جمعہ, اگست 11, 2006

واصف علی واصف

لاہور شہر میں چوبرجی کی طرف سے اگر آپ میانی صاحب کی طرف جائیں تو قبرستان ختم ہونے سے تھوڑا پہلے دائیں ہاتھ پر ایک بڑے سے بورڈ پر بڑے جعلی حروف میں حضرت واصف علی واصف لکھا نظر آتا ہے ١٩٩٠ اور ١٩٩١سے پہلے اسی جگہ میانی صاحب کے قبرستان کی آخری کھائیاں بنی ہوئی تھیں جہاں لوگ عموماً گندگی اور کوڑا کرکٹ وغیرہ پھینکا کرتے تھے۔اور انہیں دنوں میں اور میرا دوست رضا شاہ ( جس کے ابھی تک دو امام باڑے ٹھیکے پر چل رہے ہیں) حسبِ معمول اپنی ڈیوٹی پر جارہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں ،سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے۔میں بڑا حیران ہوا اور شاہ سے کہنے لگا ، یار شاہ جی اس بیچارے کا آگے پیچھے کوئی نہیں لگتا جو یہ لوگ پورے قبرستان کی جگہ کو چھوڑ کر ایسی جگہ اس کو دفنائے جا رہے ہیں۔
کہنے لگا آؤ دیکھے لیتے ہیں کہ کیا مسلئہ ہے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں۔
ہم اپنی راہ ہو لئے ، گذر تو ہمارا روزانہ اُدھر سے ہی ہوتا تھا ، کیا دیکھتے ہیں کہ مہینہ بھر بعد ہی وہاں پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا دیا گیا جس پر صرف واصف علی لکھا ہوا تھا۔بورڈ کو دیکھتے ہی میں نے شاہ سے کہا ، یار شاہ جی دیکھنا،یہاں ایک مزار ضرور بنے گا اور اگلے سال سے یہاں عرس بھی ہو گا، شاہ ہنسنے لگا اور کہا ، نہیں یار اب ایسا بھی کیا۔مگر میں اپنی بات پر مصر رہا۔
وقت گذرتا چلا گیا ۔روزانہ ہی ہماری نگاہ اس قبر پر ضرور پڑتی تھی ، آہستہ آہستہ پہلے اُس قبر کو پختہ کیا گیا پھر سڑک سے قبر تک جانے والے راستے کو تھوڑی سی مٹی ڈال راستہ بنا دیا گیا۔
ایک سال گذرنے کے بعد وہاں عرس تو نہ ہوا مگر یہ ضرور ہوا کہ دو چار ڈھول والے وہاں ڈھول پیٹتے ضرور دیکھے گئے۔میں نے پھر شاہ کو یاد کروایا اور کہا ، شاہ جی یہاں عرس ضرور ہو گا۔
١٩٩٤تک ہم نے دیکھا کہ قبر کو مکمل پختہ کر دیا گیا اور اُس کے اوپر ٹین کی چھت ڈال دی گئی تھی اور قبر کے باہر بائیں ہاتھ پر ساتھ ہی ایک لیٹرین بنا دی گئی اور واصف علی کی جگہ ، حضرت واصف علی واصف لکھا جا چکا تھا،قبر تک جانے والی جگہ کو پکی کر دیا گیا اور قبر کے پیچھے کھائیوں پر آہستہ آہستہ بھرتی ڈلوائی جا رہی تھی۔١٩٩٤ میں ہی پہلی د فعہ ہم نے میانی صاحب کی دیواروں پر حضرت واصف علی واصف نام کے عرس کے اشتہار بھی لگے ہوئے دیکھے ۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے شاہ کو کہا تھا کہ یار شاہ جی اس مزار کا ٹھیکہ لے لو ساری عمر عیش کرو گے۔شاہ میری بات سن کر ہنس پڑا تھا۔
آج جب کہ اتنا عرصہ بیت چکا،واصف علی کو لوگ حضرت واصف علی واصف کے نام سے جانتے ہیں اور اُس کا عرس بڑی شان سے منایا جاتا ہے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اُس کی ایک ویب سائٹ بھی انٹر نیٹ پر موجود ہےاور بہت سی صوفیانہ کتابیں جو کمائی کی خاطر پتہ نہیں کس کی لکھیں ہوئی ہیں ، مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔


4 تبصرے:

  1. بہت اچھا نکتہ اٹھایا ھے آپ نے یہ ھم لوگوں کی کم عقلی ھی کہی جا سکتی ھے میں خود اولیا کرام اور بزرگان دین کا ماننے والا ھوں مگر ھر کسی کو اولیا کرام کے برابر لا کھڑا کرنا کمزور ایمان کی علامت ھے
    اولیا کرام بھی ھمیں وہی بتاتے ھیں جو اللہ اور اسکے رسول(ص)کا فرمان ھوتا ھے۔اور ایک اور بات دنیا میں جوبھی ھونا ھے وہ صرف اللہ کریم کی مرضی سے ھونا ھے اس ھونے پھر کوئی ٹال نہیں سکتا اپنا تو یہی ایمان ھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بالکل درست فرمایا آپ نے اور بڑی خوبصورت باتیں کی ہیں۔
    اولیاء کرام اور بزرگانِ دین اپنی جگہ مسَلم ہیں اور جن محترم بزرگوں کی تعلیمات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے عین مطابق ہیں وہی حق پر بھی ہیں۔
    باقی اللہ ہم سب کو سیدھی راہ دکھائے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  3. میں بہی یہی کہوں گا کہ آپ کا مطالعھ کافی کم ھے۔ واصف علی واصف اپنی وفات سے پہلے ہي پاکستان کے علمی حلقوں ميں جانے جاتے تھے۔ اور ان کا ايک مقام تھا اور ہے۔ ان کی کتب پڑہيں، آپ کو اندازہ ھو جائے گا۔ يہاں انکی ٤ کتب آن لائن پڑہنے کے ليے موجود ھيں:

    http://www.kitabghar.net/wasif-ali-waisf

    جواب دیںحذف کریں
  4. محترم جناب رائٹر صاحب، اپ کم عقل تو تھے ہی، پھر کیا ضرورت محسوس ہوئی جو اظہا ر تک نوبت آ پہنچی ؟ اللہ والوں کا سفر، اپ کی سمجھ میں کب سے انے لگا ؟ اپنے الفاظ پر زرا غور فرمائیں، تنقید برائے تنقید کا شگل چھوڑیے اور، مان لیجیے، کیونکہ مان لینے میں سکھ ہے۔
    باقی اللہ جسے جتنی عقل عطا کرے اس نے تو اس سے ہی کام لینا ہے، اب اپ کو سمجھایا تو نہیں جا سکتا۔

    جواب دیںحذف کریں