جمعہ، 27 فروری، 2015

افواہ شنیداً ۔۔۔۔ درد شدیداً

افواہ شدید ہے کہ حکومتِ پاکستان نے یوٹیوب پر سے پابندی اٹھا دی ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت آج بھی کن ٹٹوں اور اس کے ظالم حواریوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور ہمارے موکلوں کے مطابق حکومت پاکستان نے لاہور سمیت کسی بھی شہر میں یو ٹیوب ابھی تک نہیں کھولی ۔۔۔۔ البتہ اینڈرائیڈ موبائل پر یوٹیوب ایپ میں گوگل کی دی گئی اپنی پراکسی کی وجہ سے آپ اسے دیکھ سکتے ہیں۔

اگر آپ انٹرنیٹ کے زریعہ سے یو ٹیوب تک رسائی چاہتے ہیں تو آپ گوگل والوں کا گوگل کروم براؤزر ڈاؤنلوڈ کیجئے ۔۔۔ براؤزر کو کھولئے اور اسی براؤزر میں نیچے دئے گئے لنک سے ‘‘ زین میٹ ‘‘ ZenMate نامی یہ ایکسٹینشن انسٹال کر لیجئے۔

یہاں کلک کر کے زین میٹ نامی ایکسٹینشن انسٹال کر لیں

اصولاً تو یو ٹیوب کو بند ہی نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس جس روابط ( لنکس ) پر اسلام مخالف مواد موجود تھا اس کو بلاک کر دیا جاتا۔تاکہ عام عوام اور خاص کر تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم اس سے استفادہ حاصل کرتے رہتے ۔

اصل میں کچھ نام نہاد کن ٹٹے اور اس کے ظالم چیلے جو کہ راتوں کو ننگے مجرے دیکھتے ہیں اور دن کو حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فلک شگاف نعرے لگاتے سڑکوں پر عوامی املاک کا تیاپانچہ کرتے نظر آتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کو اپنے گھر کی جاگیر سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ان کی ان سے زیادہ مسلمان اس روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔

ان کن ٹٹوں کی حب رسولیت پتہ نہیں کہاں جاتی ہے جب یہ لوگ خود قران و حدیث لکھی ہوئی اخبار میں جوتے ، روٹی لپیٹ کر لاتے ہیں اور بعد آزاں اسی قرآن و حدیث لکھی ہوئی اخبار کو کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں ۔۔۔اس وقت شاید نہ ہی ان سے توہین قرآن ہوتی ہے اور نہ ہی توہین رسالت ۔۔۔۔ تب شاید ان کی آنکھیں اور کان بند ہوتے ہیں ۔

ان کن ٹٹوں کو چاہئے کہ سب سے پہلے پاکستان میں پوسٹروں ، بینروں اور اخباروں میں قران و حدیث لکھنے پر پابندی عائد کروائیں تاکہ وہ قیامت والے دن توہین قرآن و توہین رسالت سے بچ سکیں ۔

سوموار، 23 فروری، 2015

رانا بھگوان داس اور جنت

پاکستان کے سابق چیف جسٹس رانابھگوان داس جو کہ ایک ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آج انتقال کر گئے ہیں ۔رانا بھگوان داس نے 1965ء میں بار میں شمولیت اختیار کی اور 1967 میں عدلیہ کا حصہ بنے ۔انہوں نے کئی سال سیشن جج کے طور پر بھی اپنے فرائض انجام دئے۔1994میں سندھ ہائیکورٹ کے جج بنے اور سن 2000 میں سپریم کورٹ کے جج تعینات کر دئے گئے ۔9 مارچ 2007 ءکو جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کے بعد جسٹس رانا بھگوان داس کو پرویز مشرف نے قائم مقام چیف جسٹس تعینات کر دیا ۔رانا بھگوان داس نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار بھی کیا تھا جس کی پاداش میں انہیں دیگر ججز کی طرح گھر میں نظر بند کردیاگیا تھا۔رانا بھگوان داس انتہائی اچھی شہرت کے حامل ہوتے اپنے کیرئیر کے دوران ہمیشہ غیر متنازع رہے۔ان کی نیک نامی کی وجہ سےگزشتہ برس حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنرکےعہدے کےلیےان کےنام پراتفاق کرلیاتھا لیکن رانا بھگوان داس نے عہدہ سنبھالنےسےمعذرت کرلی تھی ۔

رانا بھگوان داس ایک ہندو ہونے کے باوجود اپنی نیک نامی ، ایمانداری اور اچھی شہرت کی وجہ سے ہمیشہ غیر متنازعہ رہے ۔رانا بھگوان داس ایک اچھے شاعر بھی تھے ان کی ایک نعت جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ صلعم کے حضور نذرانہ عقیدت کے طور پر لکھی تھی اور وہ خاصی مشہور بھی ہوئی تھی ۔

جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​
دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​
خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​
یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​
تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​
مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​
نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​
ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​
میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​
دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​
ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​
نہ جاؤں ، نہ جاؤں ، نہ جاؤں گا خالی ​
تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہ کا​
میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​
نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوان ​
کہ جودِ محمد ہے سب سے نرالی ​

بے شمار ایسے ہندو ہیں جن کے نعتیہ کلام موجود ہیں چند ایک کے تو نعتیہ دیوان بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں ایک چودھری دلو رام کوثری کا دیوان حلقہ مشائخ بک ڈپو دہلی نے شائع کیا تھا۔

رانا بھگوان داس چونکہ ایک ہندو تھے اس لئے وہ جنت میں ہرگز نہیں جائیں گے ۔ان کی اچھی خدمات اور نیک نامیوں کا صلہ انہیں ان کی زندگی میں ہی مل گیا ہوگا۔

بدھ، 11 فروری، 2015

کیا آپ مسلمان ہیں ؟

اگر آپ مسلمان ہیں اور آپ کے پاس اینڈرائڈ فون بھی ہے تو پھر salatuk ( صلاتک ) نامی یہ نماز ٹائم والی ایپ آپ کے لئے انتہائی قیمتی اور بہترین ثابت ہوسکتی ہے ۔اس میں آپ کی سہولت کی تمام چیزیں موجود ہیں ۔اس کی ایک بڑی خوبی نماز کے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے علاقے میں نزدیک ترین مساجد کا بتانا ہے جس کا نتیجہ سو فیصد درست ہے ۔دوسری بڑی خوبی اس میں کسی بھی اشتہار کا نہ ہونا ہے ۔ اور سب سے بڑی خوبی کہ اس کے تمام فیچر مکمل اور بالکل مفت ہیں ۔

اس ایپ کو انسٹال کرنے کے لئے اپنے اینڈرائڈ یا آئی فون سے گوگل پلے سٹور یا ایپل سٹور میں جائیں ۔۔۔ سرچ میں salatuk لکھیں ۔صلاتک کا آئی کون آنے پر اس پر کلک کریں ۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



صلاتک پر انسٹال کا نشان آنے پر اسے کلک کر کے اپنے فون میں انسٹال کر لیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




انسٹال ہونے پر اسے یہاں سے ہی اوپن یعنی کھول لیں یا جہاں آپ کے فون میں صلاتک کا آئی کون آیا ہے اس کو کلک کر کے کھول لیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




زبان کا انتخاب کی اگر کھڑکی کھلے تو اپنی مرضی کی زبان منتخب کر لیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



