بدھ، 7 نومبر، 2018

ہماری زندگی میں فیس بک کا کردار

ہماری زندگی میں فیس بک کا کردار

فیس بک نے ہم لوگوں کو مثبت سوچ دینے کی بجائے منفی سوچ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے
حساس اور نرم دل رکھنے والے انسان کو فیس بک استمال نہیں کرنا چاہئے۔۔

اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں  تو فیس بک مسلسل استمال کرنے کی بجائے گاہے بگاہے استمال کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے

اور اگر آپ حقیقی خوشیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کوشش کیجئے کہ اس مصنوعی دنیا سے رابطہ کم کر کے اپنے گھر ، رشتہ دار اور آس پاس کے لوگوں سے عملی طور پر روابط بڑھائے جائیں۔

جمعہ، 2 نومبر، 2018

پوچھتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے۔۔آسیہ بی بی کی رہائی کے بارے میں ؟

پوچھتے ہیں آپ کی کیا رائے ہے۔۔آسیہ بی بی کی رہائی کے بارے میں ؟

کوئی رائے نہیں ۔۔۔۔۔

میں رائے تب دوں گا جب سب اخبار والوں کو لٹکا دیا جائے جو روزانہ اخبار پر قرآن و حدیث چھاپ کر توہین کے مرتکب ہوتے ہیں

دوسرے نمبر پر ان کو بھی پھانسی دیجئے جو اخبار میں جوتے ، روٹیاں اور دوسری چیزیں لپیٹتے ہیں۔۔

اور پھر ان کو بھی پھانسی دیں جو اخبار ردی اور کوڑے دان میں پھینکتے ہیں

اس مذہبی جماعت کو بھی پھانسی دی جائے جن کے جھنڈے پر کلمہ لکھا ہوا ہے اور وہ جھنڈے غلاظت میں پڑے ملتے ہیں

پھر ان مسجد کے اماموں کو بھی پھانسی دیجئے جو ممبر رسول پر بیٹھ کر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جھوٹی باتیں گھڑتے ہیں

اور ہاں ان کو بھی لٹکانا مت بھولئے گا جو مسجد مدرسوں میں بچے بچیوں کے ساتھ زنا بالجبر کرتے ہیں

مجھ سے پوچھتے ہیں۔۔۔کیا رائے ہے آپ کی آسیہ کی رہائی بارے ؟
کوئی رائے نہیں ۔۔۔۔۔۔

بدھ، 31 اکتوبر، 2018

آسیہ بی بی کیس ۔۔ سپریم کورٹ میں رہائی کے فیصلے کی اردو اور انگریزی کاپی

آسیہ بی بی کی تفتیشی رپورٹ ۔۔۔۔ جس کی بنا پر اس کو توہین رسالت کی سزا سنائی گئی تھی




سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا

سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا
فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سنایا 
جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس ،مظہرعالم خان میاں خیل پربھی بنچ کا حصہ ہیں 
سپریم کورٹ نے 8 اکتوبر کو آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا
آسیہ بی بی نے لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ اکتوبر 2014 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا
ٹرائل کورٹ نے نومبر 2010 کو توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپ ڈیٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور بھر میں مندرجہ ذیل مقامات پر احتجاج جاری ہے جس کی بنا پرملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانگی جزوی سے مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے .. متبادل راستے قائم کیے جا رہے ہیں.. شہریوں سے التماس ہے کہ متبادل راستے اختیار کریں.. اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مت ہوں.. اپنی جان و مال اور ریاستی اثاثوں کو نقصان مت پہنچایں.
1 . فیصل چوک، مال روڈ
2 . آزادی چوک فلائی اوور
3 . فیروز پور روڈ، چونگی امر سدھو 
4 . فیروز پور روڈ، مین غازی چوک
5 . کچا راوی روڈ
6 . داروغہ والا
7 . فیروز پور روڈ، کاہنہ کاچھا
8 . شاہدرہ موڑ
9 . داتا دربار
10 . بوٹا محل چوک، بشیر سنز
11 . سگیاں جانب داتا دربار
12 . آواری چوک، مال روڈ
13 . خیابان جناح، رائے ونڈ روڈ
14 . بحریہ ٹاون داخلہ
15 . امامیہ کالونی پھاٹک، شاہدرہ
16 . پیر مکی
17 . بابو صابو انٹر چینج
18 . ناکہ پنجاب سوسایٹی سے فیروز پور روڈ
19 . ای ایم ای سے شاہ کام چوک
20 . لاہور برج پھاٹک
21 . پیر پہار شاہ
22 . فیض پور انٹرچینج
23 . چوہنگ ملتان روڈ


*کراچی صورتحال*
*آسیہ بی بی کی رہائی کے شہر کے مختلف مقامات پر شدید احتجاج اور دھرنا۔*
*نمائش، ایم اے جناح روڈ، بلدیہ، حب ریور روڈ، نیٹی جیٹی، اسٹار گیٹ، قائد آباد، سہراب گوٹھ، ابوالحسن اصفہانی روڈ ،کھارادر اور ٹاور سمیت کاروباری مراکز بند۔*
*الیکٹرانک میڈیا پر دھرنے سے متعلق خبر اور لائیو کوریج پر پابندی۔*


تحریک لبیک کے ملک گیر احتجاج کی کال کے بعد اسلام آباد کے اسپتالوں میں ہائی الرٹ
پمز اسپتال کی ایمرجنسی میں دوائوں سمیت مزید بیڈز رکھے گئے ترجمان پمز
پیرا میڈیکل عملے کی چھٹیاں منسوخ ترجمان پمز
کارڈک سی ٹی اسکین ایکسرے سمیت مختلف شعبوں میں بھی ہائی الرٹ
کسی نا پسندیدہ واقعات سے بچنے کے لیئے پمز میں انتظام مکمل


چکوال :ضلع بھر کی مسیحی کالونیوں پر پولیس تعینات
چکوال :مسیحی سکولوں کو حفاظتی نقطہء نظر سے بند کردیا گیا،پولیس تعینات
چکوال :تمام مسیحی عبادت گاھوں پر بھی پولیس تعینات

منگل، 30 اکتوبر، 2018

مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی اور سعودیہ کا جھوٹ

مہتاب عزیز

سعودیہ کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوا’ مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے جسم کے اعضاء سعودی قونصلر جنرل محمد العتیبی کے استنبول میں واقع گھر سے مل گئے ہیں ۔ یوں 2 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد سے شروع ہونے والی داستان کا ڈراپ سین ہو گیا۔

خاشقجی کا قتل اور اس کا طریقہ کار تو اب ایک کھلی حقیقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے، سعودی حکومت قتل کا اعتراف کر چکی ہے۔ سعودی حکومت نے اپنے 15 اہلکاروں کو گرفتار جبکہ ولی عہد محمد بن سلیمان کے دو انتہائی قریب اعلیٰاہلکاروں کا برطرف بھی کیا ہے۔ تاہم اس کے محرکات ابھی تک واضع نہیں ہو سکے۔ ترک ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ جمال خاشقجی کا قتل سعودی ولی عہد کے حکم پر کیا گیا، ایک میڈیا ہاوس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قتل سے پہلے جمال کی محمد بن سلیمان سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کرائی گئی۔ اس کے برعکس ہر لمحے اپنے پوزیشن تبدیل کرتی سعودی حکومت کا اس وقت یہ ماننا ہے اُن کے اہلکاروں نے احکامات سے تجاوز کرتے ہوئے جمال خاشقجی کو قتل کیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کی اس ایشو پر جس طرح ہم نوائی کی گئی اُس کے نتیجے میں قتل کا واقعہ خبروں کے سیلاب میں کہیں دب جانا چاہیے تھا۔ لیکن ترک حکومت کی کمٹمنٹ کے سامنے سعودیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑھ گئے، وہ قتل کے اعتراف پر مجبور ہوا۔ گزشتہ روز رجب طیب اردوغان نے اپنی سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ‘‘ترکی کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے 'وحشیانہ' قتل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ اسی خطاب کے دوران انہوں نے انھوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جواب دے کہ جمال خاشقجی کی لاش کہا ہے اور اور اس کارروائی کا حکم کس نے دیا تھا۔’’

اردگان کے مطالبے کے پہلے حصے پر عمل درامد تو ہوچکا، جمال خاشقجی کی نعش کی باقیات کی نشاندہی تو کر دی گئی ہے۔ (اگرچہ اس حوالے سے بھی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ نعش کی نشاندی منحرف سعودی سفارتکار نے کی ہے) حالات سے لگتا ہے کہ جلد ہی سعودیہ کو قتل کے منصوبہ ساز کو بھی مجبورا سامنے لانا ہی پڑے گا۔

اس پوری کہانی میں جہاں سعودی حکومت کی شقاوت اوربربریت نمایاں ہو کر سامنے آئی وہیں ہر قدم پر جھوٹ اور غلط بیانی کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا ۔
سعودی بادشاہت اپنے لیے خادم حرمین شریفین کا لقب پسند کرتی اور مملکت سعودیہ میں اسلامی نظام کے نفاذ کی دعویدار ہے’ کی ساکھ کے لیے مسلسل جھوٹ دھچکا ثابت ہوئے ہیں ۔

اس سلسلے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ امام کعبۃ اللہ شریف عبد الرحمن السدیس نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ جمال خاشقجی استبول میں سعودی قونصل خانے آمد کے بعد کہیں گم ہو گئے ۔ اس پر سعودیہ کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں ۔ حرم کعبہ جیسی مقدس اور محترم جگہ پر نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ قتل کی الزام تراشی سے سعودی عرب کے حوصلہ پست نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اس کے حوصلے ہمیشہ بلند رہیں گے ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ امام کعبہ نے اپنے منصب اور کعبہ جیسے مقدس مقام کو سعودی بادشاہت کے دفاع کے لیے استعمال کیا ۔جبکہ کچھ ہی گھنٹوں بعد سعودی حکومت نے سرکاری طور پر تسلیم کر لیا کہ جمال خاشقجی سعودی سفارت خانے کے اندر مارے گئے تھے ۔

جمال خاشقجی کے قتل سے سعودی بادشاہت کا یہ پہلو بھی بہت نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ مخالفین اور ناقدین سے سعودی حکومت کا رویہ انتہائی ظلم و شقاوت پر مبنی ہے ۔ اس وقت سعودیہ میں بلا شبہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جیلوں اور اذیت کے مراکز میں پابند سلاسل کیا ہوا ہے ۔ بعض ذرائع کے مطابق محبوس افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں اور مغربی ممالک کی جانب سے خواتین کو تفریح اور ڈرائیونگ کا حق نہ ملنے پر تو سعودیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ لیکن ہزاروں افراد کو برسوں سے حراست میں رکھے جانے پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی حکومت ضمیر کے قیدیوں کو دہشت گردوں یا شدت پسندوں کا ہمدرد بتاتی ہے ۔ اکیسویں صدی کا یہ المیہ ہے کہ شدت پسندی یا دہشت گردوں کا حامی ہونے کا الزام کسی فرد کو ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم کر دینے کا جواز تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ (گزشتہ صدی کے دوران کیمونسٹ ممالک میں ‘بورژوا’ یعنی سرمایہ داری اور جاگیر داری کا حامی جبکہ سرمایہ دارانہ ممالک میں کیمونسٹ اور تخریب پسند کی اصطلاحات اس مقصد کے لیے استعمال کی جاتیں تھیں) آج دنیا بھر کی ظالم ریاستیں اور ادارے اپنے مخالفین پر ظلم و ستم ڈھانے کے لیے اُن پر شدت پسندی کا لیبل لگاتی ہیں۔ جس کے بعد ان کے حق میں آواز بلند کرنا خود کو انکی صف میں لاکھڑا کرنے کے مترادف ہے۔ اس کارڈ کا سعودی حکومت نے انتہائی بیدردی سے استعمال کیا ہے ۔

سعودیہ میں قید و بند کی اذیتوں میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد کو چار مختلف درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

ان میں ایک تعداد تو آل سعود کے مخالف قبائل کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خاندانوں سے مختلف علاقوں کا کنٹرول آل سعود نے چھینا تھا۔ یا پھر جن کے بارے میں آلِ سعود کو خدشہ ہے کہ یہ کسی موقع پر ان کے اقتدار کے لیے حریف ثابت ہو سکتے ہیں ۔

دوسرے درجے میں وہ لوگ ہیں جنہیں آل سعود کی مذہبی پالیسی سے اختلاف ہے۔ ان میں طریف اور اطراف کے شیعہ اور محمد بن عبد الوہاب کے نظریے سے اتفاق نہ رکھنے والے سُنی العقیدہ مسلمان بھی شامل ہیں ۔

تیسرے درجے میں وہ لوگ شامل ہیں جو اصلاحات’ جمہوریت اور اظہار رائے کے حامی ہیں ۔ اگرچہ اس درجے کے لوگ 1950 سے ہی زیر عتاب ہیں ۔ لیکن گزشتہ عشرے میں جب عرب بہار کے تحت کئی ممالک میں انقلاب آیا تو سعودی عرب میں ایسے افراد کی بڑی تعداد کو پابند سلاسل کر دیا گیا ۔ خصوصا مصر میں جمہوریت کی بحالی اور اخوان المسلمین کی حکومت کے قیام کے بعد سعودی عرب نے امریکی آشیر باد اور کویت و متحدہ عرب امارات کے تعاون سے اُس کا تختہ اُلٹنے میں سب اہم کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی سعودی عرب کے اندر اخوان کی فکر کے حامیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ۔ ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا ۔ جنہیں انسانیت سوز اذیتیں دی گئیں اور بہت سے افراد ان ہی اذیتوں کو سہتے سہتے جان کی بازی ہار گئے ۔

چوتھے درجے میں وہ لوگ شامل ہیں ۔ جنہیں نو منتخب ولی عہد محمد بن سلمان کی اصلاحات اور مغرب طرز زندگی کی ترویج کی مخالفت یا اس پر تنقید کی پاداش میں جیلوں میں ڈالا گیا۔ قریباً ایک صدی کی آل سعود کی روایات اور فکر و فلسفہ کو جب محمد بن سلمان نے بیک جنبش قلم مسترد دیا ۔ اور مملکت کے لیے نیا وژن 2030 متعارف کرایا ۔ جو راویت پسند حلقوں کے لیے اسے قبول کرنا مشکل کام تھا۔ قید و اذیت کے اس نئے درجے میں صرف جید علمائے دین کی تعداد قریباً 4 ہزار سے زائد ہے ۔ شہریوں کی بڑی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقیدی آرٹیکل لکھنے پر صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں واقع سعودی قونصل خانے میں انتہائی بربریت اور بہیمانیت سے قتل کیا گیا۔ صحافی جمال خاشقجی اور کا خاندان نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری عرب دنیا میں جدت اور ترقی پسندی کا استعارہ ہے۔ اس ضمن میں خاشقجی خاندان ولی عہد کے وژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ دوسری جانب خاشقجی خاندان آل سعود سے قربت کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے ۔ اسی لیے سعودی اسلحہ کے سوداگر کے طور پر عدنان خاشقجی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ ایسے میں چند تنقیدی مضامین میں سعودی عرب کے نو منتخب ولی عہد کی صلاحتیوں پر اٹھے سوالات سے نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ جمال خاشقجی کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے آل سعود نے اپنی ساکھ تک داؤ پر لگایا دیا ۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مملکت کے اندر جو افراد حکومت پر تنقید یا مخالفت کے الزامات میں قید ہوں گے اُن کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہو گا ؟

اس منظر نامے کا ایک پہلو صحافیوں کو درپیش خطرات اور معدوم ہوتی آزادی اظہار بھی ہے۔جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شائع ہونے والے انکے آخری کالم میں لکھا ہے:
‘‘اندھیرا اور گہرا ہوگیا’ میڈیا کے خلاف کریک ڈاﺅن پر کوئی عالمی رد عمل نہ آنے پر عرب ممالک میں زبان بندی کا عمل اور تیز ہو رہا ہے’’۔

جمال خاشقجی نے مزید لکھا کہ :
‘‘ عرب ممالک میں سرکاری میڈیا کی جانب سے عوام کو غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں’ عربوں کو آزاد میڈیا کی ضرورت ہے’’ ۔
جمال خاشقجی کے لکھے آخری الفاظ نہ صرف عرب ممالک بلکہ پوری دنیا پر صادق آ رہے ہیں ۔ آج مشرق سے مغرب میں کہیں بھی مکمل آزاد میڈیا کا تصور خاصا محال ہے ۔ کہیں حکومتی پابندیاں اور کہیں کارپوریٹ ورلڈ کا جبر سچ کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ 

ایک وقت تھا کہ صحافیوں کی زندگیوں کو ایشیا اور افریقہ کے پسماندہ ممالک میں خطرات لاحق ہوتے تھے یا پھر آزادانہ رائے رکھنے والے صحافیوں کی زندگیاں کیمونسٹ ممالک میں خطرات کا شکار ہوا کرتیں تھیں ۔ لیکن اب یورپ بھی صحافیوں کے لیے محفوظ نہیں رہا ۔ یورپی یونین میں ہونے والی کرپشن کی تحقیق کرنے والی بلغاریہ کی وکٹوریہ مارینوا کا قتل ہو یا پھر پانامہ لیکس کے ذریعے کرپشن بے نقاب کرنے والی مالٹا کی صحافی ڈیفنی گیلیزیا کا قتل صورتحال میں بدتری کی نشاندہی ہے ۔

معروف میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی پریس فریڈم انڈیکس 2018 کے مطابق دنیا کے جن پانچ ممالک میں گزشتہ برس صحافت اور میڈیا کی آزادی شدید متاثر ہوئی’ان میں چار ممالک براعظم یورپ میں واقع ہیں۔ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی اسی انڈیکس میں کہا ہے :

‘‘یورپ سمیت دنیا بھر میں صحافیوں اور میڈیا مخالف جذبات میں اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پر جمہوریت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں’’۔

کہا جا سکتا ہے کہ نو گیارہ کے بعد دہشت گردی کی جنگ کے لیے بنائی گئیں پالیسیوں کے باعث آج انسانی حقوق، آزادی اظہار اور جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ اقوام عالم کو سوچنا ہوگا کہ انسانی حقوق، آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم پھر یورپ کے تاریک عہدِ وسطیٰ میں پہنچ جائیں گے ۔ جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل پر پیدا ہونے والی حساسیت کے نتیجے میں ترقی معکوس کا عمل روکنے کے ٹھوس اقدامات امید افزا ہوں گے۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو مستقبل میں آئے روز ہمیں کسی نہ کسی ‘‘جمال خاشقجی’’ کا قتل افسردہ کرتا رہے گا ۔

