ہفتہ, فروری 27, 2016

جمعہ, فروری 12, 2016

کبھی کسی سے عشق کیا ہے ؟

کہتی ہے ، کبھی کسی سے عشق کیا ہے ۔۔۔۔ بیوقوف ہے جو ایسے سوالات کرتی ہے ۔۔۔ اسے نہیں پتہ کہ عشق دیوانے لوگ کرتے ہیں اور میں دیوانہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

سخت سردیوں کے دن تھے ، رات کے دو بجے ہوں گے کہ کوثر کا فون آگیا اس وقت میں اپنے دوست کے میوزک سنٹر کے اندر ایک بڑی مزیدار قسم کی ڈبل ایکس فلم سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ کہنے لگی کیا کر رہے ہو ۔۔۔ میرا وہی پرانا جواب تھا کہ تمہاری یاد میں مگن تھا کہ تمہارا فون آگیا ۔۔۔۔۔۔فون کے ماؤتھ پیس کے ساتھ چوڑیاں کھٹکٹاتے ہوئے ایک کھنکتی سی ہنسی کے ساتھ بولی ۔۔۔ جھوٹے ہو تم ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی چوڑیوں کی آواز میری کمزوری ہے ۔۔۔ تبھی تو وہ ایسی حرکت کرتی تھی ۔۔۔۔ کہنے لگی آجاؤ ، تم سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے ۔۔۔

کوثر سے میری ملاقات انیس سو چوراسی میں پہلی بار اتفاقاً فون پر ایک رانگ نمبر سے ہوئی تھی ۔۔۔ جو بعد میں بڑھتے بڑھتے میری نگاہ میں دوستی اور اس کی نگاہ میں عشق میں تبدیل ہوتی چلی گئی ۔۔۔۔ میدے کی ملاوٹ لئے ہلکا سانولا سا رنگ ، خوصورت جسمانی ساخت کے ساتھ وہ کوئی اپسرا سی لگتی تھی ۔۔۔۔ تہذیب یافتہ اتنی تھی کہ میری غلیظ گالیوں پر بھی ہنس دیا کرتی تھی ۔

کوثر سے میری بہت سی ملاقاتیں ہوئیں ، ہر ملاقات کے بعد وہ مجھ سے یہی کہتی تھی ‘‘ شیخو ‘‘ مجھ سے شادی کر لو ، میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گی ، میں انکار کر دیتا ۔۔۔ شاید اس لئے کہ مجھے اس سے انسیت تو تھی مگرعشق اور محبت نہیں تھی ۔

کوثر کا گھر میرے دوست کے میوزک سنٹر سے کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر تھا میں نے اپنی موٹر بائک نکالی ، دراز میں سے پستول نکال کر نیفے میں اڑسا اور جسم کو گرم چادر سے لپیٹے باہر آگیا ۔۔۔۔ تھوڑی دور ہی گیا ہونگا کہ جانے کیا دل میں خیال آیا کہ پستول کو واپس دراز میں رکھ کر کوثر کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا ، وقت طے تھا ، گھر کے گیٹ کے پاس ہی وہ موجود تھی ، کہنے لگی ، موٹر بائک اندر گیراج میں کھڑی کر دو ۔۔۔۔ حالانکہ میری عادت ہوتی تھی کہ میں موٹر بائک کبھی کسی کے گھر کے اندر تو کجا گھر کے نزدیک بھی کھڑی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔ بس وہ کہتے ہیں نا کہ جب عقل پر پردے پڑ جائیں اور بندہ جذبات میں بہہ جائے تو نقصان اُٹھاتا ہے ۔

پیار بھری سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہوئے ہم ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے ۔۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ چائے بنانے کے لئے کچن میں چلی گئی ۔۔۔ کچن میں برتنوں کی کھٹ پٹ سے غالباً اس کی خالہ کی آنکھ کھل گئی اور وہ آنکھیں ملتی ہوئی سیدھی ڈرائینگ روم میں آ دھمکی ۔۔۔ پہلے تو وہ مجھے ہکا بکا ہو کر ایک ٹِک دیکھنے لگی اور پھر اس کا منہہ کھلا اور اس نے چیخ مارتے ہوئے چور چور کی آواز لگا دی ۔۔۔۔۔ میں نے جلدی سے اُٹھ کر اس کے منہہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے باذؤں میں دبوچ لیا مگر مجھے دیر ہو چکی تھی ۔

خالہ کی چیخ اور چور چور کی آواز سے پورے گھر میں ہلچل شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ خالو اٹھ کر باہر دروازے پر پہنچ کر چوکیدار کو آوازیں دینے لگ گیا جبکہ کوثر حواس باختہ ہو کر ڈارئینگ روم میں آکر کانپنے لگی ۔۔۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ،،،،، حالانکہ اندر سے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا اور میں سخت پریشانی میں مبتلا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت میرے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح میں اس گھر سے نکل جاؤں ۔۔۔۔ اللہ کا شکر ہے ذہن حاضر تھا ۔۔۔۔میں نے کوثر کی خالہ کو کہا ۔۔۔۔۔ دیکھو خالہ سکون سے بیٹھ کر پہلے میری بات سن لو ۔۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ ذہن میں بٹھاؤ کہ میں چور وور نہیں ہوں دوسرا خالو کو منع کرو کہ چوکیدار کو آوازیں نہ دے اور محلے والوں کو نہ جگائے ۔۔۔۔۔۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میرے ساتھ تو جو ہوگا سو ہو گا مگر بدنام آپ بھی ہوں گے ۔۔۔ آپ کے بھی بیٹی ہے ۔۔۔ میں کہہ دوں گا کہ آپ کی بیٹی نے مجھے ملنے کے لئے بلایا تھا ۔۔۔۔۔ خالہ کہنے لگی آئے ہائے میری بیٹی تو اندر سو رہی ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا خالہ لوگوں کو تو نہیں پتہ نا کہ آپ کی بیٹی سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔آپ نے اب مجھے اور کوثر کو بچانا ہے ۔۔۔ اگر نہ بچایا تو جو آپ کے ساتھ ہوگا زمانہ دیکھے گا ۔۔۔۔۔۔ بات خالہ کی سمجھ میں آگئی ۔۔۔میں نے کہا خالہ آپ صرف خالو کو دو منٹ کے لئے کسی طرح اندر بلا لیں میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا ۔۔۔۔بعد میں آپ کہہ دینا کہ غلط فہمی ہوئی تھی وہ بلی کی آواز تھی جسے میں چور سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔۔ خالہ خالو کو بلا نے دوسرے گیٹ پر پہنچی اور ادھر میں نے کوثر کو گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ جونہی میں نے محسوس کیا کہ خالو گھر کے اندر داخل ہوا ہے میں نے فوراً موٹر بائک نکالی اور یہ جا اور وہ جا ۔۔۔۔ گلی کی نکڑ پر مجھے چوکیدار نظر آیا جس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ شور کیسا تھا۔۔۔ میں نے کہا وہ ساتھ والے گھر میں پاگل تھا جو شور مچا رہا تھا ۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اچھا ہوا جو میں خالی ہاتھ گیا کیونکہ بندے کے ہاتھ میں جب ہتھیار ہو تو خومخواہ بہادری جاگ اُٹھتی ہے اور یہ بہادری آخر کار ذلت اور پچھتاوے کا سبب بن جاتی ہے ۔

آج کوثر منوں مٹی تلے دفن ہے ۔۔۔۔۔اس کے مرنے کے چار پانچ سال بعد اس کی خالہ اور خالو بھی چل بسے ۔۔۔اس کے بہن بھائی اب بھی ہمارے علاقے میں رہتے ہیں ۔۔۔۔ کبھی کبھار راہ چلتے اس کی بہن سے ملاقات ہو جاتی ہے جو مجھے دیکھتے ہی نفرت سے منہہ پھیر لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