جمعرات، 22 دسمبر، 2016

چل گشتی

بابو جی بچے بھوکے ہیں ۔۔۔۔ اللہ کے نام پہ کچھ دے دو نا

جاؤ بی بی جاؤ ۔۔۔ ہٹی کٹی ہو ۔۔۔ سوہنی ہو ۔۔۔۔محنت کرو ۔۔۔کسی کے گھر کا کام کاج کر کے عزت کی روزی کماؤ

بابو جی دے دو نا ۔۔۔اللہ کے نام پر مانگ رہی ہوں ۔۔۔ 

چل گشتی ! کہیں اور جا کہ مانگ ۔۔۔

سبز اشارہ کھلتے ہی لگزری کار میں ساتھ بیٹھی اپنی خوبرو بیوی سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جانو ! یاد ہے نا آج ایک بڑی پارٹی میں جانا جہاں سارے بڑے بڑے افسر اور سیاستدان آرہے ہیں ۔۔۔۔۔ 

ذرا اچھی طرح تیار ہونا
شیخو

جمعہ، 18 نومبر، 2016

کیا آپ میں مردانہ طاقت کی کمی ہے ؟

کیا آپ میں مردانہ طاقت کی کمی ہے ؟
کیا کسی خاتون کو لیکوریا کی بیماری ہے ؟
سنگھاڑے کھائیں ۔۔۔ اور مزے کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نیز
بابا جی کی تجربہ کارانہ اور حکیمانہ باتیں غور سے سنیں اور اپنی زندگی سنواریں ۔۔۔۔۔ اگر آپ پرسکون انداز میں وڈے بابا جی کی دس منٹ کی یہ باتیں سن لیں اور ان پر عمل کر لیں تو آپ اپنی زندگی کو صحیح راستے پر ڈال سکتے ہیں




بدھ، 16 نومبر، 2016

پرانی چیزیں بیچنے کا کاروبار کریں

پرانی چیزیں بیچنے کا کاروبار کریں
دو کی چیز سو میں بیچ کر دنوں میں لکھ پتی ہو جائیں
حلال بیچیں ، حلال کمائیں اور حلال کا کھائیں



منگل، 15 نومبر، 2016

اتوار، 6 نومبر، 2016

قبرستان میں ہیرا منڈی ( چکلہ ) ۔۔ پہلا حصہ ۔۔۔

شہر خموشاں میں کوئی جن بھوت نہیں ہوتے یہ سب فرضی باتیں ہیں ۔۔۔۔مردے بھلا کسی کو کیا کہہ سکتے ہیں انہیں تو اپنے حساب کی فکر پڑی رہتی ہے ۔۔۔۔۔ہاں زندہ انسانوں نے وہاں چکلے ضرور کھول لئے ہیں ۔۔۔ کیونکہ وہاں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔۔ نہ جن بھوت ۔۔۔ نہ مردے اور نہ ہی مردہ دل حکمران ۔۔۔۔
آج ویڈیو بلاگ کا اس سلسلہ میں پہلا حصہ پیش کیا جارہا ہے جلد ہی کل یا پرسوں اس کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا۔۔۔۔ دیکھنا نہ بھولئے گا ۔۔۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی


قرآن کریم کی ایک بہترین ایپ ۔۔۔اینڈرائیڈ اور آئی فون کے لئے

قرآن کریم کی ایک بہترین ایپ ۔۔۔اینڈرائیڈ اور آئی فون کے لئے
قرآن پڑھیں ، سمجھیں اور اس پر عمل کریں


سنؤ ! عوام کیا کہتی ہے

بلاگ رپورٹر ۔۔۔ نیر احمد شکوہ
نوٹ ۔۔۔ گفتگو عام پنجابی زبان میں ہے اور پنجاب خصوصاً لاہور کے گلی محلوں میں ایسی ہی پنجابی زبان کا استمال ہوتا ہے جس میں حد سے زیادہ بے تکلفی ہو ۔۔۔۔اور جہاں بے تکلفی سے گفتگو ہوگی وہاں میٹھی گالی گلوچ بھی ضرور ہوگی ۔۔۔۔۔۔ بلاگ کے اسلوب کے لحاظ سے گفتگو کو جوں کا توں رہنے دیا گیا ہے


منگل، 2 اگست، 2016

گاؤماتا کا احترام کیجئے ۔۔۔ ہند کے مسلمانوں سے اپیل

گاؤماتا کا احترام کیجئے ۔۔۔ ہند کے مسلمانوں سے اپیل
وہ اپنے مذہب کے ساتھ جتنا جی چاہے کھلواڑ کریں مگر آپ احترام کا دامن نہ چھوڑیں



اتوار، 31 جولائی، 2016

اپنے بچوں کو ‘‘ گے ‘‘ ہونے سے بچائیں

پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
اپنے بچوں کو nick کارٹون چینل سے بچا کر رکھیں ۔۔۔یہ نہ ہو کہ کل کلاں کو آپ کے بچے بھی ، gay کہلوائیں ۔۔۔دنیا نے پہلے مسلمانوں کو دہشت گرد بنایا ان نئی جنریشن کو GAY بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ۔۔۔بچا لو اپنے بچوں کی پیٹھوں کو ۔۔۔۔ پھر آنکھوں میں گھسن ( مکے ) دے کر واویلا مت مچانا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا


منگل، 19 جولائی، 2016

اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن

اپنے موبائل فون سے بہت آسانی سے اردو میں لکھیں ۔۔جدید ایڈیشن
ویڈیو کو بڑا کر کے دیکھیں ۔۔۔ آپ کو سمجھنے میں آسانی رہے گی



جمعہ، 15 جولائی، 2016

مجھے خط ملا ہے غنیم کا



مجھے خط ملا ہے غنیم کا
بڑی عجلتوں میں لکھا ہوا
کہیں رنجشوں کی کہانیاں
کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ

مجھے کہہ دیا ہے امیر نے
کرو حسنِ یار کا تذکرہ
تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن
کہو حاکموں کو برا بھلا

تمہیں فکرِ عمرِ عزیز ہے
تو نہ حاکموں کو خفا کرو
جو امیرِ شہر کہے تمہیں
وہی شاعری میں کہا کرو

کوئی واردات کہ دن کی ہو
کوئی سانحہ، کسی رات ہو
نہ امیرِ شہر کا ذکر ہو
نہ غنیمِ وقت کی بات ہو

کہیں تار تار ہوں عصمتیں
مرے دوستوں کو نہ دوش دو
جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر
تو نہ کوتوال کا نام لو

کسی تاک میں ہیں لگے ہوئے
مرے جاں نثار گلی گلی
ہیں مرے اشارے کے منتظر
مرے عسکری، مرے لشکری

جو تمہارے جیسے جوان تھے
کبھی میرے آگے رکے نہیں
انہیں اس جہاں سے اٹھا دیا
وہ جو میرے آگے جھکے نہیں

