اتوار, فروری 8, 2015

ایکسپو سنٹر لاہور کے کتب میلے میں ایک شام

ہمارے آنے پر مزے سے چائے کی چسکیاں لیتا وہ نوجوان لڑکا ایسے گھبرا کے اٹھا جیسے ہم نے اسے کوئی چوری کرتے پکڑ لیا ہو ۔میں نے اسے سختی سے سامنے بیٹھے رہنے کا کہا اور پوچھا کہ کیوں اُٹھ کر جانے لگے تھے ۔۔ کیا غریب آدمی ہو اس لئے ؟
کہنے لگا۔۔جی ہاں ۔۔۔۔ میں نے پھر اسے کہا کہ بس تم بیٹھے رہو اور سکون سے چائے پیئو ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کی وجہ سے آنے والی نمی کو میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔میں نے جلدی سے اس کی ایک تصویر بنا لی ۔میری نظر میں یہ تصویر ایکسپو سنٹر لاہور میں کتابوں کے میلے کی قیمتی ترین تصویر ہے ۔

سردیوں میں صرف ایک بنیان اور قمیض پہنے وہ لڑکا ایک نہایت غریب ، محنتی شریف اور ایماندار گھرانے کا ایک فرد دکھائی دے رہا تھا جو کتابوں کے اس میلے میں شاید اپنی منزل کا تعین کرنے آیا ہوگا۔اس کا سلیقہ اس کے چائے پینے اور اس کے سامنے پڑے ٹی بیگ کو لکڑی کے چمچ سے لپیٹنے سے ظاہر ہورہا تھا ۔ چائے پینے کے بعد پھر اس نے جس طرح اپنے خالی چائے کے کاغذی کپ کے ساتھ اپنے سامنے میز پر پڑے لکڑی کے چمچ میں لپٹے ٹی بیگ کو اٹھا کر سامنے ڈسٹ بن میں پھینکا، اس سے اس کا سلیقہ مند اور تہذیب یافتہ ہونا ظاہر ہو رہا تھا ۔
اسے دیکھ کر مجھے لکھی پڑھی کتابوں کا کہا لکھا سب ایویں ہی لگ رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا تہذیب کتابوں کے علم کی محتاج ہے ؟

لاہور ایکسپو سنٹر جوہر ٹاؤن میں کتابوں کے میلے کا آج چوتھا دن تھا۔اتفاق کی بات یہ تھی کہ ہمارے ایک محترم اردو بلاگر ساجد بھائی نے فیس بک کے مشترکہ دوست اقبال مغل صاحب ، عاطف بٹ بھائی اور دیگر دوستوں کی دعوت کا پروگرام ترتیب دیا ہوا تھا۔جبکہ دوستوں کو دوپہر ایک بجے اکھٹے ہونے کی جگہ کا تعین ساجد بھائی نے نئی اور پرانی انارکلی کے درمیان حافظ جوس کارنر جسے عرف عام میں ‘‘ بھونڈی والا چوک ‘‘ بھی کہا جاتا ہے پر کیا تھا۔

ایک بجنے سے چند منٹ پہلے میں ‘‘ بھونڈی والا چوک ‘‘ پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ساجد بھائی اور اقبال مغل بھائی سر جوڑے آپس میں رازو نیاز میں مصروف تھے ۔سلام دعا کے بعد میں نے عاطف بٹ صاحب کا پوچھا تو ساجد بھائی کا کہنا تھا کہ انہیں شادی کے سلسلہ میں جانا پڑ گیا ہے اس لئے ان کا آنا نہیں ہو گا۔۔۔ تھوڑی دیر ہم نے ادھر بیٹھ کر باتیں کی اور پھر اس ڈر کی وجہ سے وہاں سے اٹھ گئے کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے یہ علیحدہ بات ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ ‘‘ اسی ایڈے چنگے وی نہی ‘‘ ہم اتنے اچھے بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

پرانی انارکلی کے بہترین ہوٹل یاسر بروسٹ میں ساجد بھائی نے ہماری تواضع مٹن کڑاہی سے کی ۔اس کے بعد طے یہ پایا کہ ایکسپو سنٹر میں کتابوں کے میلے میں جایا جائے اور وہاں سے ادبی کتابوں سمیت علم کے خزانے خریدے جائیں اور ہم بھی لوگوں کو پڑھے لکھے اور ادب و آداب والے نظر آئیں تاکہ ہم سے کسی کی بے ادبی نہ ہو ۔

جب ہم کتابوں کے اس میلے میں پہنچے تو واقع میں وہاں ایک خوبصورت میلہ سجا تھا۔رنگ برنگے آنچل چاروں طرف لہرا رہے تھے ، زیادہ تر سٹالز میں لڑکیاں براجمان تھیں ۔ہم تینوں اس میلے میں ایسے پھرنے لگے جیسے انسانوں کے جنگل میں عرصہ دراز سے بندھے ہوئے بکروں کی رسی کو کھولا گیا ہو ۔

ہم نے کتابوں کے اس میلے میں بہت سی ادبی اور علمی کتابوں کو کھنگالا ، کبھی اس سٹال کی طرف جا اور کبھی اس طرف ۔۔۔ لوگوں کو بھی دیکھا ۔۔۔ لوگ کتابوں کوکم اور آس پاس کو زیادہ دیکھ رہے تھے ۔غرض ایکسپو سنٹر کے دونوں ہال ہم نے کھنگال مارے ۔۔۔۔کتابیں تو بہت سی تھیں ۔۔۔۔ مگر ہمیں نہ علم ملا نہ ادب ۔۔۔۔۔

مکمل تصاویر دیکھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

[gallery link="file" ids="1844,1845,1846,1847,1848,1849,1850,1851,1852,1853,1854,1855,1856,1857,1858,1859,1860,1861,1862,1863,1864,1865,1866,1867,1868,1869,1870,1871,1872,1873,1874,1875,1876,1877,1878,1879,1880,1881,1882"]

1 تبصرہ:

  1. محمد اقبال مغلفروری 9, 2015 11:37 AM

    شیخو جی !
    جنہوں نئیں سی پتا تُسی اونہوں وی دس دتا کہ کل اسی کتھے کتھے ( جوس کارنراں ( تے کیہ کیہ کردے رھئے آں

    جواب دیںحذف کریں