اس کے بعد آپ کے سامنے نماز کے وقت کی مکمل تفصیلات کا صفحہ آجائے گا۔۔۔آپ فی الحال تھوڑی دیر کسی چیز کو نہ چھیڑیں ۔۔۔کچھ ہی لمحے بعد یہ خود بخود آپ کے ملک اور شہر کو منتخب کر لے گا۔۔۔منتخب ہوتے ہی آپ کے شہر کے حساب سے یہ آپ کے نماز کے اوقات دکھانا شروع کر دے گا۔۔۔
اگر تو آپ ان چیزوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تو پھر آپ کو کچھ اور نہیں کرنا۔۔۔ یہ نماز کے وقت پر آپ کو آذان کے زریعہ سے مطلع کر دے گا۔۔۔۔۔۔اگر آپ اس کو اپنی مرضی سے ترتیب دینا چاہتے ہیں تو پھر آپ اوپر ١ نمبر پر سیٹنگ کو کلک کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




اب آپ کے پاس اس کی مکمل سینٹنگ کا صفحہ آ گیا ہوگا جو کہ کچھ ایسے ہوگا ۔اس کی آپ ایک ایک کر کے اپنی مرضی کی سیٹنگ ترتیب دے سکتے ہیں۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



نمبر ایک کو کلک کنے سے آپ اپنی مرضی کی زبان کا انتخاب کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



نمبر دو کو کلک کرنے سے آپ نماز کے اوقات اور ہجری کیلینڈر کو اپنی مرضی سے ترتیب دے سکتے ہیں ۔۔۔ اگر آپ کو اس کے بارے میں مکمل معلومات ہوں تو اسے چھیڑیے ورنہ ان سب سیٹنگ کو ایسے ہی رہنے دیں ۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



نمبر تین پر آپ الرٹ اور دوسری سیٹنگ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



نمبر چار پر آپ اگر سفر میں رہتے ہیں تو اس لحاظ سے اپنے نماز کے اوقات اور مساجد کی لوکیشن کو ترتیب دے سکتے ہیں ۔۔۔یہ اس کا بڑے اہم اور کام کا فیچر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



نمبر پانچ پر آپ اپنی اس نماز کے اوقات والی ایپ کو سوشل میڈیا فیس بک اور ٹویٹر کے ساتھ اٹیچ کر کے وہاں آٹو پوسٹ کر سکتے ہیں۔۔۔ یعنی ہر نماز کے وقت کے آتے ہی وہ نماز کا وقت آپ کے شہر کے حساب سے آپ کی وال پر بھی شئیر ہوجائے گا۔۔۔۔اگر آپ نشان زد پیغام کو اپنی مرضی سے لکھنا چاہیں تو وہ بھی ترتیب دے سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



نمبر چھ پر گوگل کیلینڈر کا فیچر ہے یہ بھی خوب ہے اس میں آپ یہ تمام نماز کے وقت جتنے دن کے آپ چاہیں ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ۔۔۔ اس کا فائد یہ ہوگا کہ جونہی نماز کا وقت ہوگا یہ آپ کی میل اور آپ کے موبائل پر گوگل بھی ساتھ ہی پیغام بھجوائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



ہم ایک دفعہ پھر نماز کے وقت والے مین صفحے پر آتے ہیں اگر آپ نیچے دیکھیں تو پہلے نمبر پر نماز کا مکل صفحہ ہے۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



دوسرے نمبر پر کلک کریں گے تو آپ کے ایک میل کے دائرے کے اندر تمام مساجد آجائیں گی جو آپ کے علاقے میں ہوں گی ۔۔۔ آپ ایسی تمام مساجد دس کی تعداد میں دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



تیسرے نمبر پر کلک کرنے سے آپ کسی بھی نماز میں آذان کی آواز کو اپنی سہولت کی خاطر کھول یا بند کر سکتے ہیں یعنی آپ چاہتے ہیں کہ نماز کا وقت ہونے پر آذان کی آواز نہ آئے صرف میسیج آئے تو آپ اسے آف کر سکتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



چوتھے نمبر پر قبلہ کی سمت ہے۔۔۔یعنی آپ کسی ایسی جگہ ہیں جہاں آپ کو قبلہ کے رخ کا نہیں پتہ تو اسے کھولئے اور قبلہ کی سمت معلوم کر کے نماز پڑھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



دعاؤں میں یاد رکھئے گا

اتوار، 8 فروری، 2015

ایکسپو سنٹر لاہور کے کتب میلے میں ایک شام

ہمارے آنے پر مزے سے چائے کی چسکیاں لیتا وہ نوجوان لڑکا ایسے گھبرا کے اٹھا جیسے ہم نے اسے کوئی چوری کرتے پکڑ لیا ہو ۔میں نے اسے سختی سے سامنے بیٹھے رہنے کا کہا اور پوچھا کہ کیوں اُٹھ کر جانے لگے تھے ۔۔ کیا غریب آدمی ہو اس لئے ؟
کہنے لگا۔۔جی ہاں ۔۔۔۔ میں نے پھر اسے کہا کہ بس تم بیٹھے رہو اور سکون سے چائے پیئو ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کی وجہ سے آنے والی نمی کو میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔میں نے جلدی سے اس کی ایک تصویر بنا لی ۔میری نظر میں یہ تصویر ایکسپو سنٹر لاہور میں کتابوں کے میلے کی قیمتی ترین تصویر ہے ۔

سردیوں میں صرف ایک بنیان اور قمیض پہنے وہ لڑکا ایک نہایت غریب ، محنتی شریف اور ایماندار گھرانے کا ایک فرد دکھائی دے رہا تھا جو کتابوں کے اس میلے میں شاید اپنی منزل کا تعین کرنے آیا ہوگا۔اس کا سلیقہ اس کے چائے پینے اور اس کے سامنے پڑے ٹی بیگ کو لکڑی کے چمچ سے لپیٹنے سے ظاہر ہورہا تھا ۔ چائے پینے کے بعد پھر اس نے جس طرح اپنے خالی چائے کے کاغذی کپ کے ساتھ اپنے سامنے میز پر پڑے لکڑی کے چمچ میں لپٹے ٹی بیگ کو اٹھا کر سامنے ڈسٹ بن میں پھینکا، اس سے اس کا سلیقہ مند اور تہذیب یافتہ ہونا ظاہر ہو رہا تھا ۔
اسے دیکھ کر مجھے لکھی پڑھی کتابوں کا کہا لکھا سب ایویں ہی لگ رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا تہذیب کتابوں کے علم کی محتاج ہے ؟

لاہور ایکسپو سنٹر جوہر ٹاؤن میں کتابوں کے میلے کا آج چوتھا دن تھا۔اتفاق کی بات یہ تھی کہ ہمارے ایک محترم اردو بلاگر ساجد بھائی نے فیس بک کے مشترکہ دوست اقبال مغل صاحب ، عاطف بٹ بھائی اور دیگر دوستوں کی دعوت کا پروگرام ترتیب دیا ہوا تھا۔جبکہ دوستوں کو دوپہر ایک بجے اکھٹے ہونے کی جگہ کا تعین ساجد بھائی نے نئی اور پرانی انارکلی کے درمیان حافظ جوس کارنر جسے عرف عام میں ‘‘ بھونڈی والا چوک ‘‘ بھی کہا جاتا ہے پر کیا تھا۔

ایک بجنے سے چند منٹ پہلے میں ‘‘ بھونڈی والا چوک ‘‘ پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ساجد بھائی اور اقبال مغل بھائی سر جوڑے آپس میں رازو نیاز میں مصروف تھے ۔سلام دعا کے بعد میں نے عاطف بٹ صاحب کا پوچھا تو ساجد بھائی کا کہنا تھا کہ انہیں شادی کے سلسلہ میں جانا پڑ گیا ہے اس لئے ان کا آنا نہیں ہو گا۔۔۔ تھوڑی دیر ہم نے ادھر بیٹھ کر باتیں کی اور پھر اس ڈر کی وجہ سے وہاں سے اٹھ گئے کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے یہ علیحدہ بات ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ ‘‘ اسی ایڈے چنگے وی نہی ‘‘ ہم اتنے اچھے بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

