پیر, اکتوبر 6, 2014

سماجی رابطوں کی رنگ برنگی دنیا اور ڈپریشن

facebookسماجی رابطوں کے اس جدید ترین دور اور رنگ برنگی دنیا میں جس تیزی سے نِت نئی معلومات ، سوچ ، باتوں سے ہم لوگ روزانہ مستفید ہو رہے ہیں ان کو ہضم کرنا یا ان سے فائدہ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ان کو بہت کم لوگ برداشت کر پاتے ہیں ۔

بہت سے لوگ دوسروں کی مختلف سوچوں ، باتوں ، انداز ، عادات و اطوار ، خصوصا ایسی سوچ یا باتیں جو ان کی ذہنی سوچ سے مطابقت نہ رکھتی ہوں سے متنفر ہو کر ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہر انسان کی سوچ عمومی یا خصوصی دوسروں کی سوچ سے بہت کم مطابقت رکھتی ہے جس کی وجہ سے انسان اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی اکتاہٹ جب حد سے بڑحتی ہے تو بندہ سکون چاہتا ہے۔

میری نظر میں اس کے سب سے بہتر دو حل ہیں
اگر تو آپ میں برداشت کا مادہ کم ہے اور آپ صرف اپنی ذہنی سوچ کے مطابق ہی ہر چیز چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ کتابوں کی طرح اپنے موضوع کی کتاب تک محدود رہیں۔
دوسرا اس کا حل یہ ہے کہ دوسروں کی سوچوں کو پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں ۔اگر کوئی سوچ آپ کی برداشت سے باہر ہے تو اسے نظرانداز کردیں ۔

نظراندازی خود کے لئے سکون اور دوسروں کے لئے عذاب کا باعث ہوتی ہے

1 تبصرہ:

  1. نظر اندازی خود کیلئے سکون اور دوسرے کیلئے عذاب ہے۔

    جواب دیںحذف کریں