ہفتہ, جون 4, 2011

ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے

میو ہسپتال لاہور شہر میں واقع ایک بڑا ہسپتال ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس ہسپتال کا شمار ایشیا کے بڑے اور مشہور ہسپتالوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔اور ہمارے پاکستان کا یہ بھی اصول ہے کہ جو چیز ، جگہ جتنی بڑی ہوگی اس میں کرپشن کے مواقع بھی اتنے ہی ہوں گے ۔خالی خولی کرپشن ہو تو چلو گزارہ بھی کیا جاسکتا ہے مگر ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے۔
ڈاکٹری پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے اس مقدس پیشے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے ڈاکٹروں کو آپ کیا کہیں گے ؟
یہ غالبا 1988 کا دور تھا ، مہینے کا کچھ یاد نہیں ، میں حسب معمول اپنی رات کی ڈیوٹی پر میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھا۔ہمارے ساتھ ہمارا ایم او ( میڈیکل آفیسر) ڈاکٹر حفیظ الرحمن جو شکل سے انتہائی شریف آدمی دکھائی دیتا تھا موجود تھا۔ہماری ڈیوٹی رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک 12 گھنٹے پر محیط ہوتی تھی ۔اور رات 1 بجے کے بعد ایمرجنسی میں عموما رش کم ہو جایا کرتا تھا۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی روزانہ یہ روٹین ہوتی تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ہماری سب کی ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ کے باہر ( سی او ڈی ) میں ہوتی تھی جہاں پولیس کیس ، یعنی حادثات ، قتل وغیرہ کے کیس آیا کرتے تھے جبکہ ہمارے ہاں جو میڈیکل آفیسر یعنی ( ایم او) ہوتا تھا وہ تمام مریضوں کو ایک نظر دیکھ کر اسے سرجیکل یا میڈیل میں ریفر کر دیا کرتا تھا۔
تو بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی عموما روزانہ کی یہ عادت تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔۔اور اسی علاج کے بہانے وہ لڑکی کے سینے پر اسٹتھیو اسکوپ ( عام آدمی اسے ٹوٹیاں سمجھ لیں جس سے سینے اور دل کا چیک اپ کیا جاتا ہے) لگا کر دیر تک اسے ہاتھوں سے ٹٹول کر مزے لیا کرتا تھا۔اس کی اس قبیح حرکت سے بہت سی لڑکیاں رونے لگتی تھیں ۔بیچارے ماں باپ یہی سمجھتے تھے کہ ان کی لڑکی تکلیف کی وجہ سے رو رہی ہے ۔ان کو کیا پتہ ہوتا تھا کہ یہ ڈاکٹر جو ان کی بچی کا علاج کر رہا ہے یہ ڈاکٹر کے روپ میں درندہ ہے۔ہم نے بارہا ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو اس کی حرکتوں سے منع بھی کیا تھا اور بارہا شرم بھی دلائی تھی مگر اس کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی ۔
آج ہم سب نے ٹھان لیا تھا کہ آج اگر اس نے ایسی کوئی حرکت کی تو اس کا کوئی نہ کوئی سدباب کیا جائے گا۔اتفاق دیکھئے کہ ایک خوبصورت لڑکی پیٹ درد کی وجہ سے رات تقریبا ڈیڑھ بجے اپنی والدہ اور نوجوان بھائی کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئی میں اس وقت پرچی والے کے پاس ہی بیٹھا چائے پی رہا تھا میں نے پرچی والے کو اشارہ کیا کہ اس کی پرچی بنائو اور اسے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے پاس بھیج دو ۔ دوسری جانب میں نے اوپر لیباٹری ٹیکنیشن کو فون کر دیا کہ نیچے آ جائو اور باہری گیٹ کے پاس کھڑے ہو جائو۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے حسب معمول اس لڑکی کو اپنے ساتھ والے بیڈ پر لٹا کر قبیح حرکتیں شروع کر دیں ۔وہ لڑکی بھی کئی انتہائی شریف تھی اس نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا ۔ میں نے فورا لیبارٹری ٹیکنیشن کو اشارہ کیا ، اس نے اس کے نوجوان بھائی کو اشارے سے بلا کر اسے ڈاکٹر کے بارے میں بتایا اور غائب ہو گیا۔لڑکی کے بھائی کا یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر اس کی بہن کے ساتھ ایسی حرکتیں کر رہا ہے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، مریضوں کا اسٹول اٹھا کر ڈاکٹر کو دے مارا اور لگا گالیاں نکالنے ۔۔۔لڑکے نے فوری طور پر اپنی بہن اور ماں کو وہاں سے لیا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔۔ہم نے سوچا کہ یارا یہ تو کچھ نہ ہوا مگر تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ساتھ ہی گوالمنڈی سے وہ بہت سے لڑکے لے کر دوبارہ آ دھمکا اور لگا ڈاکٹر کو مارنے۔۔جب وہ ڈاکٹر حفیظ کو کافی مار چکا تو اب ہمیں ڈاکٹر کو بچانے کی فکر ہوئی ۔۔بحرحال قصہ مختصر ڈاکٹر کو کسی نہ کسی طرح بچا کر وہاں سے بھگا دیا گیا اور صبح لڑکے کی درخواست پر سیکرٹری ہیلتھ نے اسے معطل کر دیا۔۔۔بعد میں سنا تھا کہ وہ بحال ہو گیا تھا۔۔مگر اس دن کے بعد سے آج تک میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی

6 تبصرے:

  1. آپ نے اس کا نام لکھ کر لوگوں کو کنفیوز کر دیا۔ اب آپ کے قارئین کسی بھی ڈاکٹر حفیظ سے علاج کروانے میں ہچکچائیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت ہی شرمناک بات ہے اور خاص طور پر ہسپتال وغیرہ میں اس طرح کے غیظ لوگ عام لوگوں کی پریشانی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور لوگ بھی مجبور ہوتے ہیں کہ ایک تو پہلے ہی پریشان ہیں اوپر سے کوئی اور اونچ نیچ نہ ہو جائے۔ حالانکہ اس طرح کے واقعات پہ فوراً آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. شرمناک سے زیادہ بے غیرتی کی بھی بات ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. نام لکھنا ضروری تھا کیونکہ یہ واقعہ حقیقت پر مبنی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  5. میری رائے میں اسطح ضابطہ اخلاق اور قانون و ضوابط کے علاوہ کوئی چیک ہونا چاہئیے۔ احتیاطی تدابیر بھی کہ جیسے نوجوان لڑکیوں کے ساتھ اسکا ایک عزیز اسکے ساتھ رہے یا کوئی اور طریقہ کار۔ تانکہ اسطرح کے واقعات کا سدباب کیا جاسکے کیونکہ یہ جہاں بے غیتےی کی آخری حدوں کو چھوتی حرکت ہے وہیں ااسطرح کے سائیکو لوگ کل کلاں کو اپنی کسی مریضہ کی بے ہوشی وغیرہ سے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اس کے ساتھ منہ بھی کالا کرنے پہ اتر آتے ہیں اسطرح کا ایک ملتا جلتا واقعہ چند سال پہلے لاہور کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا جس میں غالبا ڈاکٹر نے اپنی مریضہ کی بےہوشی میں اس سے منہ کالا کیا تھا اور اس بات کا بہت چرچا ہوا تھا۔

    اسکا ایک حل یہ بھی ہونا چاہئیے کہ ڈاکٹروں کو یہ تاکید ہو کہ وہ بجائے خود اس طرح کی حرکات سے باز رہتے ہوئے اپنے کولیگز کے بارے دھیان رکھیں۔ جیسے آپ نے ایسی حفیظ نامی کولیگ کی ایسی حرکات دیکھیں اور اسکا سزا کا بندوبست کیا اسی طرح باقی لوگ بھی جہاں کہیں غیر معمولی اور غیر پیشہ ورانہ حرکت دیکھیں اسے چپکے سے ڈائریکشن کے علم میں لائیں اور پھر ڈائریکشن کسی خفیہ چیک سے ساری صورت حال کا جائزہ لے۔

    کیونکہ یہ بہت خطرناک اور گری ہوئی حرکت ہے جس پہ عموما کسی لڑکے عزیز و اقارب ایسے ڈاکٹر کی جان لینے سے کم پہ راضی نہیں ہوتے۔

    آپ نے ایسے بے غیرت ڈاکٹر کا نام لک کر اچھا کیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. محترم جاوید گوندل صاحب
    تبصرے کا بے حد شکریہ ۔۔۔آپ کی سب باتیں صحیح ہے آپ بے ہوشی کے واقعہ کی بات کرتےہیں یہاں تو ہوش میں لوگوں نے ہوش اڑا دئے۔۔۔انشااللہ جلد ہی اور بھی بہت کچھ لکھوں گا

    جواب دیںحذف کریں