منگل, ستمبر 16, 2014

ہماری کنجرانہ ثقافت کدھر گئی

hera-mandiبڑے دنوں بعد آج ہیرا منڈی سے پاوے کھانے کو دل کیا تھا سوچا وقت ابھی باقی ہے کیوں نہ اپنی کنجرانہ ثقافت پر بھی ایک نظر ڈال لی جاوے ۔۔۔۔دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ ہماری ہیرا منڈی اداس بیابان حسرت و یاس کی تصویر بنی اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہی ہے ۔
سامنے سے گذرتے ایک عقلمند مجنون سے پوچھا۔۔ میاں کیا تم جانتے ہو کہ ہماری ہیرامنڈی کی ثقافت کا کیا ہوا ؟
ہنس دیا ۔۔۔ اور ایک بڑی سی پان کی پیک پھینکتے ہوئے بولا ۔۔جس کے چھینٹے ہمارے کپٹروں پر خون کے دھبوں جیسے داغ ڈال گئے
کتنے خرچ کر سکتے ہو صاحب جی
کیا مطلب ؟ میں نے تم سے یہاں کی ثقافت بارے سوال کیا ہے اور تم ہو کہ ہم سے پیسوں کی بات کررہے ہو
پھر ہنس پڑا ۔۔۔۔ اب کی بار میں تھوڑا اس سے دور ہو لیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس بار میرا منہہ بھی لال ہو
کہنے لگا ۔۔۔۔ صاحب جی میں بیوقوف نہیں ہوں ۔۔۔ جیب میں پیسے ہوں تو بولو ۔۔۔
اچھا بتاؤ تو سہی پیسے بھی لے لینا یار ۔۔۔ میں نے کہا
کہتا ہے ۔۔۔۔
سبزہ زار جانا ہوگا تین ہزار ریٹ ہے جس میں سے پانچ سو علیحدہ سے میرے ہوں گے ۔۔۔ صاحب جی اگر یہاں آپ کو مال پسند نہیں آتا تو اقبال ٹاؤن کے پانچ ہزار اور ایک بڑا نوٹ میرا ہوگا۔
اگر وہاں بھی پسند نہ آیاتو ۔۔۔ میں نے پوچھا
تو گلبرگ چلے چلیں گے ۔۔۔ وہاں کے آٹھ ہزار ہوں گے اور ایک بڑا نوٹ میرا ۔۔۔۔ اگر وہاں بھی آپ کو پسند نہ آیا اور آپ کی پسند اونچی ہوئی تو پھر ہم ڈیفینس چلیں گے۔۔ مگر صاحب جی ڈیفینس کے بارہ ہزار کے ساتھ دو بڑے نوٹ میرے ہوں گے