جنہیں جان و مال عزیز تھے
وہ تو میرے ڈر سے پگھل گئے
جو تمہاری طرح اٹھے بھی تو
انہیں بم کے شعلے نگل گئے

مرے جاں نثاروں کو حکم ہے
کہ گلی گلی یہ پیام دیں
جو امیرِ شہر کا حکم ہے
بِنا اعتراض وہ مان لیں

جو مرے مفاد کے حق میں ہیں
وہی عدلیہ میں رہا کریں
مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں
سبھی فیصلے وہ ہوا کریں

جنہیں مجھ سے کچھ نہیں واسطہ
انہیں اپنے حال پہ چھوڑ دو
وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب
انہیں گردنوں سے مروڑ دو

وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں
انہیں زر کا سکہّ اچھال دو
جنہیں اپنے درش عزیز ہوں
انہیں کال کوٹھی میں ڈال دو

جو مرا خطیب کہے تمہیں
وہی اصل ہے اسے مان لو
جو مرا امام بیاں کرے
وہی دین ہے سبھی جان لو

جو غریب ہیں مرے شہر میں
انہیں بھوک پیاس کی مار دو
کوئی اپنا حق جو طلب کرے
تو اسے زمیں میں اتار دو

جو مرے حبیب و رفیق ہیں
انہیں خوب مال و منال دو
جو مرے خلاف ہیں بولتے
انہیں نوکری سے نکال دو

جو ہیں بے خطا، وہی دربدر
یہ عجیب طرزِ نصاب ہے
جو گنہ کریں، وہی معتبر
یہ عجیب روزِ حساب ہے

یہ عجیب رت ہے بہار کی
کہ ہر ایک زیرِ عتاب ہے
’’کہیں پر شکستہ ہے فاختہ
کہیں زخم زخم گلاب ہے‘‘

مرے دشمنوں کو جواب ہے
نہیں غاصبوں پہ شفیق مَیں
مرے حاکموں کو خبر کرو
نہیں آمروں کا رفیق مَیں

مجھے زندگی کی ہوس نہیں
مجھے خوفِ مرگ نہیں ذرا
مرا حرف حرف، لہو لہو
مرا لفظ لفظ ہے آبلہ

ڈاکٹر سید صغیر صفی​

پیر، 23 مئی، 2016

شب برات ، پٹاخے ، مہنگائی اور ہماری عبادات ۔۔۔۔۔ ہم پر کیا بیتی ، ایکبلاگر کی تازہ کہانی


جادو ٹونے سفلی علم پر ایک نظر ۔۔۔ تعویز دھاگے اور پیر و فقیر ۔۔۔پہلا حصہ


کچھ باتیں ہیجڑوں ( خواجہ سراؤں ) کے بارے میں... یہ معصوم چڑیاں ہیں


لکھاری


مووی میکر سے ویڈیو بنانا اور ایڈٹ کرنا سیکھیں


جمعرات، 12 مئی، 2016

سعادت حسن منٹو پر ایک نظر

معاشرتی رویوں ، مسائل اور تحقیقی ادب پر اگر کسی ادیب کا مقام دیکھا جائے تو سعادت حسن منٹو پہلے نمبر کا ادیب کہلائے جانے کا حقدار ہے ۔۔۔گندے ذہن ، خود ساختہ مولویانہ ذہن کے نظریہ سے اگر دیکھا جائے تو منٹو کا ادب ایک غلاظت کا پلندہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اور اگر ادبی دنیا میں معاشرتی مسائل پر ادبی تحریروں کے معیار کو پرکھا جائے تو منٹو کی تحریریں سونے میں تولنے کے قابل ہیں ۔۔۔۔ اور اگر سیکسی نقطہ نظر سے منٹو کی تحریروں کو دیکھا جائے تو کمزور نفس والے حضرات کے لئے یہ اکسیر کا درجہ رکھتی ہیں۔

پیر، 9 مئی، 2016

بلاگروں کا ماما

پاکستان بنا ۔۔۔۔ لوگوں نے مل بانٹ کے کھایا ۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
بالکل نہیں۔۔۔
آدھا پاکستان بیچ دیا گیا ۔۔۔۔ تم نے اس پر روشنی ڈالی ؟
بالکل نہیں جی۔۔۔
سیاستدانوں نے رج کے ملک کو لوٹا اور پھر کھایا ۔۔۔۔ تم نے کچھ لکھا ؟
نہیں جی ۔۔۔
لوگوں نے زمینوں پر قبضے کر کے بنگلے بنا دیئے ۔۔۔ تم کچھ بولے؟
نہیں جی۔۔۔
لوگوں نے پاکستانی پیسوں سے سوئس بینک بھر دئے۔۔۔تم نے کچھ کہا
نہیں تو۔۔۔
اب پانامہ لیگ کا کٹا کھلا ۔۔۔ تمہیں تکلیف ہوئی ؟
بالکل بھی نہیں ۔۔میں نے اس کو معمول کی بات جانا ۔۔۔۔
اور یہ جو اب سیکرٹری مالیات بلوچستان کے اربوں ڈکارے سامنے آئے ۔۔۔ تمیں حیرت ہوئی ؟
حیرت تو دور کی بات میں نے اسے روز کا معمول جانا ۔۔۔
تو پھر ماما یہ معمولی سی بات پر اپنوں سے پنگا لینا کیا معنی ؟
بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ، تم مامے ہو بلاگروں کے ؟
نہیں ۔۔ بالکل بھی نہیں ۔۔
اگر بلاگروں کے مامے نہیں ہو تو مارو پھر نعرہ ۔۔۔ سانوں کی
جی بہتر ۔۔۔ مار دیا نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانوں کی

بدھ، 4 مئی، 2016

فارمیٹ فیکٹری سے اپنی آڈیو ، ویڈیو ، تصاویر کا فارمیٹ تبدیل کریں

فارمیٹ فیکٹری سے اپنی آڈیو ، ویڈیو ، تصاویر کا سائز ، فارمیٹ انتہائی آسانی سے اپنی مرضی کا کریں ۔۔۔نیز اس میں آپ ہر قسم کی ویڈیو کو اپنے موبائل میں دیکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں




کمپیوٹر میں سکرین ریکارڈنگ کرنے کا آسان طریقہ

کمپیوٹر میں سکرین ریکارڈنگ کرنے کا آسان طریقہ
خود بھی سیکھئے اور اپنا کام دوسروں کو سکھائیے



جمعہ، 29 اپریل، 2016

گشتی اور کنجری میں فرق

گشتی اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ۔۔۔ چکر لگانا یا مارا مارا پھرنا کے ہیں۔۔بعد آزاں یہ لفظ اور دوسرے بہت سارے فارسی الفاظ کی طرح اردو میں بھی رائج ہو گیا۔۔۔۔اس کے معنی وہی رہے۔۔

۔۔۔"" گشتی "" لفظ اردو زبان میں ایک عزت والا لفظ ہے جس کے عام معانی یہ ہیں کہ ایک مخصوص جگہ یا علاقے کے گرد چکر لگانا۔۔۔۔۔جیسے گشی پولیس یا گشتی پارٹی ۔۔۔۔جیسا کے گاؤں کے یا شہر کے لوگ بدامنی ، چوروں ڈاکؤں سے بچاؤ کے لئے چار پانچ یا دس پر مشتمل افراد کا ایک جتھا تشکیل دیتے ہیں جو علاقے کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے ۔۔۔۔ اسے گشتی پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔
تمام محکموں میں یا جگہوں پر ایک ہی مراسلے کو بانٹنے کو گشتی مراسلہ بھی کہا جاتا ہے۔

گشتی لفظ اپنے نام کی وجہ سے مونث ہونےکا تاثر چھوڑتا ہے مگر یہ اسم نکرہ ہے ۔

ہماری پنجابی زبان ذرا وکھری ٹائپ کی ہے۔۔۔ اس کی مثالیں اندر خانے چبھنے کے ساتھ ساتھ سچائی کے اظہار میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔

پنجابی میں گشتی ایک غلیظ گالی ہے۔مگر اس غلاظت کے باوجود پنجابی گھرانوں کے ساٹھ فیصد سے زائد گھروں میں گشتی لفظ کا استمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔

پنجابی میں گشتی اس عورت کو کہتے ہیں جو شریفانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے غلط کاموں میں ملوث ہو ۔۔۔یعنی یوں جانئے کہ گشتی شریفوں کے محلات کی ہی عورتوں میں سے کوئی عورت ہوتی ہے۔۔۔۔

پنجاب خاص کر لاہور میں آپ کو بس اسٹاپ ، سکول سٹاپ ، بازار یا راہ چلتے کبھی بھی کسی گشتی سے پالا پڑ سکتا ہے۔۔۔۔ نقاب کئے ہوئے کالے رنگ کا مخصوص برقعہ ان کی پہچان ہے۔۔۔۔بعض گشتیوں کو چادروں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

اسی طرح شریفوں کے محلے کے ایک ہی گھر میں بہت ساری یا چند عورتوں کے اکھٹا ہو کر جسم فروشی کے کاروبار کرنے والی جگہ کو "" گشتی خانہ "" بھی کہا جاتا ہے۔

گشتی کی نسبت کنجری ایک عزت دار خاتون ہوتی ہے۔اس کے قول و فعل میں نہ ہی کوئی تضاد ہوتا ہے اور نہ ہی وہ منافقت سے بھری ہوتی ہے۔کنجری کو سب لوگ کنجری ہی کہتے اور سمجھتے ہیں ۔اسے اپنے پیشے سے دکھ تو ہوتا ہے مگر شرمندگی نہیں ۔۔۔

دوسری جانب اگر ہم گشتی کے قول و فعل اور کردار کا جائزہ لیں تو یہ کنجری سے زیادہ خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ یہ اپنے گندے اور عیاش ذہن کی وجہ سے ایک شریف معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے ۔۔۔ اس کا ذہن ایک کنجری کی نسبت انتہائی غلیظ ، شاطر اور مکارانہ ہوتا ہے۔یہ کسی بھی وقت اپنے کسی بھی پیارے فرد ۔۔۔۔ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن ، خاوند بیٹے یا بیٹی کو دغا دے سکتی ہے۔

بدھ، 27 اپریل، 2016

ہم اہل قلم کیا ہیں ؟





ہم اہل قلم کیا ہیں ؟
اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
یہ شکل یہ صورت ہے، سینوں میں کدورت ہے
آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسے کی ضرورت ہے
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
اپنا ہی بَھرم لے کر، اپنا ہی قلم لے کر
کہتے ہیں …کہ لکھتے ہیں، انسان کا غم لے کر
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
تابع ہیں وزیروں کے، خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اَسیروں کے، دشمن ہیں فقیروں کے
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
اَوصاف سے عاری ہیں ، نُوری ہیں نہ ناری ہیں
طاقت کے پُجاری ہیں ، لفظوں کے مداری ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
تصویرِ زمانہ ہیں ، بے رنگ فسانہ ہیں
پیشہ ہی کچھ ایسا ہے، ہر اِک کا نشانہ ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
رَہ رَہ کے ابھرتے ہیں ، جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنے کی جو باتیں ہیں ، کہتے ہوئے ڈرتے ہیں
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
بے تیغ و سناں جائیں ، با آہ و فغاں جائیں
اس سوچ میں غلطاں ہیں ، جائیں تو کہاں جائیں ؟
ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟
۔
شورش کاشمیری ۔۔

پیر، 18 اپریل، 2016

فیس بک سے پیسے کمانے کے انتہائی آسان طریقے

آج میں آپ کو بتاؤن گا کہ فیس بک سے کتنی آسانی کے ساتھ ہزاروں روپے مہینہ کمائے جا سکتے ہیں ۔۔۔اگر آپ نیک نیت ، ایماندار اور محنتی ہیں تو میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ انشاءاللہ آپ فیس بک سے ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کما سکتے ہیں ۔۔۔۔ مکمل تفصیل کے لئے پرسکون ہو کر ویڈیو دیکھئے اور سنئے ۔۔۔۔۔۔اس کے بدلے میں صرف دعائیں دے دیجئے گا ۔



جمعرات، 14 اپریل، 2016

مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟

مخصوص ایام جنسی خواہش کو کم نہیں کرتے ؟

کچھ روز پیشتر لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لڑکیوں نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے ساتھ خواتین سے وابستہ شرمندگی کے احساس اور تصورات کے خلاف احتجاج کیا۔جس میں انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر خواتین کے مخصوص ایام ( ماہواری ) پیریڈ میں استعمال ہونے والے پیڈز بڑی تعداد میں یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لگا دیئے اور ان کے اوپر خوشنما انداز میں یہ فقرے لکھ دئے کہ ۔۔۔۔۔۔

ماہواری کا ۔۔۔۔۔ ”خون گندہ نہیں ہوتا“ ۔۔۔
ہمارے مخصوص ایام ہماری جنسی خواہش کوکم نہیں کرتے، بلکہ بڑھاتے ہیں
اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟
ہمارے سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے ؟
پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے ؟
جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا انکو یہ مسائل نہیں ہوتے ؟
ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے ؟
جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو کیوں محسوس کروایا جاتا ہے اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے ؟
اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے
اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔
جب ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی ؟
ہمیں اس کو ایک نارمل چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔

سب سے پہلی بات کہ ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر کسی لڑکی کا دل کرتا ہے کہ وہ ماہواری پر بات کرے اور اس بارے لوگوں کو آگاہی دے تو اسے بالکل دینی چاہئے ۔۔۔۔۔ اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنا ماہواری والا پیڈ ، کپڑا ، ٹشو پیپر بغیر دھوئے انڈروئیر سمیت یونیورسٹی کی دیوار مہربانی پر لٹکا کر اس بارے آگاہی دیتیں۔۔۔۔۔۔۔مگر دیکھئے کیسا تضاد ہے کہ گندگی اور بدبو کے خوف سے انہوں نے ان کپڑوں اور اپنی پیٹھ کو مصنوعی لال رنگ سے رنگ و رنگ کیا اور تصویر کھنچوا کر سرخرو ہو گئیں ۔۔۔۔اگر یہی وہ کسی سہیلی کا ماہواری کے خون سے لتھڑا روئی کا گولہ یا کپڑا چوم چوم کر لوگوں کو آگاہی دیتیں تو عام خواتین کی سمجھ میں ان کی بات بھی آتی ۔۔

بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی لڑکیاں بالیاں کہتی ہیں کہ ماہواری کا ‘‘ خون گندا نہیں ہوتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ تو پی لو نہ اس خون کو ۔۔۔ کس نے روکا ہے ۔۔۔۔ کوئی فتوی لگائے تو تب بھی لعنت بھیج کر پی لو ۔۔۔۔

میں تو بار بار یہ کہتا ہوں کہ علم تہذیب نہیں سکھاتا بلکہ تہذیب ماں باپ ، گھر کا ماحول اور بعد آزاں معاشرہ سکھاتا ہے ۔۔۔۔ رہی بات جنسی تعلیم کی تو اس کی بھی ایک حد ہے اور اس کو سکھانے کا طریقہ بھی تہذیبانہ ہے ۔۔۔۔۔ جنسی تعلیم میں یہ نہیں ہوتا کہ میاں بیوی کے ذاتی تعلقات کا طریقہ سمجھاتے ہوئے اسے عملی کر کے بھی دکھایا جائے ۔۔۔۔ یعنی ‘‘ جدید معاشرے ‘‘ میں ایک مرد استاد ایک شاگرد لڑکی کو جنسی تعلیم کا لیکچر دے گا تو اسے عملی طریقے سے نہیں سمجھائے گا بلکہ تہذیب یافتہ انداز میں سمجھائے گا ۔۔۔۔۔۔

اصل میں ہمارے معاشرے کی جدید لڑکیاں بذات خود ننگا ہونا چاہتی ہیں ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم سڑکوں پر ‘‘ الف ننگا ‘‘ پھریں ۔۔۔ اور ہمیں چھیڑے بھی کوئی نا ۔۔۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔ ننگے پن کو دیکھ کر تو جانور بھی بپھر جاتے ہیں ۔۔۔۔ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے تو پھر انسان ہیں ۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کریں گے ۔

حیرت مجھے اس بات پر بھی ہے کہ دیکھو ۔۔۔۔ لڑکیوں نے ایشو بھی کونسا اُٹھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہہہ گندیاں ۔۔۔۔ آخ تھو ۔۔۔ او بندہ پوچھے یار جسم کے کسی اور جگہ کا ایشو بنا لو ۔۔۔۔دسو یار ۔۔۔ ماہواری کے خون کا ایشو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ذرا سونگھ کر تو دیکھو اپنا ماہواری کا خون ۔۔۔۔ سہیلی کا خون سونگھنا تو بعد کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔

اگر محبت کرنے والے کے پاس بیٹھے ہوئے پیٹھ میں سے گندی ہوا خارج کر دو نا تو اسے تمہاری ساری خوبصورتی بھول جائے گی ۔۔۔اگر وہ کچھ کھا رہا ہو گا تو اسے الٹیاں شروع ہوجائیں گی ۔۔۔

پہلے تو اس پر مکالمہ کیا جائے کہ عشق کرنے والے جوڑے ایک دوسرے کے سامنے گندے بدبودار ‘‘ پاد ‘‘ ہوا خارج کر سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کر سکتے ہیں تو آیا ہوا خارج کرتے ہی پیٹھ کے ساتھ منہہ لگانے سے جذبات کی شدت اور سیکس میں کتنا اضافہ ممکن ہے

-------------------------------------------
ہمارے ایک بہت محترم بلاگر جناب سلیم شانتو صاحب نے مخصوص ایام ( ماہواری ) کے حوالے سے کچھ تحقیقی مواد جمع کیا ہے ۔۔۔ جو میں اسی اپنی تحریر کے نیچے جوں کا توں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت آنے والی نسلوں کے کام آوے
-------------------------------------------

(5:25 AM - 29 Sep 2014)
کو ایک بدیشی خاتونہ (پروفائل سے اس کے علاوہ کچھ پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ بس کسی لبرل کی بہن ہے) نے عورتوں کی آبرو ریزی پر مردوں کی عدم دلچسپی اور بیزار رویئے کو عورتوں کی ماہواری سے جوڑ کر ایک ٹویٹ کیا جسے ہزاروں بار پڑھا اور پسند کیا گیا۔
(imagine if men were as disgusted with rape as they are with periods)
مارچ 2015 میں ایلن نامی ایک جرمن خاتون بلاگر نے اس ٹویٹ سے متاثر ہو کر اپنے ماہواری پیڈز پر کچھ تنبیہی، کچھ آگاہی اور بیشتربولڈ اور غیر مہذب پیغامات لکھے اور اپنے شہر
(Karlsruhe)
کے سارے در و دیوار پر چپکا دیئے۔ تاہم اس کی یہ حرکت قابل دست اندازی قانون ٹھہری اور اسے عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی اخبارات میں اس خبر کی پذیرائی کے بعد اسی ہفتے دہلی کی "جامعہ ملیہ اسلامیہ" کی طالبات نے ایلن کی اس انفرادی حرکت کو باقاعدہ تحریک کے طور پر اپنایا اور اپنی جامعہ میں اور جامعہ سے باہر دہلی مین راتوں رات نسوانی پیڈز پر عبارات لکھ کر جگہ جگہ پبلک مقامات پر لگا دیئے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات سے شہ پا کر کولکتہ کی جامعہ
(Kolkata’s Jadavpur University)
کی طالبات نے بھی اپنی جامعہ کی در و دیوار کو اپنے پیڈز پر اپنے دلی جذبات لکھ لکھ کر خوب سجایا۔
اس کے بعد بھی یہ سلسلہ دراز رہا تاہم "با جماعت" ایلن کی اس سنت کے احیاء کیلئے اس ہفتے پاکستان کے زندہ دلان لاہور کی کچھ کاکیوں نے ایلن کی اس سنت کی عملی ادائیگی کا عملی اہتمام کیا۔
سبب بننے والا ٹویٹ یہاں دیکھیں:
https://twitter.com/cutequeer96/status/516564388606521346
جرمنی کی ایلن کا تذکرہ یہاں دیکھیں:
http://www.buzzfeed.com/…/a-woman-is-writing-feminist-messa
دہلی کی خواتین کا کمال یہاں دیکھیں:
http://www.indiatimes.com/…/sanitary-pads-with-pro-women-me
کولکتہ کی جامعہ کی طالبات کے بیانات پیڈز پر لکھے ہوئے یہاں دیکھیں:
http://indianexpress.com/…/sanitary-pad-protest-spreads-to…/
لاہور کی کاکیوں کے کمالات یہاں دیکھیں
http://snaji.com/2016/04/14/mahwari/

جمعرات، 7 اپریل، 2016

انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج

اردو ہوم کا ایک سروے جو پانچ سالوں ( ٢٠١١ تا ٢٠١٦ ) پر محیط ہے ۔۔۔یہ سروے فروری ٢٠١١ میں شروع کیا گیا ۔۔۔ جس کے مختصر ترین نتائج آج میں اپنے بلاگ پر پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔

انسانی ذہن پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اس کے نتائج

انسان بہت جلد مذہبی ہوجاتا ہے ( چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو ) ۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد انتہا پسند مذہبی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
انسان بہت جلد دہریہ ( ملحد ) ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 20 پرسنٹ
انسان بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. 40 پرسنٹ
انسان معتدل رہنا سیکھ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 10 پرسنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ ۔۔۔ یہ تمام نتائج سوشل میڈیا فیس بک، گوگل پلس اور ٹویٹر کی تحریروں اور تبصروں سے اخذ کئے گئے ہیں ۔جن میں مختلف موضوعات کے تقریباً بارہ ہزارگروپس ، دس ہزار کے قریب ذاتی صفحات ، دوست و احباب اور ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ شامل ہیں

بدھ، 30 مارچ، 2016

درس نظامی میں گالیوں کا خفیہ مضمون

وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے لگتا یوں ہے جیسا کہ وقت کو پر لگ گئے ہوں ۔۔۔ پر بھی ایسے ویسے نہیں ۔۔۔ چمگادڑ کے ۔۔۔۔پچھلے دس سالوں سے ہم وقت کے بارے ہی گلہ کرتے چلے آئے ہیں ۔۔۔۔ مگر اب کہ کچھ ایسا ہے کہ ایک ہی وقت میں حادثات و واقعات کچھ اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ محسوس یوں ہوتا ہے ۔۔۔۔ وقت بھی جیسے تھک گیا ہو ۔۔۔۔

ابھی دھماکہ ہوتا ہے ۔۔۔ درجنوں لاشیں گرتی ہیں ساتھ ہی کسی کو چُل اٹھتی ہے وہ اپنا نیا پنگا شروع کردیتا ہے ۔۔۔۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں لاہور گلشن اقبال کے خوں ریز دھماکے اور مولویوں کے اضافہ شدہ مذہب ستائیسویں دن کو چالیسواں منا کر سامنے آئی ہے ۔۔۔۔ ویسے پہلے قل تیسرے دن ہوا کرتے تھے اب آج کل قل بھی دوسرے دن کر کے کھابے شابے کھا کر مردے کوثواب پہنچا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ چاہے بیچارا مردہ ساری عمر لوگوں کو تکلیف دیتا رہا ہو، لوگوں کا مال ہڑپ کرتا رہا ہو ۔۔۔ اس کو ثواب ضرور پہنچایا جاتا ہے ۔یہ ثواب اصل میں اس کو نہیں اپنے پیٹ کو پہنچایا جاتا ہے ۔۔۔

ویسے ایک بات مجھے بڑا دکھ دے رہی ہے کہ میں نے مذہب کو زیادہ کیوں نہیں پڑھا ۔۔۔۔ اگر یہ بات مجھے پتہ ہوتی کہ درس نظامی میں ان محترم حضرات نے غلیظ گالیوں کا بھی ایک خفیہ مضمون رکھا ہوا ہے تو میں یہ تعلیم ضرور حاصل کرتا ۔۔۔۔ صحافت اور دوائیوں کی خجل خواری سے تو بہتر ہوتا کہ اس سے مجھے کسی مزار کا ٹھیکہ مل جاتا ۔۔۔۔ اگر اور زیادہ محنت کرتا تو میں بھی گالیوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن لے کر عالم ، مفتی یا شیخ بن سکتا تھا ۔ ۔۔۔۔ بحرحال اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے صحیح جگہ رکھا ۔

عالمات اور علماء کرام بننے کے لئے درس نظامی کا چھ سالہ کورس لڑکیوں کے لئے اور آٹھ سالہ لڑکوں کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اور اسی طرح مفتی بننے کے لئے یعنی فقہ و فتاوی کی ریسرچ کے لئے دوسالہ مزید کورس کروایا جاتا ہے ۔اس کے بعد وہ مفتی بن جاتا ہے ۔بعد آزاں شیخ الحدیث بننے کے لئے احادیث مبارکہ کی درس و تدریس اور حافظہ حدیث کا مسنتد علم ہونا ضروری ہے ۔۔۔ اور اسی طرح شیخ التفسیر کہلانے کے لئے قرآن کریم کی مختلف تفاسیر کی درس و تدریس کا مستند علم ہونا ضروری ہوتا ہے ۔

اور ان لوگوں میں اپنے تئیں عالم ، مفتی ، شیخ الحدیث اور شیخ القرآن بھی موجود تھے ۔۔۔۔ اب جہاں ایسے لوگ موجود ہوں وہاں گالی دینا تو درکنار اس کا تصور بھی محال ہوتا ہے۔۔۔۔۔اب کیا وجہ ہے کہ ایسا ہوا ۔۔۔۔۔ یا تو یہ لوگ عالم نہیں تھے یا عالم کے مرتبے کے لائق نہیں ۔۔۔۔۔۔

کمال کی تو بات یہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے عالم ، مفتی ، شیوخ نے بھی آج تک عوام کو یہ ہوا نہیں لگنے دی کہ ان کے مذہب کے درس میں غلیظ گالیوں کا بھی ایک مضمون موجود ہے ۔۔۔۔۔اب جبکہ ہوا لگ چکی تو میں یہ سوچتا ہوں کہ کیوں نا میں بھی ایک گالیوں کا مقابلہ کروا ہی دوں جس میں ملک کے نامی گرامی عالم ، مفتی اور شیوخ حصہ لیں ۔۔۔۔۔ اوًل آنے والے معزز اصحاب کو میں گورنمنٹ اور ممتاز قادری کے گھر والوں سے منت ترلہ کرکے اس کے مزار کا ٹھیکہ تو لے ہی دوں گا۔

ہفتہ، 19 مارچ، 2016

حقوق نسواں بل پر میرا نقطہ نظر

بڑا شور و غوغا سنتے ہیں حقوق نسواں بل کا ۔۔۔۔جب سے پنجاب حکومت نے حقوق نسواں ایکٹ دوہزار سولہ کو پاس کیا ہے ۔۔۔ ہماری بہت سی این جی اوز میں خوشی کی ایسی لہر دوڑ گئی ہے جیسے انہوں نے کوئی ملک فتح کر لیا ہو ۔۔۔۔۔۔ اچھا ہے ۔۔۔۔ اچھا ہے ۔۔۔۔ خوشی ہونی چاہئے۔۔۔ کمزور کو اس کا حق ملنا چاہئے ۔۔۔۔۔ مگر کمزور کو ۔۔۔۔۔۔ طاقتور کو نہیں ۔۔۔ کیونکہ طاقتور تو حق چھیننا جانتا ہے۔۔۔۔

جب سے یہ بل پاس ہوا ہے اور اس کے ثمرات کا تعلق ہے تو روزانہ کسی مرد کی تھانے میں ٹھکائی ہورہی ہے اور ساتھ ہی پرچہ درج کروانے والی عورت کو طلاق کا کاغز بھی تھمایا جا رہا ہے۔

اس اہم موضوع پر ہمارے محترم بلاگرز جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔۔۔ انہوں اس پر تفصیلا" اور کھل کر لکھا ہے۔۔۔۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے لکھاریوں ، اخبارات کے کالم نگاروں اور میڈیا کے دانش وروں نے کھل کر اپنے اپنے علم کے لحاظ سے روشنی ڈالی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے تقریبا" ہر مسلک کے علماء کرام نے اس بل پر اپنے اپنے تحفظ کا اظہار بھی کیا ہے جبکہ کچھ مذہبی تنظیمیں اس بل کو لے کر احتجاج کی سیاست شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ہو گا کیا ۔۔۔۔۔ یہ سب جانتے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے میں اس پر روشنی ڈالنا نہیں چاہتا۔

قران کریم میں عورت کے بارے میں واضح احکام تقریبا" 132 جگہ پر آئے ہیں جن میں عورت کی حرمت ، عفت ، حفاظت ، برابری ، شرم و حیا ، پردہ ، نکاح ، طلاق ، وصیت ، وراثت اور دیگر اہم امور پر شامل ہیں ۔

ان سب کا تفصیلا" ذکر کرنے سے بات بہت لمبی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔ میں صرف مختصرا" آس بل کی مناسبت سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔

قران کریم میں اللہ سبہانہ و تعالی نے عورتوں کے بارے میں جو احکامات دئے ہیں یہ بل ان کے سامنے ایک بےکار کاغذ کے ٹکڑے کی مانند ہے ۔ قران کے احکامات کی روشنی میں اگر کوئی اعلی عقلمند ، دانش ور ، اسکالر ، عالم یا مفتی اس بے کار قانون کو اہمیت دیتا ہے تو وہ غلطی پر ہے ۔۔۔۔

اصل میں علماء سو ، درندہ صفت مولویوں نے عام مرد و زن کو قرآن کریم سے ایسا دور رکھا اور ڈرایا ہوا ہے ۔۔۔کہ جیسے اس کا سمجھنا ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔حالانکہ قرآن کریم ہر کسی سمجھنے میں آسان اور راہ ہدایت ہے ۔۔۔۔

جدید اسکالرز ، وومن این جی اوز سب سے زیادہ جو عورتوں کے حقوق کا واویلا کرتی ہیں اس میں سر فہرست عورتوں کی پروٹیکشن یعنی عورت سے برا سلوک ، معاشرے میں عورت کو ہراساں کیا جانا ، عورتوں سے مار پیٹ ، عورتوں کا مردوں کے ساتھ کام کرنا یا ان جیسا کام کرنا ، عورت کو برابری کے حقوق دینا ، اپنی مرضی سے زندگی گزارنا وغیرہ شامل ہیں۔۔۔اور بھی بہت سی چیزیں ہیں ۔

اللہ تعالی سوورہ نساء آیت نمبر چونتیس میں فرماتا ہے ۔۔۔

ترجمہ ۔۔۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو ان کو سمجھاؤ ،اور اپنے بستروں سے ان کو علیحدہ کردو اور ان کو مارو ۔۔۔۔۔

اب یہاں اللہ پاک نے نافرمان عورتوں کو سدھارنے کے لئےتین چیزیں بتائیں ہیں ۔۔۔ ایک ۔۔۔۔ پہلے ان کو سمجھاؤ ۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔اگر وہ نہ سمجھیں تو ان سے عارضی طور پر علیحدہ سونا شروع کر دو یعنی ناراضگی کا اظہار کرو ۔۔۔۔۔۔ تین ۔۔۔۔ان کا مارو ۔۔۔۔۔

اچھا اب اس آیت میں اللہ پاک نے جو تیسری چیز بتائی ہے وہ ایک انتہائی حد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہاں مارنے کی تشریح کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔ جو کہ سب اپنی اپنی مرضی سے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔زیادہ تر علما اس مار کو ہلکی سی مار کہتے ہیں جبکہ تشدد پسند لوگ اور مولوی اس کو ڈنڈے سوٹوں سے مارنا کہتے ہیں۔۔۔

یہاں میں مار کے سلسلے میں ایک حدیث کے مفہوم کے کچھ الفاظ بیان کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے "" بلی "" کو بھی مارنے سے منع فرمایا ہے ۔۔۔۔ اگر جھڑکنا یا مارنا ہی مقصود ہو تو روئی کے گولے سے مارنے کا حکم دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سوچنے کی بات یہ ہےکہ ایک جانور کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے مارنے سے ناپسند فرمایا ہے تو کیا عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔ قران پاک کی اس آیت کے آخری حکم سے مراد ہاتھ اٹھا کر مارنا ہرگز نہیں بلکہ تنبیہ کرنا مراد ہے جو جسم کے کسی حصے پر ہاتھ رکھ کر بھی کی جاسکتی ہے۔

سوچنے کی بات ہے آپ اس ایک مثال سے ہی جان سکتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو کتنی عزت اور تعظیم دی گئی ہے ۔۔۔۔۔ جس کو غلط انداز میں پیش کر کے دین اسلام کو غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔

میں اب آخر میں مختصرا" ان موضوعات کا حوالہ دینا چاہوں گا جن پر اللہ پاک نے قران پاک میں عورتوں کے لئے واضح احکامات بیان کئے ہیں ۔۔۔

نکاح ، طلاق ، رجعت یا تفریق ، ایلاء ، لعان ، یعنی عورتوں پر الزام لگانا ، ظہار ، رضاع ، معاشرت النساء اور معاشرت النساء بالاختصار ، پردہ ، وصیت ، میراث ، حدود ۔ حد زنا ، چال ، آواز ، زینت ، اور دیگر امور۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ سبہانہ و تعالی کے اتنے واضح اور جامع احکامات کے مقابلے میں یہ بے کار قانون عورتوں کا تحفظ کرے گا یا عورتوں میں بگاڑ کا سبب بنے گا

فیصلہ آپ پر ۔۔۔۔۔۔ قرآن پڑھئے ، سمجھئے اور عمل کیجئے۔۔۔۔۔۔۔دعاؤں میں یاد رکھئے گا

https://youtu.be/wVz2bCsFukY

[gallery ids="2130,2131,2132,2133,2134,2135,2136,2137,2138,2139,2140,2141,2142"]

منگل، 15 مارچ، 2016

چیچہ وطنی کی کھوتی

یہ غالبا" سن اکہتر کی بات ہے۔۔ میری عمر اس وقت دس یا گیارہ سال کی ہو گی ۔۔۔ ہمارے امی ابا ایک گاؤں چیچہ وطنی گاؤں کے ایک "" چک گیارہ ایل "" میں ایک بزرگ مولانا عبدالعزیز صاحب کے ہاں دعا کے لئے جایا کرتے تھے۔۔۔۔ ویسے تو ہم بزرگوں کی عزت و توقیر کے ساتھ ان کی تعظیم کے بھی قائل ہیں ۔۔۔ مگر خصوصی طور حاضری دینا اپنے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔۔ بحرحال وہ دور شاید جاہلانہ زیادہ تھا اس لئے ہمارا گھر بھی اس میں رنگا ہوا تھا۔۔۔۔۔ویسے اب بھی ہمارے خاندان میں تقریبا" ہر فرقے کے لوگ موجود ہیں ۔۔۔۔

چیچہ وطنی کے اسٹیشن پر اتریں تو وہاں سے تانگہ ملا کرتا تھا جو تقریبا کھیتوں کے درمیان کچی پگڈنڈیوں پر جسم کے انجر پنجر کو ہلاتا دو یا ڈھائی گھٹوں میں چک گیارہ ایل میں جا پہنچاتا تھا۔

شدید گرمی میں جب ہم مولانا عبداالعزیز صاحب کے گاؤں پہنچے تو ان کے مہمانوں کے کمرے میں لگے بڑے کپڑے سے بنے چھت سے بندھے رسی کی ڈور سے کھینچنے والے پنکھے نے وہ لطف دیا کہ بس مت پوچھئے۔۔۔وہ ٹھنڈی ہوا آج تک میں نے کسی اے سی والے کمرے میں بھی محسوس نہیں کی۔

شام ہوئی تو میں اٹھ کر باہر نکل آیا۔۔۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک گدھی ( کھوتی ) کھونٹے سے بندھی کھڑی تھی ۔۔۔۔جانے کیا خیال آیا کہ میں قریب جا کر گدھی ( کھوتی) کی پیٹھ پر پیار سے ہاتھ پھیر بیٹھا ۔۔۔۔ اُس نے جو دولتی ماری ۔۔۔ کم از کم دوقلابازیاں کھا کر گرا ہونگا ۔۔تھوڑی کا نچلا حصہ سارا پھٹ گیا ۔۔۔چانگریں مار مار رویا ۔۔۔ڈاکٹر وغیرہ کوئی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ انہوں نے سپرٹ لیمپ سے روئی پر سپرٹ لگا کر پورے منہہ پر پٹی لپیٹ دی ۔۔۔ سپرٹ کی تکلیف سے ڈبل چانگریں ماریں ۔۔۔۔۔

آج سوچتا اور شکر کرتا ہوں کہ وہ کھوتی تھی۔۔۔۔۔۔کہیں اگر وہ کھوتا ہوتا تو جانے میرا کیا حشر کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔

چیچہ وطنی کی کھوتی کی دولتی کا نشان آج بھی میری تھوڑی پر موجود ہے جو اب میرے شناختی کارڈ پر شناختی علامت کے طور پر لکھا جاچکا ہے۔

جمعہ، 12 فروری، 2016

کبھی کسی سے عشق کیا ہے ؟

کہتی ہے ، کبھی کسی سے عشق کیا ہے ۔۔۔۔ بیوقوف ہے جو ایسے سوالات کرتی ہے ۔۔۔ اسے نہیں پتہ کہ عشق دیوانے لوگ کرتے ہیں اور میں دیوانہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

سخت سردیوں کے دن تھے ، رات کے دو بجے ہوں گے کہ کوثر کا فون آگیا اس وقت میں اپنے دوست کے میوزک سنٹر کے اندر ایک بڑی مزیدار قسم کی ڈبل ایکس فلم سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ کہنے لگی کیا کر رہے ہو ۔۔۔ میرا وہی پرانا جواب تھا کہ تمہاری یاد میں مگن تھا کہ تمہارا فون آگیا ۔۔۔۔۔۔فون کے ماؤتھ پیس کے ساتھ چوڑیاں کھٹکٹاتے ہوئے ایک کھنکتی سی ہنسی کے ساتھ بولی ۔۔۔ جھوٹے ہو تم ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی چوڑیوں کی آواز میری کمزوری ہے ۔۔۔ تبھی تو وہ ایسی حرکت کرتی تھی ۔۔۔۔ کہنے لگی آجاؤ ، تم سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے ۔۔۔

کوثر سے میری ملاقات انیس سو چوراسی میں پہلی بار اتفاقاً فون پر ایک رانگ نمبر سے ہوئی تھی ۔۔۔ جو بعد میں بڑھتے بڑھتے میری نگاہ میں دوستی اور اس کی نگاہ میں عشق میں تبدیل ہوتی چلی گئی ۔۔۔۔ میدے کی ملاوٹ لئے ہلکا سانولا سا رنگ ، خوصورت جسمانی ساخت کے ساتھ وہ کوئی اپسرا سی لگتی تھی ۔۔۔۔ تہذیب یافتہ اتنی تھی کہ میری غلیظ گالیوں پر بھی ہنس دیا کرتی تھی ۔

کوثر سے میری بہت سی ملاقاتیں ہوئیں ، ہر ملاقات کے بعد وہ مجھ سے یہی کہتی تھی ‘‘ شیخو ‘‘ مجھ سے شادی کر لو ، میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گی ، میں انکار کر دیتا ۔۔۔ شاید اس لئے کہ مجھے اس سے انسیت تو تھی مگرعشق اور محبت نہیں تھی ۔

کوثر کا گھر میرے دوست کے میوزک سنٹر سے کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر تھا میں نے اپنی موٹر بائک نکالی ، دراز میں سے پستول نکال کر نیفے میں اڑسا اور جسم کو گرم چادر سے لپیٹے باہر آگیا ۔۔۔۔ تھوڑی دور ہی گیا ہونگا کہ جانے کیا دل میں خیال آیا کہ پستول کو واپس دراز میں رکھ کر کوثر کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا ، وقت طے تھا ، گھر کے گیٹ کے پاس ہی وہ موجود تھی ، کہنے لگی ، موٹر بائک اندر گیراج میں کھڑی کر دو ۔۔۔۔ حالانکہ میری عادت ہوتی تھی کہ میں موٹر بائک کبھی کسی کے گھر کے اندر تو کجا گھر کے نزدیک بھی کھڑی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔ بس وہ کہتے ہیں نا کہ جب عقل پر پردے پڑ جائیں اور بندہ جذبات میں بہہ جائے تو نقصان اُٹھاتا ہے ۔

پیار بھری سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہوئے ہم ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے ۔۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ چائے بنانے کے لئے کچن میں چلی گئی ۔۔۔ کچن میں برتنوں کی کھٹ پٹ سے غالباً اس کی خالہ کی آنکھ کھل گئی اور وہ آنکھیں ملتی ہوئی سیدھی ڈرائینگ روم میں آ دھمکی ۔۔۔ پہلے تو وہ مجھے ہکا بکا ہو کر ایک ٹِک دیکھنے لگی اور پھر اس کا منہہ کھلا اور اس نے چیخ مارتے ہوئے چور چور کی آواز لگا دی ۔۔۔۔۔ میں نے جلدی سے اُٹھ کر اس کے منہہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے باذؤں میں دبوچ لیا مگر مجھے دیر ہو چکی تھی ۔

خالہ کی چیخ اور چور چور کی آواز سے پورے گھر میں ہلچل شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ خالو اٹھ کر باہر دروازے پر پہنچ کر چوکیدار کو آوازیں دینے لگ گیا جبکہ کوثر حواس باختہ ہو کر ڈارئینگ روم میں آکر کانپنے لگی ۔۔۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ،،،،، حالانکہ اندر سے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا اور میں سخت پریشانی میں مبتلا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت میرے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح میں اس گھر سے نکل جاؤں ۔۔۔۔ اللہ کا شکر ہے ذہن حاضر تھا ۔۔۔۔میں نے کوثر کی خالہ کو کہا ۔۔۔۔۔ دیکھو خالہ سکون سے بیٹھ کر پہلے میری بات سن لو ۔۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں بٹھاؤ کہ میں چور وور نہیں ہوں دوسرا خالو کو منع کرو کہ چوکیدار کو آوازیں نہ دے اور محلے والوں کو نہ جگائے ۔۔۔۔۔۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میرے ساتھ تو جو ہوگا سو ہو گا مگر بدنام آپ بھی ہوں گے ۔۔۔ آپ کے بھی بیٹی ہے ۔۔۔ میں کہہ دوں گا کہ آپ کی بیٹی نے مجھے ملنے کے لئے بلایا تھا ۔۔۔۔۔ خالہ کہنے لگی آئے ہائے میری بیٹی تو اندر سو رہی ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا خالہ لوگوں کو تو نہیں پتہ نا کہ آپ کی بیٹی سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔آپ نے اب مجھے اور کوثر کو بچانا ہے ۔۔۔ اگر نہ بچایا تو جو آپ کے ساتھ ہوگا زمانہ دیکھے گا ۔۔۔۔۔۔ بات خالہ کی سمجھ میں آگئی ۔۔۔میں نے کہا خالہ آپ صرف خالو کو دو منٹ کے لئے کسی طرح اندر بلا لیں میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا ۔۔۔۔بعد میں آپ کہہ دینا کہ غلط فہمی ہوئی تھی وہ بلی کی آواز تھی جسے میں چور سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔۔ خالہ خالو کو بلا نے دوسرے گیٹ پر پہنچی اور ادھر میں نے کوثر کو گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ جونہی میں نے محسوس کیا کہ خالو گھر کے اندر داخل ہوا ہے میں نے فوراً موٹر بائک نکالی اور یہ جا اور وہ جا ۔۔۔۔ گلی کی نکڑ پر مجھے چوکیدار نظر آیا جس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ شور کیسا تھا۔۔۔ میں نے کہا وہ ساتھ والے گھر میں پاگل تھا جو شور مچا رہا تھا ۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اچھا ہوا جو میں خالی ہاتھ گیا کیونکہ بندے کے ہاتھ میں جب ہتھیار ہو تو خومخواہ بہادری جاگ اُٹھتی ہے اور یہ بہادری آخر کار ذلت اور پچھتاوے کا سبب بن جاتی ہے ۔

آج کوثر منوں مٹی تلے دفن ہے ۔۔۔۔۔اس کے مرنے کے چار پانچ سال بعد اس کی خالہ اور خالو بھی چل بسے ۔۔۔اس کے بہن بھائی اب بھی ہمارے علاقے میں رہتے ہیں ۔۔۔۔ کبھی کبھار راہ چلتے اس کی بہن سے ملاقات ہو جاتی ہے جو مجھے دیکھتے ہی نفرت سے منہہ پھیر لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔

اتوار، 3 جنوری، 2016

محبت کیا ہے اور عشق کیا

زندگی کے چون سال گزار دئے ۔۔۔۔۔ سینکڑوں کتابیں چھان ماریں ۔۔۔ بھانت بھانت کے روحانی عالموں سے مل لیا ۔۔۔ سب کی بولیاں سن لیں ۔۔۔ مگر مجھے آج تک محبت میں عشق کی آمیزش نہیں ملی ۔۔۔ کیونکہ میری نگاہ میں محبت کو عشق سے جوڑا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ محبت ایک سچا جزبہ ہے جبکہ عشق ایک دماغی خلل کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔ عشق ایک دیوانگی ہے جو انسان کے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے ۔

عشق ایک جنون کا نام ہے جو اپنی انتہا پر پہنچتا ہے تو انسان اپنا عقل و شعور کھو بیٹھتا ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے ۔

لوگ عشق کو روحانیت سے جوڑتے ہیں جو کہ بالکل غلط تصور ہے ۔۔۔ عشق جنسی خواہشات کے عمل کا نام ہے ۔۔۔ محبت اور عشق میں یہی فرق ہے کہ محبت ایک لافانی جذبے اور سچائی کا نام ہے جبکہ عشق شہوت سے پُر ایک غرض کا نام ہے ۔۔۔۔

عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ اللہ ، رسول ، نبی یا کسی محبت کرنے والے رشتے سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں محبت ہوتی ہی نہیں ہے عشق میں تو صرف حرص و ہوس ہوتی ہے جو کہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔

آسانی کے طور پر آپ اسے یوں سمجھیں کہ ۔۔۔۔۔ اگر ہم کہیں کہ ہمیں اپنے اہل خانہ سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے۔۔۔۔ مجھے اپنی بیٹیوں سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کوئی شخص ایسے کہہ سکتا ہے یا ایسی بات زبان پر لاسکتا ہے کہ میں اپنی والدہ ، بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں ؟ کجا لوگ یہ کہتے پھریں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہوں یا عشق الہی میں غرق ہوں ۔۔۔

محبت دیکھنی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت سے دیکھئے ۔۔۔۔ محبت دیکھنی ہو تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھئے ۔۔۔۔

عاشق دیکھنے ہوں تو لیلی مجنوں کو دیکھئے ، شیریں فرہاد کے قصے سنئے ، ہیر رانجھے کی داستان پڑھئے ، سسی پنوں کے محلے کی دیواروں سے سر ٹکرائیے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر پھر بھی عشق کی سمجھ نہ آئے رات کی تاریکی میں موبائل کا پیکیج کروائے ہوئے کسی ڈیڑھ پسلی کے نوجوان کا جائزہ لیجئے ۔۔۔۔۔۔ لگ پتہ جائے گا ۔۔۔۔ محبت کیا ہے اور عشق کیا۔۔۔