میں تمہاری آواز نہیں سنوں گی مجھے چین نہیں پڑے گا۔
آج سالوں بیت گئے میری جانو کی شادی کو مگر کہیں سے بھی اُس کی آواز نہیں آتی۔





جمعرات، 13 جولائی، 2006

لو کر لو باتاں

ابھی ابھی مدھر تال کے ساتھ اتنی زور سے بارش برسی کہ مزا آ گیا سوچا آج سرکاری پانی کی بچت کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پانی سے نہا کر ہی انٹر نیٹ پر بیٹھا جائے تاکہ شائد مجھے کوئی عقل کی بات سوجھ جائے۔
کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے بدتمیز شہزادے نے سیارہ پر ایک اور گولہ داغ دیا ہے مگر اس گولے میں شہزادے نے ہتھ واقع میں ہولا رکھا ہے۔
اس گولے میں شہزادے نے ہمیں بھی رگڑا دے دیا ہے، غالباً شہزادے میاں نے ہماری تحریر پر غور ہی نہیں کیا، ہم نے تو صرف شہزادے میاں سے اپنی معلومات بڑھانے کی خاطر صرف سوال پر سوال کیے تھے کہ کیا واقع میں ، مرزا ٹٹی میں مرا تھا یا اس کے منہہ سے ٹٹی نکل رہی تھی؟
اور دوسرا واقع میں مرزا کانا تھا؟ کیونکہ ہم نے پڑھا یہ تھا کہ وہ افیون کھانے کی زیادتی کی وجہ سے بھینگا سا ہو گیا تھا۔
اپنا بدتمیز شہزادے میاں ہم نے آپ کی معلومات کو غلط نہیں کہا اور نہ ہی آپ پر کوئی الزام دھرا ، اصل میں شہزادے جی ہمارے سننے میں کوتاہی بھی ہو سکتی ہے۔ہم نے تو صرف تصدیق چاہی تھی کیونکہ دیر سے سنے یا پڑھے گئے الفاظ ذہن میں گڈ مڈ بھی تو ہو سکتے ہیں۔
ویسے ایک بات مجھے اچھی طرح یاد ہے شہزادے جی وہ میں نے مرزائیوں کی کتابوں ہی سے پڑھی تھی کہ مرزا گالیاں ایسے نکالتا تھا کہ جیسے اس کے منہہ سے کنول کے پھول جھڑ رہے ہوں،
کیا یہ بات بھی سہی ہے شہزادے جی؟


اردو راکٹ



بدھ، 12 جولائی، 2006

ہتھ ہولا رکھو

نیند بڑی آ رہی تھی سوچا جاتے جاتے سیارہ پر ایک نظر مارتا ہوا سو جاتا ہوں ، کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے بدتمیز شہزادے مرزائیوں سے کچھ تقاضا کئے جارہے ہیں اور تقاضے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مرزائیوں پر دو سوال بھی داغ دیے ہیں۔
اب بندہ پوچھے اپنے شہزادے بدتمیز سے کہ ایک تو آپ ان سے کچھ مانگ رہے ہیں پھر انہیں مشکل میں بھی ڈال رہے ہیں۔
ویسے یار شہزادے جی ، کیا واقع مرزا غلام احمد قادیانی کانا تھا ؟ میں نے تو یارا یہ سنا تھا کہ افیون پینے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند سی رہتی تھیں اور وہ بھینگا دکھائی دیتا تھا ، مگر آپ کہہ رہیں ہیں کہ وہ کانا تھا۔
دوسرا آپ نے یہ کہا کہ وہ ٹٹی میں مرا ؟ واقع ؟ مگر شہزادے جی لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جب مرزا غلام احمد قادیان مرا اُس کے مہنہ سے ٹٹی نکل رہی تھی ۔ کیا واقع ایسا تھا؟