منگل, جنوری 16, 2007

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

فیض احمد فیض کی اپنی آواز میں سننے کے لئے آڈیو کو چلائیں

[audio:http://lcweb2.loc.gov/mbrs/master/salrp/08205.mp3]

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول، کہ جان اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دوکان میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دھانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

رومن اردو

bol ke lab aazaad haiN tere
bol zabaaN ab tak terii hai
teraa sutvaaN jism hai teraa
bol ke jaaN ab tak terii hai
dekh ke aahaNgar kii dukaaN meN
tuNd haiN shole surKh hai aahan
khulne lage qufloN ke dahaane
phailaa har ek zanjiir kaa daaman
bol ye thoRaa vaqt bahut hai
jism-o-zubaaN kii maut se pahle
bol ke sach ziNdaa hai ab tak
bol jo kuch kehnaa hai keh le

پیر, جنوری 15, 2007

روشن خیالی زندہ باد

ہا وووووو ہا ۔ہا وووووو ہا ۔ وووووو ہا۔ کیا ہو گیا ٹونی بھائی کیوں بڑکیں لگا رہے ہو یار۔کیا کوئی سلطان راہی کی پنجابی فلم تو نہیں دیکھ لی۔
ارے چھوڑو یار سارا منہہ کا ذائقہ ہی خراب کر دیا۔پنجابی اور اردو فلمیں بھی کوئی دیکھنے لائق ہیں کوئی انگریزی فلم کی بات کرو۔
اچھا چلو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ بڑکیں کس خوشی میں لگا رہے تھے؟
ارے شیخو یار تمہیں نہیں پتہ آج اپنے صدر صاحب نے بھی بسنت کے حق میں بیان دے دیا ہے۔
یار ٹونی مجھے تو بڑا دکھ ہوا ہے وہ دیکھو نا اگر کسی کی ڈور سے اگر کسی بچے کا گلہ کٹ گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔اور جو یہ بجلی کا اتنا نقصان ہوتا ہے ۔یہ تو سراسر ظلم ہے ٹونی بھائی۔
تو لوگ باہر کیوں نکلتے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ بسنت کا تہوار ہے۔اور بجلی کا کیا ہے اگر ایک دن نہیں آئے گی تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اور پھر ہم روشن خیال لوگ ہیں آخر خوشی بھی تو منانی ہے نا اگر خوشیوں پر پابندی لگے یہ ظلم نہیں ہے کیا؟
بھائی ٹونی روشن خیالی کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگ کسی کا گلا کاٹ کے خوشیاں مناؤ۔
ہونہہ ، تم دقیانوسی لوگ ہو تمہیں کیا پتہ روشن خیالی کسے کہتے ہیں۔
اچھا ٹونی بھائی اگر ہم دقیانوسی ہیں تو تم تو روشن خیال ہو نا تو ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ روشن خیالی کہتے کس کو ہیں۔
بس روشن خیالی ، روشن خیالی ہے۔ہر ایک کو آزادی سے رہنے کا حق ہے جس کا جو جی چاہے کرے۔دنیا میں امن سے رہے ،جس کا جو جی چاہے قانون کے دائیرہ میں رہ کر کرتا رہے۔چاہے شراب پئے یا ڈانس دیکھے۔
مگر ٹونی یار ہمارا دین اسلام تو ایسے نہیں کہتا،اس میں آزادی ہے مگر ایسی آزادی نہیں۔
مذہب کی بات نہیں کرو یار ایک تو تم دقیانوسی لوگ ہر بات میں مذہب کو گھسیٹ لیتے ہو۔ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے کوئی عمل کرتا ہے تو کرے اور اگر نہیں کرتا تو نہ کرے۔کیونکہ مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
ٹونی بھائی یہ تو پھر جدید طرز کے مغربی خیالات ہوئے نا۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ عورتوں کو بھی اس لحاظ سے کھلی آزادی ہوئی۔
ہاں کیوں نہیں ، ان کا حق نہیں ہے کیا آخر وہ بھی تو انسان ہیں۔
مگر ٹونی بھائی اس سے تو خرابی پیدا ہوگی۔وہ دیکھو نا کہ اگر ایک عورت ایسا لباس پہنے جس سے آدمیوں کے جذبات بھڑکیں تو کیا یہ اچھی بات ہوگی۔
یار شیخو یار شیخو تم واقع میں دقیانوسی آدمی ہو۔اگر تمہیں نہیں پسند تو نہ دیکھو یار۔تمہیں کون کہتا ہے کہ تم عورتوں کی طرف دیکھ کر اپنے جزبات بھڑکاؤ۔
مگر یار جب ایسی روشن خیالی ہوگی تو نظر پڑ ہی جاتی ہے۔اچھا یہ بتاؤ کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ تمہارے گھر میں سے عورتیں ایسا لباس زیب تن کر کے یوں سڑکوں پر کھلے عام پھریں۔
کیسی بات کرتے ہو شیخو یار اگر ان کا دل کرے گا تو یہ ان کی مرضی ہے آخر وہ بھی انسان ہیں۔ان کا بھی حق بنتا ہے کہ ایک زندہ اور روشن خیال معاشرے میں آزادی سے اپنی زندگی بسر کریں۔
اچھا ٹونی یہ بتاؤ کہ کل کلاں کو اگر ہمارے ہاں ایک لڑکی مغربی معاشرے کی طرح بغیر شادی کے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے لگے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا یہ بری بات نہیں ہوگی؟
کیوں بھئی بری بات کیسے ہو گی اس کا حق نہیں ہے آزادی سے اپنی زندگی جینے کا۔
مگر ہمارا مذہب تو اس کی اجازت نہیں دیتا ٹونی بھائی
یار شیخو تمہیً کتنی بار کہا ہے مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے کہ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے۔مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
مگر ٹونی یار ہمارے دین اسلام نے معاشرت ہی تو سکھائی ہے کہ کیسے رہنا ہے اور دیکھو نا یہ بھی تو مذہب ہی ہے۔
یار شیخو تم تو انتہائی دقیانوسی انسان ہو۔تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔
نہیں یار ٹونی میں تو ڈر گیا ہوں اگر ایسی ہی روشن خیالی رہی تو کل کو شراب کی دکانیں بھی کھلیں گی۔
تو اچھا ہے نا شیخو یار جس کا جی چاہے پئے جس کا جی چاہے نہ پئے۔
ٹونی یار اچھا ایک بات بتاؤ ؟ اس بارے میں تمہاری روشن خیالی کیا کہتی ہے کہ کل کلاں کو اپنے ہاں اگر ایک مرد ایک دوسرے مرد سے یا ایک عورت دوسری عورت سے شادی رچانے لگے ، میرا مطلب ہم جنس پرستی سے ہے تو کیا تمہارا یہ روشن خیال معاشرہ اس کی اجازت دے گا؟
دیکھو شیخو یار، اگر ایک روشن خیال معاشرے کے لوگ ایسا چاہیں گے اور اگر ایسا کوئی قانون پاس ہو بھی جاتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ہر ایک کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے۔
اچھا ٹونی بھائی کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے ہاں کی عورتیں تھائی لینڈ جیسے ملک کی طرح آزاد ہوں اور تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ ان کی معشیت ہی عورتوں کے سر پر ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں کتنی بے غیرتی ہے۔
وہ آزاد اور روشن خیال لوگ ہیں ان کی عورتیں آزاد ہیں اپنا کام کرتی ہیں اور پھر کام کرنے میں کیا برائی ہے؟ اپنی زندگی جیتی ہیں وہ ، اپنا کماتی ہیں اپنا کھاتی ہیں۔
مگر ٹونی بھائی وہ جیسا کام کرتی ہیں وہ تو بے غیرتی ہوئی نا۔بھلا یہ کیسی روشن خیالی ہوئی؟
کون سی بے غیرتی ہے وہاں شیخو بھائی ، اپنی زندگی جیتی ہیں ان کو اس کا حق ہے اور ان کا معاشرہ ان کو اس کا حق بھی دیتا ہے۔
ٹونی بھائی ہمارے معاشرے نے بھی روشن خیالی کے نام پر عورتوں کو ایسے ہی حقوق سے نوازا ہے تو کیا ہمارے ہاں کی عورتیں بھی اگر اسی ڈگر پر چل نکلی تو کیا ہمارا معاشرہ اس بات کی اجازت دے گا۔
کیوں نہیں دے گا بلکہ دینی چاہئے اگر ایک عورت اپنی مرضی سے اپنی زندگی گذارنا چاہتی ہے تو اس پر روک ٹوک کیسی؟
یہ تو بدتہذیبی اور بے غیرتی کی انتہا ہے ٹونی بھائی،
یہ بدتہذیبی نہیں ہے بلکہ یہ روشن خیالی ہے اور تم دقیانوسی لوگ کیا جانو۔تم تو کسی کو جیتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔کیوں پابندی لگاتے ہو تم لوگ کسی کی زندگی پر؟
پابندی نہیں لگاتے ٹونی بھائی مگر یہ سب کچھ اچھا نہیں ہے اس سے تو ہمارا معاشرہ تباہ ہو جائے گا اور پھر ہمارے دین نے سب راستے بتا جو دئے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔
یار شیخو تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔
اچھا آخری بات ٹونی بھائی کہ اگر تمہاری ماں بہن بھی ادھ کھلے لباس میں گریبان کھولے ننگی سڑکوں پر پھریں اور لوگ انہیں پر شوق نظروں سے دیکھیں یا پھر ان میں سے کوئی کسی غیر مرد کے ساتھ تمہارے سامنے چلی جائے تو کیا تمہیں یہ سب اچھا لگے گا؟
تم غلیظ لوگ گندے آدمی تم سب دقیانوسی ہو جب تمہیں کوئی بات نہیں آتی تو تم لوگ ماں بہن کو بیچ میں لے آتے ہو، تم کیا جانو روشن خیالی کیا ہے۔

ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا۔ روشن خیالی زندہ باد

اتوار, جنوری 14, 2007

عقل بڑی کہ بھینس

مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ اس محاورے کا کیا مقصد ہے یا یہ محاورہ کہنے والا کہنا کیا چاہتا تھا یا کہ یہ وہ اس مثال کو دے کر کیا واضح کرنا چاہتا تھا۔
عقل تو عقل ہے اس کا بھینس سے کیا موازنہ ، ہاں اگر یوں کہا جاتا کہ عقل بڑی کہ نقل ، تو پھر سوچا جا سکتا تھا کہ ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز بڑی ہے یا کس کی افادیت زیادہ ہے۔
چلیں ہم عقل بڑی کہ بھینس کی مثال کو اِسی کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جس نے اُسے تخلیق کیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عقل بڑی یا نقل میں کس کی افادیت زیادہ ہے۔
اسی سلسلہ میں ، میں چند مشہور اور چیدہ چیدہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

لوٹے شاہ سے سوال کیا جو ایک مزار کا مجاور اور تقریباً دو تین سو مریدوں کا سچا پیر بھی ہے ، وہ کہتا ہے ، عقل بڑی ہے۔
ایک مسجد کے پیش امام سے سوال کیا ، کہنے لگا عقل ہی بڑی ہے نقل کا کیا کام۔
ایک بڑے کاروباری شخص سے سوال کیا جو کہ کروڑوں کا مالک ہے ، کہنے لگا عقل بڑی ہے۔
ایک اخبار کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی تو پوچھا ، کہنے لگا ، عقل ہی بڑی ہے۔
ایک مشہور شاعر سے پوچھا تو اس نے بھی یہی کہا کہ ، بھائی ہم تو عقل ہی کو بڑا کہیں گے۔
ایک سیاستدان سے ملنا ہوا تو پوچھ لیا کہ دونوں میں سے کون بڑا ہے۔اس نے بھی عقل کا ہی نام لیا۔
اپنے استاد بابے عیدو سے دریافت کیا تو کہنے لگا ، ابے سٹھیا گیا کیا ، عقل ہی بڑی ہووے۔
ایک نام نہاد فلسفی سے مل بیٹھے تو پوچھ لیا،اس نے ہوں کو لمبا کیا اور کافی دیر بعد جواب دیا کہ دیکھو میاں عقل کے بڑا ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔میں نے ان کے پہلو بتانے سے پہلے ہی ان سے ہی پہلوتی کر لی۔
ایک راہ چلتے فقیر کو روک کر سوال کر دیا، اس نے کوئی جواب نہ دیا بس دیکھا کیا اور مسکراتا ہوا چل دیا۔
آخر کار میں پاگل خانے جا پہنچا اور دور اپنی سوچوں میں گم ایک پاگل سے سوال کیا ،
سنو کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ عقل بڑی ہے کہ نقل ، میرا مطلب ہے ان دونوں میں سے ہم کس کو بڑا کہیں گے یا ان میں سے کس کی اہمیت کو زیادہ گروانیں گے۔
وہ قہقہ مار کر زور زور سے ہنسنے لگا اور پوچھتا ہے کون سے وارڈ میں ٹھکانہ ہے پہلے کبھی دیکھا نہیں تم کو۔
کہنے لگا ، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بڑی ہیں۔اگر عقل کو دیکھو تو ٹھکانہ پاگل خانہ میں اوراگر نقل کو دیکھو تو ٹھکانہ صدارت کی کرسی پر ، تو کیا یہ دونوں بڑی نہ ہوئیں۔

جمعہ, جنوری 12, 2007

شراب چیز ہی ایسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے

خبر ہے کہ اپنے پیارے پاکستان کے کپتانوں نے انگور کے پانی سے غسل فرما کر آسمان کی سیر کرنے کی ٹھانی تھی مگر بدقسمتی سے جہاز کے مسافروں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اور اب ان کپتانوں کو پی آئی اے حکام نے عام پانی سے غسل کرنے کے لئے گھر بھیج دیا ہے۔

ہمارے پاکستان میں پہلے کبھی پرانے دور میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر کوئی غلطی سے شراب پی بیٹھا اور پھر بدقسمتی کے ہاتھوں ہماری پاکی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تو جانو وہ تو گیا اندر دو چار سال کے لئے اور اس کے جو پیسے خرچ ہوتے تھے اس کا تو حساب ہی مت پوچھیں۔
اگر ہم اپنے پیارے پاکستان جو کہ کسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے بھی جانا پہچانا جاتا تھا، شراب پینے کے طور پر حد لاگو ہونے کی بات کریں تو مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایسی سزا کسی دور میں بھی کسی کو ہوئی ہو۔
اب جبکہ ہمارے ہاں روشن خیالی کا دور دورہ ہے اب تو رات کو پولیس والے بھی کسی کا منہہ نہیں سونگھ سکتے پکڑنا تو دور کی بات ٹھرتی ہے۔بس غل غپاڑہ نہ ہو ، چاہے آپ ساری بوتل ہی کیوں نہ چڑھا آئیں۔اپنے کپتان لوگوں سے بھی بس یہ ہی غلطی ہوئی ہوگی کہ انہوں نے اپنی پاک زبان سے کچھ اول فول بک دیا ہوگا جوکہ کسی ایسے شریف آدمی کے کانوں میں پڑ گیا جو کہ آٹھ دس سال بعد اپنے پیارے وطن پاکستان آ رہا ہوگا۔اگر اس شریف آدمی کے کانوں میں بھنک نہ پڑتی تو یہ جہاز تو کیا روزانہ پتہ نہیں کتنے ہی جہاز آتے ہیں۔بس غل غپاڑہ نہیں ہوتا۔

شراب چیز ہی ایسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے
یہ میرے یار کے جیسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے