ہفتہ, دسمبر 30, 2006

صدام حسین کی پھانسی اور ہم مسلمان

اس میں کسی شک و شبہ کی بات نہیں ہے کہ صدام حسین ظالم انسان تھا۔مگر ایک انسان کو پھانسی دینا کہاں کی شرافت ہے۔اب کہاں گئے انسانی حقوق اور کہاں گئی مغربی انسانیت۔
میں تو یہ کہوں گا کہ ہمیشہ کی طرح صدام کی پھانسی بھی ہم مسلمانوں کے خاص خصوصی دن یعنی حج کے موقع اور عید الضحیٰ کے وقت کو مد نظر رکھ کرجان بوجھ کر دی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو ذہنی طور پر اور ٹارچر کر دیا جائے اور وہ امریکہ اور مغرب سے ہمیشہ ڈرتے رہیں۔
اصل میں ہم مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہے دیکھا جائے تو مسلمان ملکوں کے تمام حکمران یا تو اپنے اپنے مفادات میں گم ہیں اور کچھ اپنی عیاشیوں کے ہاتھوں امریکہ اور مغربی ممالک کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
اگر مجموعی مسلم امہ کی عوام کی بات بھی کریں تو سب ہی اللہ کے احکامات کو ماننے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے اللہ کی مدد بھی نہیں آتی اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسے عوام ہوں گے ویسے ہی حکمران بھی ہوں گے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر سے یہ زوال کب ختم ہوگا۔اسلامی نقطہ نظر سے اگر اس پہلو کا جائزہ لیا جائے تو احادیث کی رو سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا زوال شروع ہو چکا ہے اور یہ ابھی اور ذلت کی پستیوں میں گریں گے ۔فتنے ہیں تو ہر روز کوئی نیا فتنہ سر ابھارتا ہے ، برائی ہے تو وہ ہم لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، دین کو ہم بیچ رہے ہیں، لین دین میں ہم لوگ بے اعتبار ہیں ناچ گانا ہر گھر میں ہے ، حرام کو ہم حلال کا درجہ دیتے ہیں، غرض کون سی چھوٹی یا بڑی برائی ہے جو ہم مسلمانوں میں نہیں ہے۔اور یہی سب کچھ روایات میں بھی آتا ہے۔
مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اب یہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیٰسی علیہ السلام کے آنے کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔اور یہ ہم مسلمانوں کے ساتھ تب تک ایسا ہی ہوتا رہے گا جب تک ان کا ظہور نہیں ہو جاتا۔

1 تبصرہ:

  1. بھائی کسی مجرم کو پھانسی کی سزا دینا کوئی ذیادتی نہیں ہے!!! اگر یہ اس ملک کا قانون جرم کی نوعیت کے اعتبار سے منتحب کرتا ہے!!!
    ہاں !!!! صدام کے معاملے میں اگر کہا جائے تو اس سلسلے میں چند باتیں قابل توجہ ہیں!!!!
    اول جس جرم میں سزا دی گئی آیا وہ عدالت میں ثابت ہوا؟؟؟ بتانے والے بتاتے ہیں ایسا نہیں ہوا!!!
    دوئم یہ دنیا کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جب کسی پر ایک سے ذیادہ مقدمات قائم ہوں تو جب تک تمام کا فیصلہ نہ ہو جائے اس وقت تک کسی دوسرے جرم کی سزا کا آگار نہیں کیا جاتا صدام کے معاملے میں ابھی دیگر مقدمات زیر سماعت تھے!!
    پھر عراقی قانون کے تحت عید والے دن پھانسی کی سزا نہیں دی جاتی!!! مگر اتفاق دیکھے جس دن پھانسی دی گئی کہ اُس دن عراق کی سنی آبادی کی عید تھی البتی شیعہ اگلے دن عید منانے والے تھے یہ بھی اہل مسلم میں‌ نفرت کی ہوا گرم کرنے کے مقصد کے تحت کیا گیا!!
    اس کے علاوہ دیگر کئی باتیں بھی ہیں

    جواب دیںحذف کریں