پرانی انارکلی کے بہترین ہوٹل یاسر بروسٹ میں ساجد بھائی نے ہماری تواضع مٹن کڑاہی سے کی ۔اس کے بعد طے یہ پایا کہ ایکسپو سنٹر میں کتابوں کے میلے میں جایا جائے اور وہاں سے ادبی کتابوں سمیت علم کے خزانے خریدے جائیں اور ہم بھی لوگوں کو پڑھے لکھے اور ادب و آداب والے نظر آئیں تاکہ ہم سے کسی کی بے ادبی نہ ہو ۔

جب ہم کتابوں کے اس میلے میں پہنچے تو واقع میں وہاں ایک خوبصورت میلہ سجا تھا۔رنگ برنگے آنچل چاروں طرف لہرا رہے تھے ، زیادہ تر سٹالز میں لڑکیاں براجمان تھیں ۔ہم تینوں اس میلے میں ایسے پھرنے لگے جیسے انسانوں کے جنگل میں عرصہ دراز سے بندھے ہوئے بکروں کی رسی کو کھولا گیا ہو ۔

ہم نے کتابوں کے اس میلے میں بہت سی ادبی اور علمی کتابوں کو کھنگالا ، کبھی اس سٹال کی طرف جا اور کبھی اس طرف ۔۔۔ لوگوں کو بھی دیکھا ۔۔۔ لوگ کتابوں کوکم اور آس پاس کو زیادہ دیکھ رہے تھے ۔غرض ایکسپو سنٹر کے دونوں ہال ہم نے کھنگال مارے ۔۔۔۔کتابیں تو بہت سی تھیں ۔۔۔۔ مگر ہمیں نہ علم ملا نہ ادب ۔۔۔۔۔

مکمل تصاویر دیکھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

[gallery link="file" ids="1844,1845,1846,1847,1848,1849,1850,1851,1852,1853,1854,1855,1856,1857,1858,1859,1860,1861,1862,1863,1864,1865,1866,1867,1868,1869,1870,1871,1872,1873,1874,1875,1876,1877,1878,1879,1880,1881,1882"]

جمعہ، 6 فروری، 2015

لائن میں لگنے سے پہلے لائن پر آجائیں

اینڈرائیڈ فون یا ٹیب میں ویسے تو بہت سے اہم اور کمال کے ایپ ہیں مگر کچھ ایپ ایسے ہیں جو مفت ہوتے ہوئے اپنی افادیت میں کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔ان میں ایک ایپ لائن میسینجر کا بھی ہے ۔۔۔ کہنے کو تو لائن مسینجر ہے مگر ہم اسے چھوٹا فیس بک کہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔اس میسینجر میں تحریری پیغام رسانی کے علاوہ صوتی پیغام رسانی یعنی آڈیو پیغام ، ویڈیو پیغام ، تصاویر وغیرہ کے فیچر بہت اچھے ہیں ۔اس کا پوری دنیا میں مفت کال کرنے کا فیچر تو بے حد کمال کا ہے کیونکہ اس کی آواز ایک تو کٹتی نہیں ہے دوسرا آپ اس سے اپنے پیاروں سے گھنٹوں بات کر سکتے ہیں ۔۔۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام سہولیات بالکل مفت ہیں ۔

آپ اس سے ایک انسان سے علیحدہ چیٹ کے علاوہ گروپ چیٹ کے علیحدہ علیحدہ گروپ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔۔۔ یعنی یہ لائن مسینجر اسکول کالجز اور کاروباری حضرات کے لئے بھی بے حد مفید ہے۔

اس میں فیس بک کی طرح آپ اپنی وال پر کوئی بھی تحریر ، فوٹو ، آڈیو ، ویڈیو شئیر کر سکتے ہیں جو کہ آپ کے ایڈ کئے گئے تمام دوستوں کو جائے گی اور اگر آپ کوئی چیز مخصوص دوستوں کو بھیجنا چاہتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے ۔

آجکل لائن میسنجر پر تمام اہم لوگوں نے اپنے اکاؤنٹ بنانے شروع کر دئے ہیں ۔۔۔ جیسا کہ پاکستان کا آفیشل اکاؤنٹ لائن پر موجود ہے ایسے ہی تمام مشہور اداروں کے علاوہ مشہور شخصیات نے بھی لائن پر ڈیرہ جمانا شروع کر دیا ہے ۔۔

نیچے لائن میسنجر کے بارے میں آپ کی سہولت کے لئے تصویری معلومات پیش کی جارہی ہیں جس سے آپ کو اسے سمجھنے اور استمال کرنے میں مزید آسانی ہو گی ۔


گوگل پلے سٹور میں جائیں اور اگر آپ کے پاس آئی فون ہے تو ایپل سٹور میں جائیں وہاں بھی لائن میسنجر کی مفت سہولت موجود ہے وہاں سے لائن میسینجر انسٹال کرلیں۔۔انسٹال ہونے کے بعد اسے اوپن کریں۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




نیو یوزر پر کلک کریں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



یہاں سے اپنے ملک کا نام تلاش کر کے کلک کرکے اس پر کلک کر دیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



ملک کے نام پر کلک کرنے سے پہلے خانے پر آپ کے ملک کا نام آ جائے گا ۔۔۔ دوسرے خانے میں اپنا موبائل فون نمبر لکھ کر نیکسٹ کر دیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



یہاں ان کے قواعد و ظوابط لکھے ہوئے ہیں جسے آپ تسلم کر کے آگے جائیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



یہاں وہ آپ کے موبائل نمبر کی تصدیق کے لئے آپ کے موبائل پر میسیج بھیجیں گے جس میں وہ کوڈ لکھا ہوگا جو آپ نے آگے درج کرنا ہے ۔۔۔۔اول تو وہ کوڈ خود ہی درج ہو جاتا ہے اگر بالفرض نہ ہو تو آپ اسے خود لکھ دیں ۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




یہاں آپ اپنی سہولت کی خاطر ان کو نشان لگائیں یا نہ لگائیں ۔اس کے بعد اسے اوکے کر دیں ۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



یہاں آپ نے اپنا نام اور ای میل رجسٹرڈ کروانا ہے ۔اگر کسی کا ای میل ایڈریس نہیں بنا ہوا تو وہ اسے بعد میں بھی رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




رجسٹرڈ ہونے کے بعد آپ کو لائن کی جانب سے تصدیق کے لئے ایک ای میل بھیجی جائے گی جس میں ایک کوڈ نمبر بھیجا جائے گا جو آپ نے یہاں درج کرنا ہے ۔اس کے بعد آپ رجسٹرڈ کے بٹن پر کلک کر کے اوکے کر دیں۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں






آپ کے موبائل فون پر لائن میسینجر کا ایک آئی کون بن گیا ہوگا ۔۔ اس کو کلک کریں ۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



لائن مسینجر آپ کے سامنے کھل جائے گا ۔۔۔۔ میرے یہاں سارے ایڈ ہیں آپ کا شروع میں خالی ہوگا ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



اوپر دائیں ہاتھ ‘‘ مور ‘‘ کے نشان پر آپ جب کلک کریں گے تو یہاں سے آپ اپنے دوستوں کو ایڈ کر سکتے ہیں ۔۔۔ اپنی پروفائل ترتیب دے سکتے ہیں ۔۔ آفیشل اکانٹ والوں کو دیکھ سکتے ہیں اور انہیں ایڈ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



اپنے دوست و احباب سے انفرادی طور پر آپ ٹیکسٹ میسیج کے علاوہ ، تصاویر ، آڈیو میسیج ، ویڈیو میسیج ، مفت کال کے بھی فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں





میوزک چینل ہوں یا کہ نیوز چینل آپ یہاں ان کی ویڈیو وغیرہ بھی دیکھ سکتے ہیں ۔گھبرائیے گا نہیں یہ پاکستان کا ہی اے آر وائی میوزک چینل ہے بس یہ ہے کہ پاکستان نے اب ترقی کر لی ہے۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




یہ آپ کا ایسا انفرادی وال ہو گا یعنی ٹائم لائیں ہو گی جہاں آپ جو بھی شئیر کریں گے وہ سب دوستوں کو جائے گا جو آپ کی لسٹ میں ہوں گے ۔۔دایہں ہاتھ کونے میں اوپر تیر کے نشان والی جگہ پر آپ کلک کر کے اپنی وال پر پیغام لکھ سکتے ہیں۔ نیچے تصویر دیکھیں




یہاں چیٹ پر کلک کر کے آپ انفرادی طور پر اپنے ایڈ کئے ہوئے تمام لوگوں یا آفیشل اکاؤنٹ والوں میں سے کسی کو بھی کلک کر کے اس سے چیٹ کر کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں



اوپر جہاں چوکور ڈاٹس پر تیر کا نشان ہے وہاں کلک کر کے آپ اپنا گروپ تشکیل دے سکتے ہیں ۔۔۔۔ نیچے تصویر دیکھیں




خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں

منگل، 3 فروری، 2015

نوٹو کا کمال ۔۔ اردو دانو ڈالو اب دھمال

انٹرنیٹ کی دنیا میں تحریری اردو نے 2010 سے 2014 کے درمیان اتنی تیزی سے ترقی کی ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔اردو کے چاہنے والوں نے اپنے شب و روز کی محنت سے جہاں مفت اردو کے مختلف ڈیکسٹاپ اور ویب کے سوفٹ وئیر بنا ڈالے وہاں اردو فونٹ بنانے والوں نے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑی۔ عربی اور فارسی فونٹ بنانے والوں نے بھی اردو فونٹ بنانے والوں کی تکنیکی مدد کی ۔

فونٹ کے گھرانوں میں نسخ فونٹ کے موجود ہوتے ہوئے بھی نستعلیق فونٹ کی شدت سے ضرورت محسوس ہوتی رہی ۔آخر کار 2010 کے بعد سے حکومتی اداروں سمیت انفرادی طور پر بھی چند ایک خوبصورت نستعلیق فونٹ وجود میں آگئے ۔جن میں پاک نستعلیق ، جوہر نستعلیق ، گوہر نستعلیق ، علوی نستعلیق ، حسینی نستعلیق ، نفیس نستعلیق اور جمیل نوری نستعلیق قابل ذکر ہیں ۔

اگر ان سب میں ایک اچھے مکمل اور خوبصورت نستعلیق فونٹ کا موازنہ کیا جائے تو ‘‘ جمیل نوری نستعلیق ‘‘ کا کوئی جوڑ نہیں ہے ۔اور یہ جمیل نوری نستعلیق ہی ہے جو آج بھی ویب کی دنیا پر چھایا ہوا ہے ۔اردو کی بہت سی ویب سائٹ آج بھی یہی فونٹ استمال کر رہی ہیں ۔

ان بنائے گئے تمام نستعلیق فونٹ کی سب سے بڑی جو خامی ہے وہ یہ کہ یہ حجم میں بہت بڑے ہیں ۔ان میں جمیل نوری نستعلیق فونٹ سمیت کوئی بھی ایسا فونٹ نہیں ہے جو حجم میں دس میگا بائٹ ( دس ایم بی ) سے کم ہو ۔اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی سپیڈ کم ہونے کی وجہ سے یہ ایک تو ڈاؤنلوڈ ہونے میں وقت لیتے ہیں دوسرا یہ ویب فونٹ کے طور پر استمال بھی نہیں کئے جاسکتے ۔ویب فونٹ کی جہاں تک بات آتی ہے تو کاپی رائٹس اور حجم کے لحاظ سے ان میں سے کوئی فونٹ ایسا نہیں ہے جو کو کہ گوگل لیب کے معیار پر پورا اترتا ہو۔اور ویب ایمبینڈ کے طور پر استمال ہوسکے ۔

نوٹو نستعلیق اردو ڈرافٹ فونٹ کے بنانے والے بہداد صاحب ہیں جن کا تعلق ایران سے ہے اور آجکل وہ کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں ۔ بہداد نے نوٹو گھرانے کے جہاں دنیا کی اور بہت سی زبانوں میں مفت فونٹ تیار کئے ہیں وہاں انہوں نے اردو کا یہ نوٹو نستعلیق اردو فونٹ بھی بنایا ہے جو کہ نستعلیق میں ویب کا ایک بہترین فونٹ ہے۔نوٹو نستعلیق اردو فونٹ گو کہ ابھی بالکل مکمل نہیں ہے مگر اس کی بہتری پر کام جاری ہے ۔اس فونٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں اردو کے علاوہ پنجابی ، کشمیری اور فارسی کی سپورٹ بھی شامل ہے ۔

نوٹو نستعلیق اردو ( ڈرافٹ فونٹ ) ایک بہترین اور تیزرفتار نستعلیق فونٹ ہے جو کہ ویب ایمبینڈ کے طور پر استمال کیا جاسکتا ہے اور جارہا ہے ۔اس کی مثال میرا بلاگ ہے ۔اس کا حجم صرف دوسو بیاسی کلوبائٹ ( ٢ سو بیاسی کے بی ) کے قریب ہے اور یہ کاپی رائٹس کے لحاظ گوگل لیب کے معیار پر پورا اترتا ہے اور آجکل نوٹو فونٹ گھرانے کے تمام فونٹس کے ساتھ یہ بھی گوگل لیب کی زینت بنا ہوا ہے ۔دیکھا جائے تو یہ جمیل نوری نستعلیق کی طرح خوبصورت تو نہیں ہے مگر اتنا بد صورت بھی نہیں کہ اس کی جگہ نہ لے سکے۔

نوٹو نستعلیق اردو ڈرافٹ فونٹ کے بارے میں جاننے کے لئے آپ اس صفحے کا معائنہ کرسکتے ہیں ۔۔۔ یہاں کلک کریں


نوٹو نستعلیق اردو فونٹ کو اپنی ویب سائٹ پر استمال کرنے کے لئے ذیل میں دئے گئے کوڈ کاپی کر کے اپنی سٹائل شیٹ میں پیسٹ کر لیں ۔اور اگر آپ گوگل لیب میں یہ کوڈ دیکھنا چاہتے ہوں تو یہاں کلک کریں



@import url(http://fonts.googleapis.com/earlyaccess/notonastaliqurdudraft.css);



سٹائل شیٹ کی فونٹ فیملی کے ٹیگ میں نیچے دئے گئے فونٹ فیملی ٹیگ استمال کریں


font-family: 'Noto Nastaliq Urdu Draft', tahoma, serif;



سوال ۔ ویب ایمبینڈ فونٹ کیا ہے اور یہ کیا کام کرتا ہے
جواب ۔ اس فونٹ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور جونہی کوئی قاری ویب ایمبینڈ فونٹ والی ویب سائٹ کا وزٹ کرتا ہے تو وہ فونٹ خودبخود اس کے کمپیوٹر کی عارضی فائلوں میں انسٹال ہوجاتا ہے جس سے وہ قاری ویب صفحات کو ایسے ہی فونٹ میں دیکھتا ہے جس فونٹ میں آپ اسے دکھانا چاہتے ہیں ۔