ہفتہ، 26 مئی، 2018

جیالے کا قومہ اور قائد کی تبدیلی

ایک جیالہ کومے میں چلا گیا ۔ کئی  سال بعد اسے ہوش آیااور سیدھے اپنے پیپلز پارٹی  کے محبوب لیڈر کے پیچھے پیچھے   جلسے میں چلا گیا ۔ پارٹی میں سٹیج سیکریٹری نے وکٹ سمجھ کر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ڈائس پر بلا لیا سب سے پہلے اس نے جئے بھٹو کا نعرہ لگایااور کہنے لگا ۔
بھائیو اتنا عرصہ کومے میں رہا اور جب ہوش آیا تو پہلا خیال آیا کہ شاید میری پارٹی ختم ہو چکی ہو گی ۔ لیکن آج یہاں دیکھ کر دلی اطمینان ہواپارٹی کو کچھ نہیں ہوا اور سارے لیڈر بھی زندہ ہیں ہمارے محترم لیڈر شاہ محمود قریشی بھی تشریف فرما ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان بھی راجہ ریاض بھی اور بابر اعوان بھی فواد چوہدری کو تو دیکھ کر دل بلیوں  اچھل رہا ہے  جیسے بلی کا ان کو دیکھ کر اچھلتا ہے۔ اور کشمیر سے ہمارے ہر دل عزیز جیالے بیرسٹر سلطان بھی تشریف فرما ہیں نذر گوندل صاحب بھی بیٹھے ہیں۔ بس بھائیو  دو باتیں دل میں چبھ سی رہی ہیں ایک جھنڈے سے کالا رنگ کدھر غائب ہو گیا ہے اور دوسرا ہمارے قائد زرداری صاحب کہیں نظر نہیں آ رہے میرے منہ میں خاک کہیں وہ ۔۔۔ جیے بھٹو ۔۔
اسٹیج سکریٹری نے اسے گھسیٹ کر پیچھے کیا اور کہا او احمق تیری پارٹی نے قائد بدل لیا ہےاب سب کےسب لوٹے ہو کر باجماعت عمران کے قافلہ میں حق اور سچ کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور یہ پیپلز پارٹی کا نہیں تحریک انصاف کا جلسہ ہے ۔۔
جیالہ یہ سن کر دوبارہ کومے میں چلا گیا ۔۔
ماخوز

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں