منگل, جولائی 22, 2014

انسانی تاریخ کا آغاز

tareekh-01انسانی تاریخ کا آغاز
تاریخ کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب انسان معاشرتی حالات میں داخل ہوتا ہے۔جب تک انسان دور فطرت میں رہتا تھا اسے دوسروں کی کچھ پرواہ نہ تھی۔اس کی صرف ایک ہی ضرورت تھی کہ وہ کسی طرح اپنی بھوک مٹائے۔دور وحشت کی انسانی حالت حیوانی حالت سے ملتی جلتی تھی،جب دور وحشت کا خاتمہ ہوا،انسانی معاشرہ وجود میں آیا اور باہمی ضروریات کے لئے انسان آپس میں ملے تو انسانی تاریخ کا آغاز ہوا۔

ماضی کے واقعات جاننے کی جستجو
جوں جوں انسان نے تہذیب و ثقافت میں قدم آگے بڑھائے،اس کا ماضی کے حالات دریافت کرنے کا شوق بڑھتا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ آنے والی نسلیں کہیں اس کے قیمتی تجربات سے محروم نہ رہ جائیں۔ان قیمتی تجربات کو محفوظ کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں اور فن تحریر ایجاد ہوا۔پہلے تو قیمتی تجربات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔اس کے بعد پتھروں ، درختوں کی چھالوں ، جانوروں کی کھالوں ، پتوں اور پھر صفحہ قرطاس پر اتارے جانے لگے۔۔آریوں کی وید ، زرتشتوں کے زند و اوستہ ، حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے فرامین ، زبور ، توریت ، حمورابی کے قوانین ، فراعین کے اہرام اور اشوک کی لاٹیں قدیم تاریخیں ہیں جو انسانوں کے تاریخی ذوق و ورثہ کا پتہ دیتی ہیں ۔

انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ
انسانی تہذیب و تمدن کا یہ سلسلہ قریباً دس ہزار سال پر محیط ہے ۔ لہذا تاریخ کا علم انسانی زندگی کے ماضی کے حالات و واقعات کو ہمارے سامنے لاتا ہے اور ان حالات کو معلوم کر کے ہم اپنی زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۔۔۔۔
۔۔ ‘‘ علم تاریخ راہ حیات کی وہ گاڑی ہے جو مختلف زمانوں کی تہذیبوں کے راستے سے گذرتی ہوئی ان کی ابتدا و انتہا اور ارتقاء سے آگاہ کرتی ہے ‘‘ ۔۔۔
ڈچ مورخ ہوزنگ کے مطابق ۔۔۔
۔۔۔ ‘‘ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں سے ماضی کی تہذیب کا عکس نظر آتا ہے ‘‘۔۔۔
تاریخ یقیناً داستان سرائی ہے لیکن یہ خود ساختہ داستان نہیں ۔ اس میں وہ داستان بیان کی جاتی ہے جو زمانہ ماضی کے حالات پر مبنی ہو ، یا مورخ اپنی چھان بین سے ماضی کے واقعات دریافت کر کے انہیں ازسر نو مرتب کر دے ۔بلاشبہ ہم ماضی کو اس صورت میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جب ہمارے پاس ماضی کے حوادث و واقعات کا وسیع مواد موجود ہو ۔
قوموں کی بلندی و پستی کے جس قدر اسباب ہوتے ہیں تاریخ ان کا تجزیہ پیش کرتی ہے کہ کس طرح ایک قوم ایک وقت میں گوشہ گمنامی میں روپوش ہوتی ہے اور وہ پھر کیونکر بتدیج منازل ارتقاء طے کرتی ہوئی منظر تاباں پر آتی ہے اور پھر کس طرح بگڑتے بگڑتے ایسی روپوش ہوتی ہے کہ کسی کو خیال تک نہیں آتا کہ یہ بھی کبھی زندہ قوم تھی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں