بدھ، 13 مئی، 2015

بھونڈوں اور بھونڈی سے بچیں

بھونڈ ایک ایسا اُڑنے والا کیڑا ہے جو اگر انسان کے اند اپنا ڈنگ گھسیڑ دے تو انسان کی چیخیں نکل جاتی ہیں ۔کچھ لوگ اسے بھِڑ اور ڈیمو کے نام سے بھی پکارتے ہیں ۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں اسے اپنی زبان کے حساب سے اور بہت سے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے ۔

ویسے تو بھونڈ بہت سی قسموں کے ہوتے ہیں مگر تین قسم کے بھونڈ زیادہ مشہور ہیں ۔ پیلا ۔۔۔ براؤن اور پیلا ( دو رنگا ) ۔۔۔۔ تیسرا کالے رنگ کا
کالے رنگ کا بھونڈ دیکھنے میں جتنا خطرناک ہوتا ہے اتنا اس کا ڈنگ خطرناک نہیں ہوتا جبکہ پیلے اور براؤن پیلے رنگ کے بھونڈوں کے ڈنگ زیادہ خطرناکی لئے ہوتے ہیں ۔بڑے بوڑھے اور سیانے برؤن اور پیلے یعنی دورنگی بھونڈ کا ڈنگ زیادہ خطرناک بتاتے ہیں ۔

shehad-ki-makhiشہد کی مکھی کا ڈنگ بھی انتہائی خطرناک ہوتا ہے کچھ لوگ اسے بھونڈی بھی کہتے ہیں ۔کچھ سیانے بھونڈ اور شہد کی مکھی کے ڈنگ میں شہد کی مکھی کو زیادہ خطرناک بھی بتاتے ہیں ۔

بھونڈ کو پنجابی میں پونڈ بھی کہا جاتا ہے ۔پنجاب میں لڑکیوں کے آس پاس مسلسل چکر لگانے والے لڑکے کو بھی پونڈ ( بھونڈ ) کے نام سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ایسا کرنے کو پونڈی کرنا بھی کہتے ہیں ۔ یہ پونڈ ( بھونڈ ) اسکول اور کالجوں کے باہر بکثرت پائے جاتے ہیں ۔اسی پونڈ کو تہذیب یافتہ انداز اور شاعروں کی زبان میں بھنورا بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ پونڈی میں تہذیب کہاں ؟

کہا جاتا ہے کہ بھونڈ یا شہد کی مکھی جب ڈنگ مارتی ہے تو جہاں ڈنگ مارا جاتا ہے وہاں شدید قسم کی درد کی لہریں چلنا شروع ہوجاتی ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں بھونڈ یا شہد کی مکھی کے ڈنگ مارتے ہی کئی لوگوں کو تو چیخیں ( چانگریں ) مارتے بھی دیکھا گیا ہے ۔
آج کل چونکہ بھونڈوں کا سیزن شروع ہو چکا ہے ۔ پھلوں کی ریڑھیوں کے آس پاس درجنوں بھونڈ آپ کو بھنبھناتے نظر آئیں گے ان میں سے کچھ شرارتی بھونڈ لوگوں کی شلوار قمیض کے اندر بھی گھس جاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ بیچارے شلوار قمیض اتار کر ننگے چانگریں مار کر بھاگتے نظر آتے ہیں ۔

اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو گھبرائیے گا نہیں ۔۔۔۔
جب بھی آپ یا کسی کو بھونڈ ، شہد کی مکھی کاٹے یعنی ڈنگ مارے تو فوری طور پر پٹرول لے کر اُس ڈنگ والے حصے یعنی متاثرہ جگہ پر اچھی طرح مل لیں ۔۔۔ چند ہی لمحوں بعد ڈنگ کا اثر زائل اور درد ختم ہوجائے گا ۔
راہ چلتے ہوئے عموماً پٹرول پاس نہیں ہوتا ایسی صورت میں کسی موٹر سائکل والے کوروک کر اس سے تھوڑا پٹرول لے کر فوری طور پر متاثرہ جگہ پر اچھی طرح مل لیں ۔یاد رہے کہ یہ ہمارا آزمایا ہوا نسخہ ہے اور اسے ہم نے سوفیصد کار آمد پایا ہے ۔ہم نے اس نسخے کو بچھو اور سانپ کے کاٹے کے علاوہ تمام چھوٹے موٹے کیڑوں کے کاٹنے پر استمال کیا ہے اور اسے سو فیصد کارآمد پایا ہے ۔

سوموار، 4 مئی، 2015

ڈینگی سرکار اور اس کے مریدوں سے بچاؤ کا ٹوٹکہ

انڈین فلموں کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کا ایک مشہور ڈائلاگ تھا کہ ‘‘ سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے ‘‘ اس وقت تو شاید لوگوں کو اس فقرے کی سمجھ نہ آئی ہو مگر جب سے ہمارے ملک میں ڈینگی مچھر نے دھاوا بولا ہے ۔۔ بہت سوں کو اس کی سمجھ آ گئی ہے اور بہت سے تو مچھر کا نام سن کے خوف سے تھر تھر کانپنے بھی لگ جاتے ہیں ۔

لوگوں کی تو بات دور کی ٹھرتی ہے ہم بذات خود مچھر سے بڑا ڈرتے ہیں ۔ یہ ڈر ہمیں اس وقت سے پیدا ہوا جب ڈینگی سرکار نے لاہور میں پہلی دفعہ دھاوا بول کے ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے کر ادھ موا کر دیا تھا۔تب سے اب تک ہم ایک ‘‘ عام مچھر ‘‘ ( ڈینگی سرکار کا مرید ) کو بھی جہاں دیکھ لیں ہمیں اس پر ڈینگی کا ہی گمان ہوتا ہے اور ہماری پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ سب کام چھوڑ کے پہلے اس کو پھڑکا دیں ۔۔۔ کیونکہ اگر ہم نے اس کو نہیں پھڑکایا تو یہ ہمیں پھڑکانے میں دیر بالکل نہیں لگائے گا ۔

دوسرے بہت سے سیانوں کی طرح ہم نے بھی مچھروں کو بھگانے کے لئے بہت سے ٹوٹکے آزمائے ہیں مگر سب بیکار ۔ ہزاروں روپے مچھر مار سپرے ، کوائل ، آئل ، کریم اور دیگر چیزوں پر ضائع کرنے کے باوجود شام پڑتے ہی یہ ‘‘ ڈھیٹ مچھر ‘‘ ہمارے کانوں میں کسی گندے اور غلیظ سیاستدان کی طرح بھوں بھوں کرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔

lemon-02چند دن پہلے ہماری بچی نے کہیں سے پڑھا ہوا ہمیں ایک ٹوٹکہ بتایا جو کہ ‘‘ ایک عدد لیموں اور چند لونگ ‘‘ پر مشتمل تھا ۔پہلے تو ہم نے سوچا کہ یہ بھی بس ایویں ہی ہوگا ۔ ہم نے اتنی بڑی بڑی کیمپنیوں کے مہنگے مہنگے سپرے تک استمال کر لئے اس سے کچھ نہیں بنا تو بھلا اس سے کیا ہوگا ۔ پھر سوچا کہ چلو اس میں کونسا زیادہ خرچہ آتا ہے ، آزما لیتے ہیں ۔۔ سو لیموں والے ٹوٹکے کو آزمایا گیا اور شدید حیرت ہوئی کہ پوری رات میں ایک بھی مچھر کمرے میں نظر نہیں آیا۔

ایک عدد تازہ لیموں لیجئے اور اسے درمیان میں سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر لیں ۔۔۔ کسی بھی ایک ٹکڑے پر چار یا پانچ لونگ لگا کر کمرے میں رکھ دیں ۔۔۔۔۔پُرسکون نیند سونے پر ہمیں دعائیں دیں کیونکہ اب آپ کے کمرے میں ڈینگی اور اس کے مریدین ( عام مچھر ) کا داخلہ ممنوع ہوچکا ہے ۔