جمعرات، 14 اگست، 2014

لاہور میں افغانیوں کی یلغار

afghan-01جب سے امریکہ افغانستان جنگ شروع ہوئی ہے لاکھوں کے قریب افغانیوں نے افغانستان سے پاکستان میں ہجرت کی ہے ۔ان افغانیوں میں سے زیادہ تر نے صوبہ خیبر پختونخواہ کو اپنا مسکن بنایا۔ان میں سے بہت سے افغانی خاندان کراچی اور لاہور میں بھی بھی پناہ گزین ہوئے ۔

آج سے تقریباً پانچ چھ سال قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنی تقریروں میں بہت دفعہ باور کرایا تھا کہ کراچی میں طالبان نے ڈیرے جما لئے ہیں مگر ان کی ایک نہ سنی گئی اور آج کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں ۔۔۔ میرے خیال میں ایم کیو ایم کے قائد اگر اس وقت کھل کر صورتحال بتاتے کہ تو شاید اس مسلے پر قابو پایا جاسکتا تھا۔

afghan-01

صوبہ خیبیر پختونخواہ میں فوج نے طالبان کے خلاف جب اپنا پہلا اپریشن کیا تو وہاں سے بھی ہزاروں افراد نے ہجرت کی ۔ان افراد میں بہت سے افغانی بھائی بھی شامل تھے جنہوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ان افغانی بھائیوں نے لاہور کی بڑی تجارتی مارکیٹوں جن میں اعظم کلاتھ مارکیٹ ، شاہ عالم مارکیٹ ، اردو بازار کے علاوہ دیگر چھوٹی مارکیٹ میں بہت سے گودام اور دوکانیں خرید کر وہاں اپنا کاروبار شروع کر دیا۔بہت سے افغانیوں نے لاہور کے چھوٹے علاقوں کے علاوہ گلی محلوں میں بھی اپنے تجارتی مراکز قائم کئے جہاں انہوں نے الیکٹرونک اور دیگر سازوسامان قسطوں پر دینا شروع کر دیا۔


afghan-02

آج جب کہ وزیرستان میں دوسرا بڑا اپریشن اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔وہاں سے ہجرت کرنے والے پختون بھائیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے افغانی بھائیوں نے بھی لاہور کو اپنا مسکن بنا لیا ہے ۔ان افغانیوں نے پوش علاقوں میں اپنی رہائش گاہیں بنائی ہیں ۔اگر آپ شام کے وقت ڈیفینس ، گلبرگ ، ماڈل ٹاؤن ، گارڈن ٹاؤن اور دیگر پوش علاقوں کے کھیلوں کے میدان میں جائیں تو وہاں آپ کو افغانی خواتین کے علاوہ ان کے بچے بھی کھیلتے ہوئے ملیں گے ۔


afghan-03

لاہور میں امن و امان کی صورتحال اب بھی پاکستان کے دوسرے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے زیادہ تسلی بخش ہے ۔افغانستان یا خیبر پختونخواہ میں آپریشن کی وجہ سے لاہور آنے والے افغانی ہمارے بھائیوں جیسے ہیں ۔ اگر وہ پاکستان کے شہری ہیں یا انہوں نے پاکستان کی شہریت حاصل کی ہوئی ہے تو ان کا لاہور میں رہنے کا حق بھی ہم جیسا ہی ہے ۔اور اگر ان کے پاس پاکستان کی شہریت نہیں ہے تو ان کو اپنی رجسٹریشن کروانی چاہئے۔

بدھ، 13 اگست، 2014

ایک قدیم پتھر ۔۔۔ عقیق

aqeeq-08اس خوبصورت پتھر کو اردو اور فارسی میں عقیق، عربی میں عقیق یمنی ، سنسکرت میں بلیک اور انگریزی میں اگیٹ اور کارنیلین کہا جاتا ہے۔ویسے یہ خوبصورت پتھر کورز اور واگٹس کے نام سے بھی موسوم ہے۔

عقیق مذہبی پتھروں میں شمار ہوتا ہے۔زیادہ تر اس پتھر کو فقیر، جوگی ، سادھو ،صوفیائے کرام،سنیاسی اور درویش لوگ اپنے اپنے شوق اور مذہبی اعتقاد کی وجہ سے پہنتے ہیں۔
عقیق بے شمار رنگوں میں پایا جاتا ہے مثلاً دودھیا ، زرد ،زردی مائل ، سرخ ، سرخی مائل ،سفید مٹیالا،نیلا ،ہرا۔کالا

یمنی عقیق جو دنیا میں بہترین شمار ہوتا ہے کلیجی یا اینٹ کے رنگ کا ہوتا ہے۔

عقیق کا مزا پھیکا اور مزاج سرد اور خشک ہوتا ہے ۔یہ بے حد قدیم پتھر ہے ۔تاریخ کے مطابق یہ پتھربارہ سو سال قبل مسیح سے استمال میں آرہا ہے۔

کیمیاوی اجزا
1۔ آئیرن
2۔ بیریم
3 ۔ زرکونیم
4 ۔کیکسائڈ
5 ۔کواٹرز اس کے خصوصی مرکبی اجزا ہیں

اقسام:۔
عقیق کی بے شمار قسمیں ہیں،مشہور اقسام درج ذیل ہیں
1۔عقیق یمنی ( تازہ کلیجی کا رنگ)
2۔عقیق کوری یا مصری عقیق جو زیادہ تر سبز،سیاہ اور خاکی رنگ کا ہوتا ہے۔
3۔عقیق ربنی (ابن عقیق ریشمی لچھوں کی سی بناوٹ والا)
4۔عقیق پلاسمی (سفید اور زرد کی ملاوٹ والا یہ عقیق سبز و کپاہی ہوتا ہے۔
5 ۔عقیق شجری یا نباتاتی ۔۔۔ اس عقیق میں درخت کی شاخوں جیسے ریشے ہوتے ہیں
6۔عقیق سلیمانی۔۔۔ اس عقیق میں گول نشان ہوتے ہیں اور اس کے طبقوں کے رنگ شوخ ہوتے ہیں۔مصر میں سیاہ رنگ کے عقیق کو سلیمانی عقیق کہا جاتا ہے
7۔عقیق ماسی ۔۔۔یہ بھورے رنگ کا دھاری دار ہوتا ہے
8 ۔عقیق صفاقہ ۔۔۔ ایسا عقیق جس کی چمک دھندلی ہوتی ہے اور یہ صاف نہیں ہوتا
9 ۔ابلقی عقیق ۔۔۔ یہ عقیق قدرے سیاہ اور سفید ہوتا ہے
10 ۔ عقیق ذوطبقاتی یا جوزین جس میں ابر کی پرت نمایاں ہو
11 ۔عقیق چشمی ۔۔۔ اس عقیق کی بناوٹ آنکھ کی مانند ہوتی ہے ایسے کہ جیسے گول دھاریوں کے مرکز میں ایک نقطہ ہو۔
12 ۔قوس قزی عقیق ۔۔ایسا عقیق جس میں قوس قزح کے رنگوں کی ملاوٹ ہو
13 ۔ ڈوری دار عقیق ۔۔اس میں مختلف قسم کی دھاریاں ہوتی ہیں
14 ۔جگری عقیق۔۔۔اس عقیق کا اندرونی رنگ بیرونی رنگ سے زیادہ سرخ ہوتا ہے
15 ۔ابقی عقیق۔۔۔ یہ عقیق کچھ سفید اور کچھ سیاہ ہوتا ہے

عقیق کو اگر سلور نائٹریٹ تیزاب میں بھگو کر سورج کی تیز شعاؤں میں رکھیں تو اس میں عارضی اور نقلی رنگ آجاتا ہے اور سہاگہ کے تیزاب میں رکھنے سے یہی نقلی رنگ اتر جاتا ہے۔

مصر میں سبز رنگ کے عقیق کو انناس ، سیاہ کو سلیمانی، اور خاکی عقیق کو کوری کہتے ہیں۔عقیق چونکہ یمن میں بکثرت ملتا ہے اس لئے یمن کے اچھے اور عمدہ نگوں کو یمنی عقیق کہا جاتا ہے۔

اچھا اور عمدہ عقیق یمن ،مصر ، افغانستان ، عرب ، برازیل اور دریائے روم کے کنارے پایا جاتا ہے۔سب سے زیادہ کھمباتی عقیق ہندوستان میں پایا جاتا ہے۔

مزید تفصیلات اور خریداری کے لئے نانامانا کی سائٹ کا وزٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں ۔۔

منگل، 12 اگست، 2014

ایک خوبصورت پتھر ۔۔۔۔ فیروزہ

feroza-thai-03فیروزہ کو سنسکرت میں پیروج ، فارسی اور اردو میں فیروزہ اور انگریزی میں ٹرکوسائس اور ٹرکینا بھی کہتے ہیں۔یہ درجہ دوم کے بہترین اور اعلی ترین قیمتی جواہر میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں روغنی چمک کا مشہور پتھر ہے اس کا رنگ سبز سفیدی مائل ہلکا و گہرا سبزی مائل اور آسمانی ہوتا ہے۔بعض فیروزے نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔
فیروزہ چار دھاتی اجزا کا مرکب بتایا جاتا ہے جس میں المونیم،فولاد ، تانبا اور فاسفورس شامل ہے۔یہ آگ میں نہیں پگھلتا بلکہ اس کا صرف رنگ بھورا ہوجاتا ہے۔اس کا اندرونی اور بیرونی رنگ یکساں ہوتا ہے۔اس پتھر کا مزا پھیکا اور تاثیر سرد اور خشک ہے۔اچھے فیروزے پر تیزاب کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ فیروزہ ایک قدیمی پتھر ہے اوریہ پتھر پہاڑ کی پرانی چٹانوں سے دستیاب ہوتا ہے۔
پختہ اور اچھے فیروزہ کا رنگ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔خام فیروزے کا رنگ جلد خراب ہوجاتا ہے۔

فیروزے کی دو مشہور اقسام ہیں
مشرقی فیروزہ ۔۔۔۔ اس کا رنگ ہمیشہ قائم رہتا ہے
مغربی فیروزہ ۔۔۔۔ اس فیروزے کو بون بھی کہتے ہیں اس کا رنگ خراب ہوکر سبز ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ ناپختہ خام ہوتا ہے اور اس میں فاسفیٹ چونے کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اس لئے اسے بون بھی کہا جاتا ہے۔

حکمائے یونان نے فیروزے کی آٹھ اقسام بیان کی ہیں
1۔سلیمانی
2۔ آندیشی
3 ۔آسمان گوں
4 ۔اظہاری
5 ۔فتحی ۔۔فیروزے کی یہ قسمیں خاکی رنگ کی ہوتی ہیں ۔۔۔ کرمان اور شیراز میں پائی جاتی ہیں۔اظہاری اور فتحی میں سفید دھبے پائے جاتے ہیں۔
سلیمانی اور آندیشی اور آسمان گوں فیروزے کی اعلیٰ اور بہترین قسمیں ہیں۔
6 ۔گنجونیا ۔۔۔ اس پر آگ اثر نہیں کرتی اور نہ ہی کوئی تیزاب اس پر اثر کرتا ہے
7 ۔ورلوی
8 ۔عبدالحمیدی

جن فیروزوں میں سفید رنگ ملا ہوتا ہے یا سفید دھاری ہوتی ہے ساپانگی اور سربوم کہتے ہیں اور جن میں نیلے رنگ کی دھاری ہو انہیں نیل بوم کا نام دیا جاتا ہے۔
صلابت ۔۔۔ اس کی سختی چھ درجہ کی ہوتی ہے اور یہ شیشہ کو با آسانی کاٹ دیتا ہے۔طاقت و انعکاس واحد ہے۔گرمی اور آگ دینے سے اس کا رنگ سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔
سب سے عمدہ فیروزہ نیشا پور ،کرمان(ایران) کا سمجھا جاتا ہے۔تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران میں دوہزار سال قبل سے فیروزہ دستیاب ہے۔
فیروزہ کا یہ خوبصورت پتھر نیپال ،تبت،امریکہ ،افغانستان،ایران ،صحرائے سینائی ،چین ،روس اور پاکستان میں پایا جاتا ہے

مزید تفصیلات اور خریداری کے لئے نانامانا کی سائٹ کا وزٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں ۔۔