پیر، 8 اکتوبر، 2018

پرانا دور یاد آتا ہے

دنیا کا سب سے پہلا چکلہ ۔۔۔ مسلمان حکمرانوں کے کارنامے

کمال کیا ہے ؟

open letter to prime minister of Pakistan......وزیراعظم عمران خان کی خدمت میں کھلا خط

منافقت اور منافق کی علامات

بیٹی کو اس کا مان دیجئے

نفسیاتی بیماری اور اس کا علاج

خرگوش کی چالاکی

الفاظ کاٹ کھاتے ہیں ۔۔۔ الفاظ کیا ہیں

لکھاری سچ بات کہیں

کچھ مغلیہ دور کی باتیں

جمعہ، 3 اگست، 2018

مرشد پاک دیاں ایجنسیاں شریف


آجکل ایجنسیز لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں اور کچھ دنوں بعد کالا سیاہ کرکے پانچ وقت کا پابند نمازی کرکے چھوڑ جاتی ہیں۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ سمجھ لیں بندے کے اندر جو "کیڑا" ہوتا ہے وہ کڈ کر بندے کو سیدھا تیر یعنی صراط المسقیم پر چڑھا دیتی ہیں۔
اور دعا بھی دیتی ہیں کہ جا بچہ اللہ دین ایمان کا پکا رکھے ای۔
زیادہ تو نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نا کوئی "وجہ" ضرور ہوتی ہے۔
کہ "ایجنسیوں" کو مجبوراً بندہ "چیک" کرنا پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں گہیوں کے ساتھ تھوڑا بہت گہن بھی پس ہی جاتا ہے۔
صبر کر لینا چاھے اور درجات کی بلندی کی دعا کرلینی چاھئے۔
اب یہی دیکھ لیں ۔
دہشت گردی میں کافی کمی ہوئی ہے۔ ورنہ ڈر ہی لگا رہتا تھا کہ کون کہاں پر پھٹ پڑےگا۔
الیکشن کا کنجر خانہ جو فی الحال پورے جوش وخروش سے رواں دواں ہی ہے۔ اس کے دوران ہی دو شدید قسم کے "دہشت گردی" کے واقعات ہوئے ہیں۔
لوگوں کی کافی تعداد ماری گئی اور سینکڑوں لولے لنگڑے ابھی بھی زیر علاج ہیں۔۔
فوج کو گالیاں دینے والے ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ جنہیں "ایجنسیز " اٹھاتی ہیں۔ وہ لوگ آخر کیوں "ایجنسیز" کی نگاہ میں آتے ہیں؟
مثال کے طور پر
"سوشل میڈیا" پر ہمارے سامنے سلیمان حیدر ، وقاص گورایہ ، اور ابو علیحہ کو اٹھایا گیا اور جھاڑ پونچھ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
ان تینوں کو ہم پڑھتے ہی رہتے تھے۔ اور اب بھی ان کا لکھا نظروں سے گذرتا ہی رہتا ہے۔
ابو علیحہ فی الحال زیر علاج اور آفٹر شاکس سے گذر رہے ہیں۔ کافی شبھ شبھ لکھ رہے ہیں۔
باقی دو کا "کیڑا" شاید سپورٹ تگڑی ہونے کی وجہ سے سر "اٹھاتا" ہی رہتا ہے۔
بحرحال ہم ان تینوں کے لکھے کو کسی طرح بھی "آزادیِ اظہارِ رائے" کے زمرے نہیں رکھ سکتے تھے۔
ایک دو سٹیٹس لوگوں کو جمع کرنے کیلئے "لفاظیت" سے لکھتے تھے اور پھر "حق سچ" کےنام پر "منافرت" پھیلاتے تھے۔
ساری دنیا میں "ریاستوں" کا یہی طریقہ کار ہے مشکوک بندے کو پہلے اٹھایا جاتا ہے "تفتیش" کی جاتی ہے۔
بیگناہ یا احمق بیوقوفانہ طریقہ سے سستی شہرت یا مالی فائدہ اٹھانے والا ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جاؤ تسی بیگناہ ہو۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
اگر اس "تفتیشی عمل" کے دوران بندہ سوکھ سڑ کر تھوڑا بہت "کالا کلوٹا" ہو جاتا ہے تو میرے خیال میں "اٹھائے " جانے والے کو اپنا "حق سچ" بولنے کا "معاوضہ " ادا کرنا سمجھ کر صبر شکر کر لینا چاھئے۔
اور بھولیئے مت پاکستان دہشت گردی کی زد پر ہے اور مسلسل "لاشے" اٹھائے جارہے ہیں۔

ہمارے ادھر جاپان سے قدیم و عظیم بلاگرعقلاں اور دانشاں "کمہاراں " آلی سرکار بھی بہت "حق سچ" کا پر چار کرتے رہتے ہیں۔
مذہبی منافرت ، لسانی منافرت ، نسلی منافرت ، کے علاوہ
ساڈی جان سے بھی پیاری افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ :D
بس ان کی بھی پین دی سری کی جائے :D
اس بار پاکستان یاترا کریں تو انہیں بھی ذرا ائیر پورٹ سے "چیک" کرنے کیلئے "ایجنسیوں" کو وصول کر لینا چاھئے۔
سو فیصد ضمانت دی جاتی ہے کہ کچھ فیس بک پیجز اور کچھ مشکوک "سائیٹز" ضرور ان کی "کرامتوں" کی مرہون منت چل رہی ہوں گئیں۔
کون کون سے پیج اور سائیٹز پوچھ مت لینا۔۔تُکے سے کام لیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
:D :D
اور سلیمان حیدر، وقاص گورایہ ، ابو علیحہ ان تینوں سے ضرور کوئی نا کوئی تعلق واسطہ ہوگا۔ بلکہ میرے خیال میں تو باقاعدہ روابط ہوں گئے۔
ابو علیحہ کی "مشکوک" فلم کیلئے "سرمایہ " فراہم کرنے کا تو "ایجنسیوں" کو معلوم ہو ہی چکا ہے (اندروں دی گل)
ہم نے "حب الوطنی " کا مظاہرہ کرتے ہوئے غفور انکل کو اطلاع دے دی ہے۔
پھر نہ کہنا "خبر " نہ ہوئی۔ :D
نوٹ؛-
منجانب از ادارہ خوامخواہ جاپانی ٹوٹلی حالتِ وجدبوٹ پالشی میں لکھا گیا آرٹیکل

اتوار، 22 جولائی، 2018

الیکشن 2018 سوشل میڈیا اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر


آج سے تین دن پیشتر مجھے فرخ منظور نے پاکستان کی ایک معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے آیا ہوا ایک دعوت نامہ پہنچایا کہ اتوار صبح گیارہ بجے سے ایک بجے تک ‘‘ برگد ‘‘ کی جانب سے پاکستان الیکشن 2018 کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام پر ایک مکالمہ ہو رہا ہے جس میں بلاگرز نے بھی شرکت کرنی ہے ۔

موضوع چونکہ دلچسپ تھا اس لئے سوچا شرکت لازمی کرنا چاہئے ۔۔۔ وقت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے صرف لاہور کے مرد و زن اور ایک خواجہ سرا بلاگر کو بھی اپنی طرف سے اس مکالمے میں شرکت کی درخواست کر دی ۔۔۔مگر خواتین اور خواجہ سرا بلاگر نے مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے مکالمے میں شرکت پر معذرت کر لی ۔۔۔ جس کا مجھے افسوس ہوا۔

وقت مقررہ پر جب ہم معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کے آفس پہنچے تو انہوں نے بڑی عزت سے ہمیں خوش آمدید کہا ۔۔۔ آپس میں تعارف کروانے کے بعد ہمیں الیکشن 2018 کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں اور تنظیمیوں کی جانب سے جو نفرت انگیز مواد شائع کیا جارہا تھا اس کے سروے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد ‘‘ تین کروڑ ‘‘ کے لگ بھگ ہے جبکہ دوسری جانب اس کے مقابلے میں ٹیویٹر کے ماہانہ صارفین صرف 35 لاکھ ہیں ۔۔مگر پھر بھی فیس بک کی نسبت ٹویٹر پر نفرت انگیز مواد اور اس پر اظہار رائے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ۔۔الیکشن 2018 اور سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے مرتب کی جانے والی اس رپورٹ کے لئے تیس ہزار صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تین ماہ ( اپریل 2018 تا جولائی 2018 تک ڈیٹقا اکھٹا کیا گیا ۔

یہ تحقیقایک پراجیکٹ ‘‘ پر امن الیکشن اور نوجوانوں کا کردار ‘‘ کا حصہ تھی جس میں خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی کل دس یونیورسٹیز کے 200 طلباء و طالبات نے براہ راست دو دن کے مشاورتی اجلاسوں میں حصہ لیا اور تربیت حاصل کرنے کے بعد دونوں صوبوں میں پر امن الیکشن اور نوجوانوں کے کردار کے حوالہ سے 100 کے قریب مختلف پراجیکٹس کئے ۔

اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا نفرت نانگیز مواد کی اشاعت میں کس طرح مددگار ثابت ہو رہا ہے۔اور سیاسی تشہیر میں اس قابل نفرت مواد کو سیاسی رہنما اور اس کے حامی کس طرح استمال کر رہے ہیں ۔


تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی کی تحریری مواد کے ساتھ ساتھ تصاویر ، آڈیو اور ویڈیوز کا استمال نفرت انگیز مواد پھیلانے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔۔۔اپریل سے جولائی تک کی سیاسی تشہیر میں سب سے زیادہ نفرت انگیز مواد کا استمال کیا گیا جس میں نفرت انگیز مواد کی تائید ، تشہیر اور اس پر مباحث شامل تھے ۔اس رپورٹ سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ نفرت انگیز مواد میں اعتراضات ،الزامات اور شخصی تشخص کو نشانہ بنانے کا استمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ۔۔مزید مذہبی عدم برداشت اور صنفی اعتبار سے مخالفین کو تضحیک اور قابل نفرت انداز میں پیش کرنا بھی ایک مقبول طرز عمل ہے ۔۔اس حوالے سے ٹویٹر پر ایسے ہیش ٹیگ کا استمال جا بجا دیکھا گیا جو براہ راست نفرت انگیز بیانئے پر مشتمل تھے ۔سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے حامیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر براہ راست گالم گلوچ ،عقیدے ، برادری ، پیشہ اور صنفی اعتبار سے نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ زیادہ نمایاں طور پر سامنے آیا ۔۔


اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بات سامنے آئی کہ الیکشن کے دنوں میں انفرادی اور ایک گروہ کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی تخلیق و تشہیر کو باقاعدہ ایک منظم طریقے سے بھی کیا جارہا ہے اور ایسے کئی صارفین اور پیج متحرک ہیں جو نفرت انگیز مواد کی تشہیر باقاعدہ کرتے ہیں ۔۔


معروف این جی اوز ‘‘ برگد ‘‘ کی اس حالیہ رپورٹ کی رو سے ہمیں ضرورت ہے کہ نفرت انگیز مواد کے حوالے سے قابل عمل قانون سازی کی جائے اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں جانکاری بڑھانے کے لئے نصاب میں ایسے اسباق شامل کئے جائیں جو کہ قابل نفرت رویے اور ان کے اظہار کو روکنے میں مدد دے سکیں ۔

منگل، 17 جولائی، 2018

تجربات سے سیکھنا اور "کمینگی" ۔۔۔۔ یاسر جاپانی



آ ئیے آپ کو "تجربات" کا سفر پڑھائیں :D

یکسانیت کے شکار ہوں یا تکرار مسلسل لگے تو مرغِ بسمل کی طرح بانگنا منع نہیں ہے :D

مسلمانوں کی "معصومیت" صدیوں سے "مشہور ومعروف" ہے اور "یہود ونصاری" کی عیارانہ و مکارانہ "سازشیں" بھی صدیوں سے مشہور و معروف ہیں۔۔

اسپین میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوئیں مسلمان کو سپین سے مار نکال دیا گیا۔

اٹلی کے "سسلی" اور سابقہ "صقیلیہ" میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں۔

اور مسلمان "سسلی" میں اپنی عظیم والشان نشانیاں ہی چھوڑ گئے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ "پناہ گزین" مسلمان اب بھی اسپین اور اٹلی میں ہی اپنی جان ومال و عزت مسلم ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔

ھندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی ۔

مسلمانوں کی "سلطنت" ختم ہونے کے قریب ہی تھی کہ

"احمد شاہ ابدالی" نے "مرہٹوں" کو ایسی شکست فاش دی کہ "مرہٹے" ہمیشہ ہمیشہ کیلئے "پانی پت " میں نیست و نابود ہوگئے۔

پھر "برطانوی گوروں " نے "سازش کرکے "مسلمانوں" کی حکومت کا خاتمہ کیا اور "جھوٹا" بیان دے دیا کہ

ہم نے تو انڈیا کا "اقتدار" مسلمانوں سے نہیں "مرہٹوں" سے چھینا ہے۔

"مغل شہنشاہیت" ایک "نشانی" کے طور پر وجود ضرور رکھتی تھی۔

زیادہ تر "مولوی" اور "شاعر" اس شہنشاہت کے "ٖخطبے و قصیدے" پڑھتے رہتے تھے۔

اور ہندوں سکھوں اور مسلمانوں کے راجاؤں ،نوابوں اور نکے نکے بادشاہوں کی اپنی اپن ریاستیں تھیں۔

جو کہ ایک دوسرے سے ہمیشہ "خطرے" میں ہی رہتی تھیں۔جیسے ہی "بیرونی" طاقت کو دیکھا سب ایک دوسرے کے خوف سے اس "بیرونی" طاقت کے ہاتھ پاؤں مضبوط کرنا شروع ہوگئے تھے اور ہوجاتے تھے۔

"خلافت عثمانیہ" کی بحالی تحریک "ہندوستان " میں زور وشور سے جاری تھی۔۔۔

"عرب" ترکوں سے "آزادی" کی جنگ لڑ رہے تھے۔یہودی اسرائیل کے قیام کی سازشوں میں لگے ہوئے تھے۔

تھوڑا ماضی میں جائیں تو "برصغیر" کا یہی حال تھا۔ہر "بیرونی طاقت" سے مل کر ایک دوسرے کی "بینڈ " ہی بجائی جاتی تھی۔

اللہ انگریز کی عمردراز کرے اور برطانیہ کو تاقیامت قائم رکھے۔ کہ وکٹوریائی ہندوستان کے تمام راجے مہاراجے نواب وغیرہ کے خاندان اب بھی اپنے لئے "لندن" کو ہی زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

اور اپنی "بادشاہت" کے مزے لینے کیلئے سال میں چند بار انڈیا پاکستان بھی آجاتے ہیں۔

ہم نے اپنے تجربے سے یہی سیکھا ہے کہ " ہندوستانی ، پاکستانی ، افغانستانی" مسلمان نے ہر حال میں ایک دوسرے کے "خلاف" سازش کرنی ہوتی ہے۔

چاھے اس کا ایک ٹکے کا فائدہ بھی نہ ہو۔

فیس بک کی وجہ سے جاپان میں بھی "پاکستانی و جاپانی " ہمارے "انجانے" جاننے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جس کا ہمیں کافی عرصے بعد "علم" ہوا۔

وہ بھی اس طرح کہ فیس بک نے پرانی آئی ڈی بلاک کردی تو

"تھرتھلی" مچ گئی۔۔۔

ابے۔۔۔۔۔یہ کیا ۔۔۔۔روزانہ کوئی نا کوئی کسی ناکسی طریقے سے "کھوج " لگا رہاہے۔!!

بس کچھ ایسی ہی حالت تھی۔

ابے ۔۔اگر پڑھتے دیکھتے تھے تو "لائیک " ہی کر دیا کرتے؟

یا کم ازکم "اچھا یا برا" کمنٹ ہی کردیا کرتے تاکہ ہمیں بھی معلوم ہوا۔ آپ کو ہمارا "لکھا" سمجھ آیا ہے کہ نہیں؟ یا کم ازکم "مہذب" انداز میں آپ اپنی "رائے" کا اظہار ہی کردیتے؟

تاکہ ہم ہی آپ سے کچھ سیکھ سکتے۔

غیر ضروری "سازشی" ذہنیت کا آخری تازہ تازہ انتہائی "بے فضول تجربہ " ہمارے ساتھ تین چار ماہ پہلے واقعہ ہوا تھا کہ

ایک جاننے والے جو کہ کافی " کمپلیکیٹڈ پرسنالٹی" ہیں۔ کبھی کبھی ملاقات کرنے آجاتے تھے۔ تو ہم بھی "مروت"میں صاف انکار نہیں کرتے تھے کہ کسی کی دل آزاری کرنا بھی اچھی بات نہیں ہے۔

ایک بارریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ بل ادائیگی کے وقت "میں دوں گا ، میں دوں گا" کا ڈرامہ چلا اور آخر کار "ہیرو" کا سین مجھے مل گیا۔

جب میں بل ادا کر رہا تھا۔ تو سامنے "کھڑکی کے شیشے" پر نظر پڑی رات کا وقت تھا۔ دیکھا ایک "ارب پتی " بزنس مین کرسی پہ بیٹھے بیٹھے ہی خوشی میں دیوانگی سے ہاتھ اٹھائے ناچ رہے ہیں۔

ارے۔۔پین دی سری ۔انہیں کیا ہوا؟!!

حیرت سے گردن موڑ کردیکھا تو

بالکل سنجیدہ چہرے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔!!!

ابے۔۔۔۔۔یہ کیا؟!!

ظاہر ہے ہم نے اپنی " سادگی" کے باوجود دنیا دیکھی ہے۔بندے کے "اندر کا چینل" میرے خیال میں ، میں بہت اچھی طرح "پڑھ " لیتا ہوں۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ عموماً "نظر انداز" کر دیتا ہوں۔ جس سے مجھے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اچھے برے لوگوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

بحرحال ۔۔۔

کہنے کا مقصد یہ ہے۔

کم ازکم پاکستانی "عیاری و مکاری و چالاکی" موقعہ پرستی، مفاد پرستی ، خود غرضی اور خاص کر ضروری و غیر ضروری سازشیں کرنے میں "اپنی مثال" آپ ہیں۔

مجھے ان "ارب پتی" صاحب کی حرکت کا "مقصد" بالکل سمجھ نہیں آیا تھا اور نا ہی آیا ہے۔

شاید ان کی " خوشی " کی وجہ

1ٓ- ہم لوگوں نے جو مشترکہ کھانا پینا کیا تھا اس کا خرچہ میری جیب سے کروانا انہیں میرا نقصان لگا تھا اور انہیں میرے نقصان کی "خوشی" ہوئی تھی۔

حالانکہ ان سے میری نا ہی دوستی ہے اور نا ہی کوئی کاروباری تعلق!۔

بس ایک "مشترکہ " دوست یا جاننے والے صاحب کی وجہ سے دسترخوان کااشتراک ہوگیا تھا۔

2- ان صاحب کے دل میں میرے لئے کسی "وجہ" سے شدید کا قسم کا "بغض و عناد یا حسد" جڑ پکڑے بیٹھی تھی۔

اور ان کے خیال میں "بل" کی ادائیگی کرنے سے میرا "نقصان" ہوا ہے ۔ اور میرے جیسے غریب مسکین بندے کیلئے یہ بہت بڑا" جانی نقصان" ہے۔ انہیں اس بات کی خوشی ہوئی تھی؟

3- یا صرف صدیوں کی اپنے آپ کو "مسلمان" کہنے والی "ذہنیت" کی "گندگی" تھی ۔

جو کہ وجہ بلاوجہ ایک دوسرے کے خلاف موقعہ پاتے ہی متحرک ہو جاتی ہے۔ اور "تعلق واسطے رشتے" کی کوئی بھی کم سے کم شکل ہونے کی صورت میں "تکلیف" پہونچانے کی "کمینگی" اچھل کر باہر آگئی تھی؟۔

*

ہماری یہ "کمینگی" اس وقت "پائے تسکین" پہونچتی ہے۔ جب تک ہم "دوسرے" کا جانی مالی نقصان نہ کردیں۔

یہ "کمینگی" ہمیں سماجی ، معاشرتی معاملات میں "اکثر" دکھائی دیتی ہے اور ہم بہت اچھی طرح اس "کمینگی" سے واقف ہیں۔

ملکی قومی اور سیاسی سطح پر آجکل ہمیں "باپ بیٹی " کا جیل جانا ایک عجیب سی "کمینی قسم " کی "تسکین" دے رہا ہے ۔

سابقہ بیوی ریحام خان کی "کتاب" کے بارویں باب کے بعد جو "رنگین" قسم کی "تذلیل" پڑھنے کو ملتی ہے اس کا اپنا ہی مزا ہے۔

اور عمران خان کا "پٹواریوں" اور لہوریوں کا "کھوتا" کہنے کے انداز نے جو لطف دیا اس "کمینگی" کو لہوریوں کی کھوتا خوری سے جوڑ کر جو مزا آیا اس کے کیا کہنے۔

اور ڈی چوک میں کٹی پتنگ کی طرح جھوم جھوم کر ناچ گانا کرنے والے پرویز خٹک کا "ناچ گانا" کرنے والوں کے گھر کو جھنڈے والا"طوائف" کا گھر کہنے سے "دل ہی دل" میں جو "کمینی سی خوشی" ہوئی اس کا تو جواب ہی نہیں۔ :D

مندرجہ بالا تمام "کمینگیوں" پر غور کیجئے۔!!

ان کے فوائد بھی اور نقصانات بھی "ہم سب" کے "مشترکہ" ہیں۔

جب ہم "خاک" ہو جائیں گئے۔

تو "یاد " کرنے والے "اچھے یا برے" الفاظ میں ہمیں ضرور یاد کریں گے۔

لیکن کیا ہے کہ

ہم نہ ہوں گے۔ اور دنیا چند دنوں کی ہی ہے۔

ہم صدیوں سے "جاری " کمینگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔۔

جو کہ

"بارودی جیکٹ" پہن کر پھٹے بغیر بھی کی جا سکتی ہے۔ :D

خلافت راشدہ جیسی "بابرکت و مقدس" ریاست تاقیامت قائم نہ رہ سکی تو ہماری تمہاری "ڈیڑھ اینٹ " کی "عبادت گاہ" کس کھیت کی مولی ہے۔

بحرحال "خدا" واقعی ہمیں "تجربات" سے "سیکھنے" کا موقعہ دیتا ہے۔

اور ہمارے اندر کی "کمینگی" ہمیں "سیکھنے " نہیں دیتی۔

اتوار، 8 جولائی، 2018

شہزاد سلیم وفات تو پاگئے مگر۔۔۔۔۔۔۔تحمینہ رانا

شہزاد سلیم وفات تو پاگئے مگر۔۔۔۔۔۔۔
جیسی کرنی ۔۔۔ویسی بھرنی 🤔🙄😢
اللہ ظالم کی رسی دراز کرکے جب سمیٹتا ہے تو بڑے بڑے پھنے خان۔۔۔ بھیگی بلی بن جایا کرتے ہیں
یہ ایم کیو ایم کلر اسکواڈ کا سربراہ سلیم شہزاد ہے۔ اس کے اشاروں اور ذو معنی باتو ں کو قتل کا آرڈر ٹصور کیا جاتا تھا۔ جب یہ کہتا تھا کہ فلاں شخص کی آنکھیں خوبصورت ہیں تو ایم کیو کے قآتل اسکواڈ کے لوگ اس شخص کو قتل کر کے اس کی آنکھیں پلیٹ میں رکھ کر سلیم  شہزاد  کو پیش کرتے تھے۔ جب یہ کہتا تھا کہ فلاں شخص بہت اچھی باتیں کرتا ہے تو اس کی زبان اسے پیش کی جاتی تھی۔ جب یہ کہتا تھا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا فلاں کھلاڑی کل سنچری بنائے گا تو کراجی میں دوسرے دن سو سے زیادہ قتل ہوتے تھے۔ اس کا کلر اسکواڈ پر اتنا کنٹرول تھا کہ ایم کیو ایم کے لوگ بشمول قاتل اعظم الطاف حسین اس سے خوفزدہ رہتا تھا۔ خلائی مخلوق کے لوگ بھی یہ جاننے کی کوشش میں لگے رہتے تھے کہ آج اس نے کس سے کیا بات کی اور اس بات کا مطلب کیا ہے۔ تاریخ نے ہماری نسلوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ وقت سلیم شہزاد سے زیادہ بے رحم اور سنگ دل ہے۔ شاید ہماری نسلیں سلیم شہزاد کے ظلم کے خوف سے اس حقیقت کو تسلیم نہ کر سکیں لیکن تاریخ کی یہ حقیقت کئی بار بے شمار نسلیں تسلیم کر  چکی ہیں کہ وقت سلیم شہزاد سے زیادہ بے رحم اور سنگ دل ہے۔

کافر کافر کردی نی میں آپے کافر ہوئی

منگل، 3 جولائی، 2018

کراچی کے عوام انسان ہیں یا بے زبان جانور


تمام حکمرانوں نے پاکستان بننے سے آج تک عوام کے ساتھ جو کھلواڑ کیا سو کیا ۔۔۔۔ مگر کراچی کے ساتھ جو ظلم و بربریت کی گئی ۔۔۔ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔۔۔۔

پاکستان بننے سے آج تک وہاں پینے کا پانی تک میسر نہیں
ڈاکو زنی عام ہے
قتل و غارت گری عام ہے
چوری چکاری اور راہزنی کی روزانہ ہزاروں وارداتیں ہوتی ہیں
بھتہ خوری وصول کرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کے غنڈے دھڑلے سے پیسے وصول رہے ہیں
کراچی والو ۔۔۔۔ اب تو ہوش کے ناخن لو ۔۔۔۔۔۔۔ اور
بتا دو ان سب حکمرانوں کو تم بھی انسان ہو

پیر، 2 جولائی، 2018

‘‘ تصوف‘‘ کا ایک فرقہ ، فرقہ سہیلیہ کا تعارف اور اس کے کمالات ۔۔۔یاسر جاپانی


‘‘ تصوف‘‘ کا ایک فرقہ ، فرقہ سہیلیہ ہے

اس کے پیشوا کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ ایک بار اپنے مرید کو حکم دیا کہ
دن رات یاللہ یااللہ یاللہ کا ورد ہی کرتے رہا کرو۔
مرید دن رات ہر وقت یہی کرتا رہا تو ایک وقت آیا کہ سوتا تھا تو "خواب" میں بھی یہی ورد کرتا رہتا تھا۔
ایک دن مرید اپنے گھر میں "اکیلا" تھا۔ کہ
گھر کی وزنی لکڑی گری اور مرید کا سر پھٹ گیا۔
مرید کیا دیکھتا ہے۔ کہ
اس کا بہتا خون بھی "یاللہ یااللہ یااللہ" لکھتا جا رہا ہے۔
یہ فرقہ سہیلیہ کے مرشد کے مرید کی کرامت "کشف المحجوب" میں رقم ہے۔
""مرشد" کی "پہونچ" کہاں تک ہوگی ؟
میرے خیال میں یہ سوچنا بھی "گستاخی" ہے۔
کیونکہ مذکورہ بالا "کرامت" میں اللہ کا ذکر آگیا ہے۔
تو اس کے بعد کسی "ایمان" والے "مسلمان" کا اس واقعہ پر شک کرنا "گناہ" ہی سمجھا جائے گا۔
اس لئے ہم گستاخی سے بچتے ہوئے مزید "کشف المحجوب" میں رقم "بزرگان دین" کی "خوابوں" اور "کرامتوں" کے تذکرات سے اجتناب کرتے ہیں۔
اگر آپ "شوق" رکھتے ہیں۔ تو خود مطالعہ کرلیں۔
باقی اللہ جسے "ھدایت نصیب کرتا ہے" اس کیلئے "دنیا و آخرت " کے "رول اینڈ لاء" آسان آسان الفاظ میں بتا چکا ہے۔ فاتحہ پڑھنے تک پہونچنے والا جب سیدھے رستے والے "نیوی گیشن " کیلئے "اپلیکیشن" ڈالتا ہے ۔
تو سورہ بقرہ کی پہلی آیت ہی میں کہاگیا ہے کہ "ھدایت یافتہ " کیلئے یہ "روڈ میپ" ہے۔اسے فالو کری جاؤ تے بیڑے پار ہو جائیں گئے۔
موجودہ دور کے "قطب" مولانا علامہ ڈاکٹر پروفیسر شیخ الاسلام جناب اعلی حضرت عزت مآب طاہر القادری برکاتہم کی بہت ساری کرامتوں کی ابتداء ان کی "وڈیو" ثبوت کے ساتھ موجود ہے۔ کہ
انہیں ایک "خواب " دکھائی دیا۔ اور پھر "خواب ہی خواب" میں "پی آئی اے" کے ٹکٹ کے علاوہ رہائیشی اور کھانے پینے کا خرچہ بھی ان کے ذمے ڈال دیا گیا۔
حضرت طاہرالقادری رحمۃ اللہ علیہ کی یہی کرامت بہت مشہور ہے کہ
وہ کبھی بھی صبح ناشتہ کرکے سکول نہیں گئے۔
اور ناہی کبھی "پک اینڈ ڈراپ" والے انکل انہیں سکول مدرسے لانے لیجانے کیلئے "ہائیر " کئے گئے۔
"حضرت طاہر القادری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ان کے "والدین " اور "محلے" والے بھی شہادتیں دیتے ہیں۔ کہ
حضرت کی تعلیم و تربیت کا بندوبست اللہ تبارک تعالی نے خصوصی طور پر فرمایا تھا۔
وہ "بزرگان دین اور تمام مشائخ" سے "عالمِ بالا ، عالمِ ارواح ، عالمِ برزخ" میں تعلیم حاصل کرتے رہتے تھے۔
اور "دستار بندی" بھی ان کی "عالمِ برزخ" میں ہوئی ہے۔
کسی قسم کا شک یا سوال کرنا "گستاخی" سمجھا جائے گا "عاموں" کی ذہنیت پست ہوتی ہے۔
اللہ کے "مقرب" اور "پہونچے" ہوئے بندوں کی باتیں انہیں سمجھ نہیں آتیں۔
حضرت مولانا مرشد پاک خادم حسین رضوی برکاتہم والتبرکاتہم کی کئی "کرامتیں ہم ان کی زبان سے سن چکے ہیں ۔
جن کی وڈیو ز بھی "شوشل میڈیا" پر بکثرت پائی جاتی ہیں۔اور الحمد اللہ حضرت مرشد پاک "حیات" ہیں ۔
ان گنت "کرامتوں" کے ظہور کا مزید "ممکنہ" خدشہ موجود ہے۔
ہوسکتا ہے کہ 25 جولائی کے بعد قوم ان کا خطاب قومی اسمبلی سے ڈائریکٹ سنے۔
لیکن مرشد پاک کی دو کرامتیں آپ کو بتاتے چلیں ۔
کہ ایک شہید ممتاز قادری سے ایمبولینس میں "خلوت " ملتے ہی "گفت و شنید" اور "پُلس" آلوں کا واپس آتے ہی قادری شہید رحمۃ اللہ کا دوبارہ چادر اوڑھ کر سو جانا۔
اور جب ڈاکٹروں نے مرشد پاک کے گردے فیل ہونے کا کہہ کرجواب دے دیا تو مرشد پاک نے 'انگل" گردوں پر رکھی ۔
اور انہیں حکم دیا کہ "ٹھیک ٹھیک کام کرو اوئے"
بس اس دن کے بعد گردوں نے پہلے سے زیادہ تیز رفتاری سے کام کرنا شروع کردیا۔
اور "سٹیج " کے نیچے بیٹھے "مریداں" پر بارانِ رحمت برسنا شروع ہو گئی۔
ایک "مولوی" صاحب کو "خواب" آیا کہ جو "مرشد پاک " کے ساتھ ہے وہ "کُل" کے ساتھ ہے۔
یہ خواب مولوی صاحب نے "قسمیں" اٹھا کر مجمعے کو بتایا تو فضا نعرہِ تکبیرکی گونج سے "لرز" اٹھی۔
اب "ثانیِ حضرت رابعہ بصری" کی "کرامتوں" کا بھی ذکرکردیتے ہیں۔ حضرت بشری بی بی رحمت اللہ علیہ اپنے وقت کی "حسین ترین" خاتون ہوتی تھیں۔
پھران کی آزمائیش اسطرح شروع ہوئی کہ
ایک مشہور زمانہ "راشی " اعلی افسر سے ان کی شادی ہوگئی۔ اللہ تبارک تعالی نے انہیں استقامت عطا فرمائی ۔
نیک اور صالح اولاد سے نوازا۔
حضرت بشری بی بی برکاتہم کی شب و روز کی محنت رنگ لائی اور پہلی "کرامت" کا ظہور ان کے "شوہر مجازی" کو خدا نے "عاجزی و انکساری " سے ایسا نوازا کہ "پاکپتن شریف کے "در " پر "حاضری کیلئے جاتے ہوئے ۔
ہر دو قدم پر دومیل کی مسافت سے "سجدہِ تعظیمی " کرتے ہوئے حاضری دیتے ہیں۔۔
حضرت بشری بی بی برکاتہم کو پھر "خواب" آیا۔
اور "گفت و شنید" کے بعد "رضائے الہی" سے "شوہر" سے "خلع" حاصل کی اور "مریدِ خاص" سے بعد از عدت "نکاح" فرما لیا۔
پھر دنیا نے دیکھا کہ "مرید خاص" کی ھئیت ہی بدل گئی ۔ عاجزی انکساری کا یہ عالم تھا کہ مرید خاص جو کہ ممکنہ "حکمران وقت" تھا۔
اور "شہنشاہیت " کی ہما کو "مرید" خاص کے سر پر بٹھانے کی "کرامت" بھی حضرت مرشدہ بشری بی بی کی ہے۔ مزید یہ کرامت ہے۔کہ ننگے پاؤں عاجزی و انکساری میں گلی گلی اور در در "ماتھا" ٹیک رہا تھا۔
تصور کیجئے۔۔۔
آج سے چند صدیوں بعد "ہمارا" لکھا یا کسی "پہونچے" ہوئے بزرگ کا مذکورہ بالا"بزرگ" مقدس ہستیوں کا لکھے تذکرے کی طرح کسی کتاب میں ہوگا تو کیا ہوگا؟
لوگ "عقیدت" سے ہی "علم ِتصوف" کی "کرامات" پہ "سبحان اللہ ہی کہہ رہے ہوں گئے۔
مرشد حضرت پاک طاہر القادری کا
وقتِ کے "فرعونوں" کے سامنے اور غریب و مظلوم عوام کی "حاجت روائی ، مشکل کشائی" کیلئے ڈٹ جانے والے "غوث ،قطب ، ابدال" کے طور پر "تذکرہ" شریف ہو سکتا ہے۔
اسی طرح سلسلہ پین دی سری کے مرشد پاک کا "تذکرہ شریف "دلووں اور کنجروں" سے معرکے اور "کرامتوں " کا ہو سکتا ہے۔
"سلسلہ رن مریداں" کی حضرت مرشدہ بشری بی بی کا تذکرہ شریف بھی " شوہروں" کو نتھ پانے اور "وزارت عظمی " سے آگے "تخت شہنشاہیت" پر بٹھانے کا مقدس طریقے سے ہو سکتا ہے۔
جس طرح "قرآن و حدیث " کو "کشف المحجوب" میں "کرامتوں " اور بزرگوں کے "تذکرے " کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
اس طرح سے ہوبہو "نقل" کرنے کی صورت میں کون "انکار" کرنے کی گستاخی کر پائے گا؟
"شریعت اور طریقت" کو لازم و ملزوم کر دینے سے "آسان آسان آیات" میں بیان کر دیا گیا "دین" ایک عام مسلمان کیلئے "جان جوکھوں" اور دردر کی "چوکٹھوں " پر سجود کرنے کا مشکل دین بنے گا کہ نہہں؟
"بل بتوڑی" اور "زکوٹاجن" کا روحانی قصہ تو تاقیامت امر ہو جائے گا۔۔

اتوار، 1 جولائی، 2018

وڈے سائیں کا بھٹو اب بھی زندہ ہے




میں پیپلز پارٹی قائدین کی فراست کا انتہائی معترف ہوں

جب ایشوز، شک و شبہات اورالزام تراشیوں کے جکھڑ چل رہے ہوں تو بہت اعتدال اور صبر سے کام لیتے ہیں، بالکل ہی کوئی ہلکی حرکت نہیں کرتے، کوئی اوچھا بیان نہیں دیتے ۔

وقت کے ساتھ جب دھول بیٹھتی ہے تو پھر ایفی ڈرین کیس بھی دب جاتا ہے، حج سکینڈل بھی خاموش ہوجاتا ہے، ایان بھی باہر چلی جاتی ہے، اینٹ سے اینٹ بجا دینا بھی بھول جاتا ہے، نیب اور نیب کی بھی ماں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔

یہ اپنے وفاداروں کو، اگر وہ زبان بند رکھنے کی شرط پر پورا اتر جائیں تو؛ معاملہ چار سو ارب کا ہو یا اسی ارب کا، بندہ جیل میں ہو یا پاتال میں، ناصرف باعزت باہر نکال کرتے ہیں بلکہ انہیں معاشرے کا باعزت فرد ثابت کرنے کیلئے سونے کے تاج پہناتے ہیں۔

ہاں کچھ ہولے اور کم ظرف ساتھی بھی تو صفوں میں آ جاتے ہیں تو ایسے میں بلوچ شلوچ جیسے دوست کس کام کیلئے ہوتےہیں۔ حادثے تو حادثے ہی ہوتے ہیں پوچھتے تھوڑا ہی ہیں کہ آپ خالد شہنشاہ ہیں یا مرتضی بھٹو_

آج کے ہنگامے میں کتنے بڑبولے ہونگے؟ دس، بیس، پچاس؟ تھنک ٹینکس ان کی خاموشی کیلئے کیا تجویز کرتے ہیں، حصول اقتدار کے سامنے نہ تو مہنگا ہے اور نہ ہی ناممکن۔

لیاری کل بھی پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا اور کل بھی گڑھ ہی رہے گا۔ ناراض جیالوں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ وڈے سائیں کو خود جانا پڑ جائےگا۔

اور وڈے سائیں کے جلوس کے ساتھ اگر کسی نے ایسی ویسی حرکت کرنے کا سوچا بھی تو ۔۔۔۔۔۔

زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ۔۔۔وڈے سائیں کا بھٹو زندہ ہے

ہفتہ، 30 جون، 2018

انسان اور انسانیت ابھی زندہ ہے

تحریر ۔۔ محمد دین

اندرون سندھ, محراب پور کے قریب گوٹھ💞 "نوّں پوترا"💖  کے مکینوں کا یادگار کردار

آج 27 up شالیمار ایکسپریس کراچی سے لاہور جاتے ہوئے محراب پور سے چند کلو میٹر آگے ایک بڑے حادثہ سے بال بال بچی.🌹الحمدوللّہ🌷 ٹرین جبکہ تیز رفتاری سے سفر کر رہی تھی تو اکانومی کلاس کی ایک بوگی کے پہیے ہی ٹرین سے تقریبآَ الگ ہو گئے.ٹرین ڈرائیور نے بروقت بریک لگا کر ٹرین کو روک لیا.
سخت گرمی میں دو بڑے سٹیشنوں کے درمیان ٹرین ایسی جگہ کھڑی تھی کہ جہاں کسی آبادی کا نام و نشان نہ تھا. مسافر سخت پریشان. بچوں کے رونے دھونے کی آوزیں. خواتین گرمی میں بے حال اور اس پر مزید یہ کہ بقول ٹرین سٹاف, امدادی کاروائیوں میں چھ گھنٹے لگ سکتے ہیں.
اس بے آباد جگہ پر عجب بے بسی کا احساس اور کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کہ کیا کریں.
اچانک ایک ایسا منظر دیکھا کہ جسے الفاظ میں بیان کرنے کا میں اپنے اندر حوصلہ نہیں پاتا. وہ منظر دیکھ کر بے اختیار , زار و قطار میری آنکھوں سے اشک رواں تھے.  درختوں کے بیچ کھیتوں کے درمیان نہ جانے کدھر سے قریبی دیہات کے باسی قطار اندر قطار آنا شروع ہو گئے.
عجیب منظر تھا.
کسی نے پانی کا کولر اٹھایا ہوا ہے اور کسی نے گھڑا. کوئ جگ اٹھاے ہوے ہے اور کوئ دودھ کا برتن. اپنی پگڑی میں کوئ بزرگ برف کا تحفہ لا رہا ہے اور کچھ نوجوان بوریاں بھر کر برف لا رہے ہیں. ہر ایک کی خواہش ہے کہ مسافر اسے خدمت کا موقع دیں.
چند منٹوں میں چنے چاول پلاؤ کی بھری ہوئ دیگ ایک رکشہ پر لائ گئ. غریب لوگوں کے پاس قیمتی برتن نہ تھے تو چاول کھلانے کے لیے مٹی کی بنی ہوئ پلیٹیں اٹھاے ہوے تھے. آتے ہی سب کھانے پینے کی چیزیں بانٹنا شروع کر دیں. ایک عمر رسیدہ شخص کپڑے میں ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لاے تھے.
گاؤں کے نوجوانوں کا کردار مثالی تھا. گرمی کی شدت سے بے نیاز  تمتاتے چہروں کے ساتھ ایک جنونی انداز میں امدادی کام میں شریک تھے.
نہ مدد کرنے والے جانتے تھے کہ وہ جس کی مدد کر رہے ہیں وہ کس صوبے, کس ذات برادری, کس مزہب سے تعلق رکھتا ہے اور نہ پریشان حال مسافر جانتے تھے کہ ان کی مدد کرنے والے فرشتہ صفت لوگ کہاں سے آئے ہیں؟
بس ایک ہی رشتہ تھا, انسانیت کا, پاکستانیت کا اور احسان کا.
اسی دوران اطلاع ملنے پر پولیس کے مقامی افسر اللّہ رکھیو رند بھی اپنی پولیس پارٹی کے ہمراہ پہنچ گئے اور اپنے فرائض سنبھال لیے.
میں نے گاؤں کے ان نیک سیرت امدادی کارکنوں سے انفرادی طور پر مل کر ان کا شکریہ ادا کیا اور دل کی گہرائیوں سے انہیں دعائیں دیں. وہ انسانی ہمدردی کے جزبہ سے سرشار سادہ دل لوگ بے حد خوش نظر آ رہے تھے کہ انہیں خدمت کا موقع ملا.
اسی دوران ریلوے کی امدادی کاروائیاں مکمل ہوئیں تو ٹرین کو واپس محراب پور  لانے کا فیصلہ ہوا. ٹرین کی روانگی کے وقت ان دیہاتوں کے امدادی کارکن اس طرح ہاتھ ہلا کر الوداع کہہ رہے تھے جیسے اپنے کسی بہت خاص عزیز کو رخصت کیا جاتا ہے. ہماری آنکھوں میں بھی تشکر کے آنسو تھے.
چند گھنٹوں کی یہ رفاقت بہت سے سبق دے گئ کہ ہمارے پاکستان کے عوام کتنے اچھے ہیں, ہمدرد, دکھ درد بانٹنے والے, مصیبت میں کام آنے والے, اپنا پیٹ کاٹ کر دوسروں کی مدد کرنے والے اور فرض شناس.
اس جزبے اور ایثار کو میں کوئ نام دینے اور الفاظ میں ڈھالنے سے قاصر ہوں. مٹی کا گھڑا اٹھاے وہ سادہ سا دیہاتی شخص اور  مٹی کی پلیٹوں میں کھلایا جانے والا پلاؤ انمول تھا.
اللّہ تعالیٰ ان سب کو جزائےعظیم دے, ان کے رزق میں وسعت وبرکت عطا فرمائے اور ان کو دنیا و آخرت کی بھلائ عطا فرماے. آمین

اچھی بات کو پھیلانا بھی نیکی ہے. اس تحریر کو پڑھ کر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ معاشرہ میں بھلائ اور نیکی عام ہو. میں یہ تحریر جائے حادثہ پر ہی لکھ کر محراب پور سٹیشن سے پوسٹ کر رہا ہوں
Muhammad Deen

واقعہ کی تصاویر ملاحظہ فرمائیں.

جمعہ، 29 جون، 2018

مرشد پاک ۔۔۔سچی کہانی ۔۔یاسر جاپانی




سخت گرمی کا موسم تھی۔

"بھوک پیاس افلاس" کی شدت تھی۔

لیکن "مرشد" مجبور تھے۔

سفر کئے بغیر چارہ نہیں تھا۔ غریب عوام کی "حاجت روائی مشکل کشائی" کا فریضہ انجام دیناتھا۔

"عوام الناس" بہت دکھی تھی۔ کوئی سر پہ دستِ شفقت رکھنے والا نہیں تھا۔

ایک طویل تھکا دینے والا سفر کرکے "مرشد" نے اس "وحشت زدہ" شہر میں قدم رنجہ فرمایا تھا۔

منزل مقصود پر پہونچتے ہی "مرشد" پر "بھوک و پیاس" نے شدت سے حملہ کر دیا۔
"مرشد " نے آسمان کو دیکھا نیچے زمین کو دیکھا۔
لوگوں سے "کھانا پانی" کا تقاضا کیا۔

لوگ " بے راہرو راہنجار" تھے۔ "مذہب" سے دوری لوگوں کے چہروں پر نحوست برسا رہی تھی۔

ہر طرف سے "انکار" ہوا۔

ایک قصائی چھیچھڑے اور ھڈیاں علیحدہ کرکرکے دکان کے تھڑے تلے بیٹھے کتوں کے سامنے پھینک رہا تھا۔

قصائی کی نظر اچانک ۔۔۔۔۔"مرشد " پر پڑی تو اس کے "دل" میں رحم کا جھماکا ہوا۔۔۔۔۔۔اور قصائی نے سب سے اچھا گوشت کا ٹکڑا کاٹ کر "مرشد" کی خدمت میں پیش کردیا۔

"مرشد" گلی گلی لوگوں کے در در پھرے کہ کوئی "آگ" دےدے تاکہ "گوشت" بھون کر اپنی بھوک مٹا سکیں۔

لیکن "بے رحم و ظالم" لوگوں نے "آگ" نہ دی۔

"مرشد" کو جلال آگیا۔۔اینج کرکے۔۔۔

مرشد نے ہاتھ لمبا کیا اور "سورج" کو اینج کرکے نیچے لے آئے اور سورج کی تپش سے "گوشت " کا ٹکڑا بھون کراپنی بھوک مٹائی۔

بس اس دن کے بعد "شہر" کے لوگوں کو سزا کے طور پر مسلسل صدیوں سے سورج کی "گرمی" سے ساڑے ہی جارہے ہیں۔

قصائی کے احسان کا صلہ اسطرح عطا کیا کہ
قصائی کو "برف کا کار خانہ " عطا کر دیا۔

اب قصائی مزے سے ٹھنڈے برف خانے میں بیٹھے برف بیچ رہا ہوتا ہے۔

اور ملتانی ۔۔۔۔۔۔۔استغفراللہ
ملتان تاں بھوں گرمی پیندی ھو۔۔۔۔۔۔اللہ ھو۔

نوٹ؛- چیلنج کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی مائی کا لال اس کہانی کو جھوٹا ثابت کرکے دکھائے۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔پُرتقدس انداز میں بیان کوئی بھی کر سکتا ہے۔۔

اور انیس بیس کا فرق تو چل ہی جاتا ہے۔۔انداز اپنا اپنا :D

دلچسپ بات ایک یہ بھی ہے کہ "تمام" مرشدان پاک موجودہ دور کے سیاستدانوں کیطرح علاقے بانٹا کرتے تھے۔

جمعرات، 28 جون، 2018

کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟ ۔۔ مہتاب عزیز






کیا عمران خان ہنی ٹریپ کا شکار ہوچکے ہیں؟؟

حالات تو اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 66 سال کا جہاندیدہ سیاستدان کیا دامِ الفت (honey trap) کا شکار ہو سکتا ہے؟
اس کا جواب ہاں میں ہے، دنیا کے کئی سیاسی اور عسکری رہنماوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جہیں ڈھلتی یا آخری عمر میں دامِ الفت (honey trap) میں پھنسا کر استعمال کیا گیا۔

خصوصا پاکستانی سیاستدانوں اور فوجی سربراہوں کے ریکارڈ تو اس سلسلے میں بہت خراب ہے۔ یوں تو اس دامِ الفت (honey trap) میں پھنسنے والوں میں پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ جن کا تعلق پنجاب کے علاقے کرنال سے تھا۔ جنہوں نے 38 سال کی عمر میں دوسری شادی بیگم رعنا سے 1936 میں ہوئی۔ بیگم رعنا کی پیدائش ہندوستان کے علاقے اترکھنڈ میں الموڑہ کے مقام پرایک عیسائی خاندان میں ہوئی اور ان کے والد ڈینیل پنت نے ان کا نام شیلا آئرین پنت رکھا تھا۔ شیلا آئرین پنت نے بعد میں لیاقت علیخان کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنا مذہب تبدیل کیا۔ اور شادی کے بعد رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔ پاکستان آرمی نے انہیں پہلی خاتون بریگیڈئر جنرل کا اعزاز دیا۔آپ نے پاکستان کی پہلی خاتون سفیر کے طور نیدرلینڈ، اٹلی اور تیونس میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہیں۔بعدازاں بھٹو نے انہیں سندھ کی پہلی خاتون گورنر کے طورپر تعنیات کیا۔ بیگم رعنا پاکستان میں خواتین کو گھروں سے نکالنے، آزاد خیالی اور پردے کی مخالفت کی بانی ہیں۔ انہوں نے اپوا کی بنیاد رکھی جس نے پاکستان کی ابتدا سے شرعی قوانین کے نفاذ کی مخالفت کی۔

دامِ الفت (honey trap) کا باقاعدہ شکار ہونے والا پہلا پاکستانی سربراہ گورنر جنرل غلام محمد تھا۔ فالج کا شکار یہ معذور شخص آخری عمر میں ایک جرمن نژاد امریکی خاتون روتھ بورال کی زلف کا اسیر ہوا۔ یہ ایک ایسا سربراہ تھا فالج کی وجہ سے جس کی زبان بھی کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اور نہ ہی یہ کسی کاغذ پر دستخط کر سکتا تھا۔ اس کے بیانات اورہر طرح کے احکامات پر دستخط اس کی امریکی سیکریٹری ہی جاری کرتی تھی۔ اس حالت میں اس نے امریکیوں کو پہلی بار پاکستان میں مداخلت کا موقعہ دیا۔ اور پشاور کے نزدیک بڈبھیر کا ہوائی اڈا امریکیوں کو دیا۔ اسی نے اسمبلیاں توڑ کر غلط رسم کا آگاز کیا، امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرا کو اچانک وزیر اعظم مقرر کر کے پورے ملک کو حیران کر دیا۔ یہی دور تھا جب پاکستان امریکی کالونی بنا۔

امریکی میں تعنات پاکستانی سفیر کو اچانک پاکستان کا تیسرا وزیراعظم محمد علی بوگرہ بنائے گئے تھے۔ جن کے دور میں پاکستان میں امریکیوں کو خصوصی مراعات حاصل ہوئیں۔ بوگرا صاحب بھی امریکی میں تعناےی کے دوران دامِ الفت کا شکار ہوئے۔ انکی دوسری بیوی عالیہ سدی لبنانی نژاد امریکی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

پاکستان کے ایک اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی بھی دام الفت کا شکار ہوئے۔ اُن کی دوسری اہلیہ کا تعلق روس سے تھا۔ وہ ماسکو آرٹ تھیٹر سے وابستہ ایک روسی اداکارہ تھیں۔ ان کا نام ویرا الیگزینڈرونا کالڈر تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ حسین شہید سہروردی کا پاکستان میں جاری روس امریکہ کشمکش کے دوران جھکاو روس کی جانب تھا۔

پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اہلیہ بیگم وقار النسا نون کا تعلق اسٹریا سے تھا۔ ان کا پیدائشی نام وکٹوریہ ریکھی تھا۔ ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان کی ملاقات وکٹوریہ سے ہوئی۔ جس کے بعد دونوں کی محبت کا آغاز ہوا جو شادی پر منتہج ہوئی۔ بعد ازاں وکٹوریہ اپنا مذہب اور نام ترک کر کے بیگم وقار النسا نون ہوگئیں۔ یہ خواتین کی آزاد خیالی کی حامی اولین تنظیم اپواء کے بانیوں میں شامل تھیں۔ پاکستان میں تعلیم کو سیکولر خطوط پر ڈھالنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

ہنی ٹریپ کا دوسرا شکار پاکستان کا آخری گورنر جنرل اور پہلا صدر سکندر مرزا تھا۔ جسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ معروف غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا۔ اس کی دوسری اہلیہ ناہید افغامی سے محبت اور شادی کو باقاعدہ ایرانی انٹیلیجنس کا کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اُس وقت کی ایرانی انٹیلیجنس امریکی سی آئی اے کا ایک ذیلی ادارہ سمجھی جاتی تھی۔ نائید افغامی پاکستان میں ایران کے ملٹری اتاشی کی بیوی کی حیثیت سے پاکستان آئیں۔ ایران کے ڈیفنس اتاشی کی اہلیہ کی حیثیت سے اُن کی ملاقات اُس وقت کےڈیفنس سیکرٹری میجر جنرل سکندر مرزا سے ہوئی۔ ملاقاتیں محبت میں بدل گئیں۔ پھر نائید نے اپنے ایرانی شوہر سے طلاق حاصل کر کے اسکندر مرزا سے شادی کر لی۔ میجر جنرل سکندر مرزا کے چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے بعد نائید ملک کے سیاہ اور سفید کی مالک بن گئیں۔ اس دور میں ایران اور امریکہ کے مفاد میں ہونے والے اقدامات کی تفصیل کے لیے ایک پوری کتاب درکار ہے۔

پاکستان کے دوسرے فوجی آمر آغا محمد یحیٰ خان کا کردار اتنا گھنونہ ہے کہ اُس پر بات کرت ہوئے گھن آتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یحیٰ خان کی داشتہ اقلیم اختر المعروف جنرل رانی بھی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایجنٹ تھی۔

ایرانی انٹیلیجنس کا دوسرا کارنامہ ذولفقار علی بھٹو کو دام الفت میں گرفتار کرنا قرار دیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری اہلیہ بیگم نصرت اصفحانی کا تعلق ایران کے شہر اصفحان سے تھا۔ وہ گریجویشن کے بعد پاکستان آئیں، جہاں کراچی میں اُن کی ملاقات بھٹو سے کرائی گئی۔ جو پہلے محبت اور پھر شادی کا باعث بنی۔ ذولفقار علی بھٹو کے کئی اقدامات کے پیچھے نصرت بھٹو کی وساطت سے ایرانی اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے ذولفقار علی بھٹو کی اقتدار سے برطرفی کے بعد میں سزائے موت کے بعد ان کا خاندان افغانستان اور پھر شام منتقل ہوا۔ دونوں ممالک اُس وقت ایران کے زیر اثر تھے۔ خاندان کے باقی افراد بعد ازاں مغربی ممالک چلے گئے لیکن دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں پاکستان کو مطلوب میر مرتضیٰ بھٹو شام میں ہی مقیم رہے۔ جن کی اہلیہ غنویٰ بھٹو کا تعلق بھی شام سے ہے۔