بدھ, اکتوبر 25, 2017

خاوند کی گالیوں کے بارے میں فتوی

گالیاں نکالنے سے فرسٹریشن میں کمی آتی ہے اور سکون ملتا ہے ۔۔۔۔ پنجابی کی گالیاں قتل و غارت گری اور طلاق کی نوبت تک لیجا سکتی ہیں ۔۔۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ تہذیب سے اردو میں گالیاں نکال لی جائیں ۔۔۔ اگر پھر بھی خطرہ ہو تو اکیلے میں دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں ۔۔۔( فتاوی زن مرید ، باب 14 ، صفحہ 14 ۔۔)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں